Column

عصمت صدیقی، دنیا سے ہجرت کا چوتھا برس

محمد ایوب ( ترجمان عافیہ موومنٹ، پاکستان )
محترمہ عصمت جہاں صدیقی اپنی بے گناہ بیٹی ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کا انتہائی صبر، حوصلہ اور استقامت کے ساتھ بیس برس تک انتظار کرنے کے بعد 2جولائی، 2022ء کو دنیائے فانی سے ہجرت کرکے اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں۔ ابوہریرہؓ اور حذیفہ بن یمان کی بہن فاطمہؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمؐ سے سوال کیا گیا کہ مصیبتیں کس پر زیادہ آتی ہیں؟ تو آپؐ نے فرمایا: ’’ انبیاء و رسل پر، پھر جو ان کے بعد مرتبہ میں ہیں، پھر جو ان کے بعد میں ہوں‘‘۔
انہوں نے مصیبتوں پر جس طرح صبر کا مظاہرہ کیا، یہ ان کی زندگی کی ایک بڑی کامیابی تھی۔ اپنی وفات سے تھوڑا عرصہ ہی قبل، انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہہ دیا تھا کہ ’’ دیکھو اگر میں مر جائوں اور عافیہ سے نہ مل سکوں، تو افسوس مت کرنا‘‘۔ ان ہی دنوں میں جب انہیں سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی شدید علالت کی خبر ملی تھی تو اس وقت انہوں نے اپنی بڑی بیٹی ڈاکٹر فوزیہ صدیقی سے کہا تھا کہ ’’ دبئی جائو اور جنرل پرویز مشرف کو معاف کر دو‘‘۔ فطری طور پر انسان کو اپنی سب سے چھوٹی اولاد سے زیادہ پیار ہوتا ہے اسی وجہ سے وہ سب سے زیادہ لاڈلی بھی ہوتی ہے۔ ڈاکٹر عافیہ ان کی سب سے چھوٹی بیٹی تھی، کسے پتہ تھا کہ سب سے زیادہ آزمائشیں بھی اس ہی کے حصے میں آئیں گی!۔2003ء میں ڈاکٹر عافیہ کا اپنے تین کمسن بچوں سمیت اچانک لاپتہ ہوجانے کا صدمہ کچھ کم تو نہیں تھا۔ مستزاد یہ کہ انہیں پانچ سال تک جبری طور پر لاپتہ بھی رکھا گیا۔ 2008ء میں ڈاکٹر عافیہ کا اچانک افغانستان سے ظاہر ہونا، پھر انہیں امریکی فوجیوں پر حملے کے انتہائی بے ہودہ الزام میں امریکہ منتقل کیا جانا ، اور پھر امریکی عدالت میں یکطرفہ قانونی کاروائی کے بعد 86سال کی سزا کا فیصلہ، اور پھر اس دکھی ماں سے اس کی موت تک اپنی بے گناہ بیٹی سے ہر قسم کے رابطہ کی سہولت کا بھی چھین لیا جانا!!! یہ وہ پے درپے صدمات تھے جو کسی بھی انسان کے حوصلوں کو توڑنے کے لیے کافی ہیں۔ مگر انہوں نے یہ صدمات جس صبر، استقامت اور حوصلہ سے برداشت کئے وہ یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ ایک عام انسان نہیں تھیں کیونکہ ایک عام انسان کے لیے اس طرح کی آزمائشوں میں ثابت قدم رہنا تقریباََ ناممکن ہوتا ہے۔ انہوں نے کبھی پست ہمتی کا مظاہرہ نہیں کیا، کبھی ان کی زبان پرشکوہ، گلہ یا مایوسی بھرے الفاظ نہیں آئے، انہوں نے کبھی کسی کو بددعا بھی نہیں دی۔ ہاں مگر وہ کہتی تھیں کہ قرآن مجھے حوصلہ دیتا ہے، شاید اسی لیے انہوں نے گھر بھر کی دیواروں پر منتخب قرآنی آیات کے طغریات آویزاں کر رکھے تھے۔ قرآنی آیات ترجمہ کے ساتھ، اور کہیں مختصر تفسیر بھی ان طغریات پر درج ہیں ، جو آج بھی ان کے گھرکی دیواروں پر موجود ہیں۔ ایک طغرے پر یہ آیت جو اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت کی امید دلاتی ہے، درج ہے، ترجمہ : ’’ مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور کیا نیک کام تو بدل دے گا اللہ انہیں برائیوں یعنی گناہوں کی جگہ بھلائیاں ( نیکیاں)، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے‘‘۔ ایک اور طغرے پر سورہ محمد کی یہ آیت: ترجمہ: ’’ کیا یہ لوگ قرآن میں تدبر نہیں کرتے یا دلوں پر قُفل ( تالے) لگ رہے ہیں‘‘۔ ایک اور طغرے پر یہ آیت ہے، ترجمہ: ’’ اے ایمان والوں ایسی بات کیوں کرتے ہو جو کرتے نہیں ہو‘‘۔
ڈاکٹر عافیہ کی والدہ کو ایک جانب قرآن کریم سے دلی لگائو تھا تو دوسری جانب ان کا دل حُبِّ رسولؐ سے بھی منور تھا۔ ان کے کمرے کا رنگ، گنبد خضراء کی نسبت سے سبز تھا۔ انہوں نے اپنے کمرے میں جو طغریات آویزاں کر رکھے تھے ان میں نبی مکرمؐ سے محبت و عقیدت کے اظہار کے لیے علامہ اقبالؒ کی مشہور زمانہ نظم جواب شکوہ کا زبان زد عام شعر ’’ کی محمد سے وفا تو نے، تو ہم تیرے ہیں۔۔۔ یہ جہاں چیز ہے ، کیا لوح و قلم تیرے ہیں‘‘۔ انہوں نے سابق صدر جنرل ضیاء الحق کے دورِ حکومت میں اسلام آباد میں منعقدہ سیرت النبی کانفرنس کے ایک مقابلے میں مقالہ لکھا تھا، جس پر انہوں نے اوّل انعام حاصل کیا تھا۔ ان کی بڑی صاحبزادی ڈاکٹر فوزیہ صدیقی جو کہ اپنی ہمشیرہ اور قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے گزشتہ 23سال سے ملکی اور عالمی سطح پر اس طرح مہم چلا رہی ہیں کہ ان کی سختی سے ہدایت ہے کہ تہذیب کا دامن کسی طور چھوٹنے نہ پائے، ملک اور کسی ریاستی ادارے کا وقار مجروح نہ ہو، نے اپنی والدہ مرحومہ کے کمرے کو ان کی وفات سے لے کر آج تک جوں کا توں رکھا ہوا ہے، شاید ان کی خواہش ہے کہ ان کی بہن ڈاکٹر عافیہ جب رہائی پاکر وطن واپس لوٹے تو اپنی مرحومہ امی کے کمرے کو ویسا ہی پائے جیسا کہ اس نے اپنے اغوا سے قبل چھوڑا تھا ۔ عصمت صدیقی نے اپنے بچوں کی بہترین تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ 80ء اور 90ء کی دہائی میں بھرپور سوشل لائف بھی گزاری تھی۔ سابق صدر اور پاکستان کے پہلے فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے دور سے بے نظیربھٹو اور نواز شریف کے دور تک انہیں اقتدار کے ایوانوں تک رسائی حاصل رہتی تھی۔ چونکہ وہ خوشامد پسند نہیں تھیں اسی لیے کسی کی خوشامد بھی نہیں کرتی تھیں۔ اس لیے اقتدار کے ایوانوں تک ان کی رسائی صرف اور صرف پاکستان کے وقار و ترقی میں اضافہ اور عوام کی فلاح و بہبود اور خوشحالی کے لیے ہوتی تھی۔ انہوں نے جنرل ضیاء الحق اور رفیق تارڑ کے ادوار میں زکوٰۃ و عشر کی ذمہ داریاں بھی سنبھالی تھیں۔ 1986ء میں شہید بے نظیر بھٹو کی پہلی جلاوطنی کے بعد پاکستان آمد پر انہوں نے اخبارات کے لیے ایک کالم لکھا تھا، انہوں نے جس کا عنوان ’’ بے نظیر خوش آمدید بغیر خوشامد ‘‘ رکھا تھا۔ مجھے2011ء سے اس اعلیٰ تعلیم یافتہ اور مہذب گھرانے کے ساتھ وابستگی کی سعادت حاصل ہے ۔ اس لیے میں اس گھرانے کی حب الوطنی، انسانیت، انصاف و علم دوستی اور مخلوق خدا سے محبت اور ہمدردی کا عینی شاہد بھی ہوں۔ طویل عرصہ کی رفاقت میں، میں نے ڈاکٹر عافیہ کی والدہ صاحبہ کو صرف دو معاملات میں انتہائی حسرت سے آہیں بھرتے ہوئے دیکھا ہے، اور وہ یہ بات باربار دہرایا بھی کرتی تھیں۔ پہلی یہ کہ روز محشر یہ حکمران اللہ کی بارگاہ میں کیا جواب دیں گے ( اشارہ حکمرانوں کی بے حسی اور وعدوں کی طرف ہوتا تھا)، پھر وہ قرآن پاک کی اس آیت کی تلاوت کیا کرتی تھیں کہ ’’ اے ایمان والو! ایسی بات کیوں کرتے ہو جو کرتے نہیں ہو‘‘۔ اور دوسری بات جو وہ بڑی حسرت سے کہا کرتی تھیں کہ میں نے عافیہ کو بڑی محنت سے تیار کیا تھا مگر انہوں نے ( حکمرانوں اور ریاستی حکام) نے اس کی قدر نہیں کی۔ یہاں ان کا اشارہ عافیہ کے ماہر تعلیم ہونے اور پاکستانی قوم کو تعلیم یافتہ بنانے کے اس کے خواب کی طرف ہوتا تھا۔ ڈاکٹر عافیہ نے تعلیم کے شعبہ میں ’’ پی ایچ ڈی‘‘ کی ڈگری حاصل کی ہوئی ہے۔ وہ ایک ایسا ایجوکیشن سٹی بسانا چاہتی تھیں ، جہاں وہ اپنی صلاحیتوں کو بچوں میں سیکھنے کے عمل کو بڑھاوا دینے کے لئے استعمال کرنا چاہتی تھیں تاکہ ملک کا ہر بچہ اپنی دلچسپی کے شعبے میں ماہر کی حیثیت سے عملی زندگی کا آغاز کر سکے۔
عصمت صدیقی مرحومہ کی غیرمطبوعہ سوانح حیات سے ڈاکٹر عافیہ کے بارے میں ایک اقتباس پیش کر رہا ہوں تاکہ ہمیں اپنے ہونے والے نقصان کا کچھ اندازہ ہی ہو سکے۔ ڈاکٹر عافیہ کی والدہ بیان کرتی ہیں کہ: ایک بار کراچی میں ہم کہیں جا رہے تھے، ڈاکٹر صاحب ( عافیہ کے مرحوم والد ڈاکٹر صالح صدیقی) گاڑی چلا رہے تھے اور میں ان کے ساتھ آگے بیٹھی تھی کہ اچانک پچھلی سیٹ پر بیٹھی عافیہ کی رونے کی آواز آئی اور پھر وہ سسکیاں بھرنے لگی۔ ڈاکٹر صاحب نے پوچھا کہ بیٹا کیا ہوا ہے۔ عافیہ بولی کہ امی ابو آپ لوگوں کو تو کچھ نظر ہی نہیں آتا۔ کیا آپ کو میرے ملک کے یہ غریب بچے نظر نہیں آتے جو کچرا کنڈیوں کے آس پاس کچرا چن رہے ہیں اور اسی میں پھینکی گئی چیزیں اٹھا اٹھا کر کھارہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے بڑی مشکل سے عافیہ کو چپ کرایا اور کہا کہ بیٹا ہم تمہیں اسی لیے تو تعلیم دلوا رہے ہیں تاکہ تم پڑھ لکھ کر اور بڑے ہو کر ان کے لیے کچھ کرو، جب تک تم خود کچھ نہ بنو گی تو آپ کی آواز کوئی نہیں سنے گا ۔ عافیہ نے اسی وقت یہ عہد کر لیا کہ وہ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے بعد سب سے پہلے اپنے ملک کی نسل نو کی حالت کو سدھارے گی۔
اللہ رب العزت سے دعا کریں کہ عصمت صدیقی کی مغفرت فرمائے، انہوں نے دو دہائیوں تک اپنی بے گناہ بیٹی کی جدائی کا غم جس صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کیا اس کا اجر درجات کی بلندی اور جنت الفردوس میں اعلیٰ و ارفع مقام کی صورت میں عطا فرمائے۔ اور ساتھ ہی ایک دعا وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے لیے بھی کریں کہ اللہ تعالیٰ انہیں بھی توفیق عطا فرمائے کہ وہ ڈاکٹر عافیہ کی حفاظت ، رہائی اور وطن واپس لانے کی اپنی آئینی اور اخلاقی ذمہ داریوں کو ادا کریں۔

جواب دیں

Back to top button