Column

ذخیرہ اندوزی، حکومتی غفلت اور آٹے کا بڑھتا بحران

ذخیرہ اندوزی، حکومتی غفلت اور آٹے کا بڑھتا بحران
تحریر: محمود مولوی
پاکستان میں مہنگائی پہلے ہی عوام کی قوتِ خرید کو بری طرح متاثر کر چکی ہے، مگر اب گندم اور آٹے کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عام آدمی کی زندگی مزید دشوار بنا دی ہے۔ حکومتی نگرانی کے فقدان، متعلقہ اداروں کی مجرمانہ خاموشی اور ذخیرہ اندوز مافیا کی بے لگام سرگرمیوں کے باعث مارکیٹ میں گندم اور آٹے کی قیمتیں مسلسل اوپر جا رہی ہیں۔ اس وقت مختلف شہروں میں گندم 118سے 120روپے فی کلو جبکہ آٹا 145سے 160روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔ یہ صورت حال صرف مہنگائی کا مسئلہ نہیں بلکہ غذائی تحفظ، معاشی استحکام اور سماجی امن کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے۔
گندم پاکستان کی بنیادی غذائی فصل ہے اور آٹا ہر گھر کی ضرورت ہے۔ جب اسی بنیادی ضرورت کی قیمت عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہونے لگے تو اس کے اثرات صرف دسترخوان تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورا معاشرہ اس سے متاثر ہوتا ہے۔ کم آمدنی والے طبقے، مزدور، دیہاڑی دار، پنشنرز اور متوسط گھرانے سب سے پہلے اس بحران کی زد میں آتے ہیں۔ پہلے ہی بجلی، گیس، پٹرول، تعلیم اور علاج کے اخراجات نے عوام کی کمر توڑ رکھی ہے، ایسے میں آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ لاکھوں خاندانوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل بنا رہا ہے۔
اس بحران کی سب سے بڑی وجہ صرف پیداوار میں کمی نہیں بلکہ بڑے پیمانے پر ہونے والی ذخیرہ اندوزی ہے۔ جب چند بااثر عناصر منافع کمانے کی غرض سے ہزاروں ٹن گندم گوداموں میں چھپا لیتے ہیں تو مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا ہو جاتی ہے۔ رسد کم ہونے کا تاثر ملتے ہی قیمتیں تیزی سے بڑھنے لگتی ہیں اور اس کا تمام بوجھ عام صارف پر منتقل ہو جاتا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ یہ سب کچھ متعلقہ اداروں کی نظروں کے سامنے ہوتا ہے، مگر موثر کارروائی دکھائی نہیں دیتی۔
ذخیرہ اندوزی درحقیقت ایک معاشی جرم ہے کیونکہ اس کے ذریعے عوام کی بنیادی ضرورت کو کاروباری مفاد کا ذریعہ بنایا جاتا ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں خوراک سے متعلق اشیائے ضروریہ کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف سخت قوانین موجود ہیں، مگر پاکستان میں اکثر ایسے عناصر وقتی کارروائیوں کے بعد دوبارہ سرگرم ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال کسی نہ کسی شکل میں آٹے، چینی، دالوں یا دیگر اشیائے ضروریہ کا بحران جنم لیتا رہتا ہے۔حکومتِ سندھ اور متعلقہ وفاقی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس مسئلے کو محض بازار کی معمول کی سرگرمی سمجھ کر نظر انداز نہ کریں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ذخیرہ اندوزوں کے خلاف فوری اور بلاامتیاز کریک ڈائون کیا جائے، گوداموں پر چھاپے مارے جائیں، غیر قانونی ذخائر ضبط کیے جائیں اور مصنوعی قلت پیدا کرنے والے عناصر کو سخت قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے۔ اس کے ساتھ ساتھ مارکیٹ کی مسلسل نگرانی، قیمتوں کی روزانہ بنیاد پر مانیٹرنگ اور ضلعی انتظامیہ کی مثر جواب دہی بھی یقینی بنائی جائے۔
اس بحران کے حل کے لیے صرف وقتی اقدامات کافی نہیں ہوں گے بلکہ ایک جامع پالیسی اختیار کرنا ہوگی۔ گندم کی خریداری، ذخیرہ، ترسیل اور فروخت کے پورے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر حکومت ڈیجیٹل نگرانی، شفاف اسٹاک رجسٹریشن اور سپلائی چین کی موثر مانیٹرنگ کا نظام قائم کرے تو ذخیرہ اندوزی کے امکانات کافی حد تک کم کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ کسانوں کو ان کی فصل کا مناسب معاوضہ دینا، درمیانی منافع خوروں کے کردار کو محدود کرنا اور سرکاری گوداموں کے نظام کو مضبوط بنانا بھی ناگزیر ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ جب حکومت کی رٹ کمزور پڑتی ہے تو مافیا مضبوط ہو جاتا ہے۔ ذخیرہ اندوز، ناجائز منافع خور اور مصنوعی قلت پیدا کرنے والے عناصر اسی وقت سرگرم ہوتے ہیں جب انہیں یقین ہو کہ ان کے خلاف موثر کارروائی نہیں ہوگی۔ اگر چند بڑے عناصر کے خلاف شفاف اور سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تو پورے بازار میں ایک واضح پیغام جائے گا کہ عوام کے معاشی استحصال کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمتیں صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ سماجی استحکام کا بھی امتحان ہیں۔ جب لوگوں کے لیے بنیادی خوراک کا حصول مشکل ہو جائے تو بے چینی، اضطراب اور عوامی ردعمل میں اضافہ ہونا ایک فطری امر ہے۔ ایسے حالات میں حکومت کی اولین ذمہ داری یہ ہے کہ وہ عوام کو ریلیف فراہم کرے، ذخیرہ اندوزی کا خاتمہ کرے اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے موثر، شفاف اور دیرپا اقدامات کرے۔
اگر آج بھی حکومت نے بروقت اور فیصلہ کن کارروائی نہ کی تو قیمتوں میں مزید اضافہ ناگزیر ہوگا، جس کے نتیجے میں غذائی بحران شدت اختیار کر سکتا ہے، غربت میں اضافہ ہوگا اور عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد مزید کمزور پڑے گا۔ اس لیے وقت کا تقاضا یہی ہے کہ حکومتِ سندھ اور وفاقی حکومت سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر ذخیرہ اندوزی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ عوام کو سستی اور معیاری خوراک کی فراہمی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے، اور اس ذمہ داری سے غفلت کسی بھی صورت ملک و قوم کے مفاد میں نہیں۔

جواب دیں

Back to top button