Column

دیہات کی محرومی، شہروں کا بوجھ

دیہات کی محرومی، شہروں کا بوجھ
تحریر: رفیع صحرائی
کسی بھی ملک کی متوازن ترقی کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ ترقی کے ثمرات شہروں تک محدود نہ رہیں بلکہ دیہات اور دور دراز علاقوں تک بھی یکساں طور پر پہنچیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں گزشتہ کئی دہائیوں سے ترقی کا رخ زیادہ تر بڑے شہروں کی جانب رہا ہے جبکہ دیہی علاقوں کو بنیادی سہولیات سے محروم چھوڑ دیا گیا۔ نتیجتاً دیہات سے شہروں کی طرف نقل مکانی ایک سماجی ضرورت سے بڑھ کر مجبوری بن چکی ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف دیہات اپنی افرادی قوت سے محروم ہو جائیں گے بلکہ شہر بھی آبادی، بے روزگاری، جرائم اور بنیادی سہولیات کے شدید بحران کا شکار ہوتے جائیں گے۔
پاکستان کی تقریباً نصف سے زیادہ آبادی دیہی علاقوں میں آباد ہے، لیکن تعلیم، صحت، روزگار، مواصلات، پینے کے صاف پانی، نکاسی آب اور دیگر بنیادی سہولیات کے حوالے سے دیہات آج بھی شدید محرومی کا شکار ہیں۔ یہی محرومی لوگوں کو اپنے آبائی علاقوں کو چھوڑ کر شہروں کا رخ کرنے پر مجبور کرتی ہے کہ شہروں میں سہولیات کی صورتِ حال دیہات کی نسبت بہت بہتر ہوتی ہے۔
تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے، مگر افسوس کہ آج بھی پاکستان کے بے شمار دیہات ایسے ہیں جہاں معیاری پرائمری سکول تک موجود نہیں۔ اب پنجاب میں تو تیزی کے ساتھ سرکاری سکولوں کو ٹھیکے پر دینے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے جن میں میٹرک پاس ان ٹرینڈ ٹیچرز آنے والی نسلوں کو تعلیم یافتہ بنانے پر مامور کیے جا رہے ہیں۔ اس عمل کا نتیجہ کیا نکلے گا یہ سب کو معلوم ہے۔ جن دیہات میں سرکاری سکول ابھی تک موجود ہیں ان میں اساتذہ سے صرف پڑھانے کا کام نہیں لیا جاتا۔ وہ بچوں کو پڑھانے کے ساتھ ساتھ غیر تدریسی سرکاری ذمہ داریاں بھی نبھاتے ہیں۔ مردم شماری، انتخابی ڈیوٹیاں، انسدادِ ڈینگی مہم اور دیگر انتظامی کام اساتذہ کی اصل ذمہ داری، یعنی تدریس، کو بری طرح متاثر کرتے ہیں۔ نتیجتاً دیہی طلبہ اعلیٰ تعلیم کے مواقع سے محروم رہ جاتے ہیں اور بہتر مستقبل کی تلاش میں شہروں کی جانب نقل مکانی کرتے ہیں
صحت کا شعبہ بھی دیہی علاقوں کی ایک بڑی محرومی ہے۔ بنیادی مراکزِ صحت اکثر ڈاکٹر، ادویات، لیبارٹری اور جدید طبی سہولیات سے محروم ہوتے ہیں۔ معمولی بیماری بھی سنگین صورت اختیار کر لیتی ہے کیونکہ مریض کو شہر پہنچانے میں قیمتی وقت ضائع ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات راستے ہی میں مریض زندگی کی بازی ہار جاتا ہے۔ ایسے حالات میں دیہی خاندان اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے شہروں میں منتقل ہونے کو ترجیح دیتے ہیں۔
دیہی سڑکوں اور آمدورفت کی خستہ حالی بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، ناکافی پبلک ٹرانسپورٹ اور سفری مشکلات نہ صرف روزمرہ زندگی کو متاثر کرتی ہیں بلکہ تجارت، زراعت، تعلیم اور صحت کے شعبوں کو بھی نقصان پہنچاتی ہیں۔ جب ایک گھنٹے کا سفر کئی گھنٹوں میں طے ہو تو ترقی کا سفر بھی سست پڑ جاتا ہے۔
روزگار کے محدود مواقع نقل مکانی کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔ زراعت اب پہلے جیسی منافع بخش نہیں رہی۔ چھوٹے کسان بڑھتی پیداواری لاگت، پانی کی قلت، مہنگی کھاد، مہنگی بجلی، ناقص بیج اور غیر یقینی منڈیوں کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔ دیہی صنعتیں تقریباً ختم ہو چکی ہیں جبکہ نئی صنعتوں اور کاروباری مواقع کا رخ بھی بڑے شہروں کی طرف ہے۔ نوجوان جب اپنے گاں میں باعزت روزگار نہیں پاتے تو وہ شہروں میں قسمت آزمانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
اس کے علاوہ بعض دیہی علاقوں میں جاگیردارانہ اثر و رسوخ، بااثر افراد کی اجارہ داری، قانون نافذ کرنے والے کمزور ادارے اور انصاف تک محدود رسائی بھی لوگوں کو اپنے علاقے چھوڑنے پر مجبور کرتی ہے۔ جب کسی شخص کو اپنی جان، مال اور عزت محفوظ محسوس نہ ہو تو نقل مکانی اس کی مجبوری بن جاتی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ شہروں میں آ کر بھی ان کے مسائل ختم نہیں ہوتے بلکہ نئی مشکلات جنم لیتی ہیں۔ بڑھتی ہوئی آبادی نے شہری انفرا سٹرکچر کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کا غیر معمولی رش، تعلیمی اداروں میں بڑھتا ہوا میرٹ، ٹریفک جام، رہائش کا بحران، صاف پانی کی قلت، آلودگی، مہنگائی اور بے روزگاری جیسے مسائل شہروں میں مسلسل شدت اختیار کر رہے ہیں۔
شہروں میں بے ہنگم آبادی نے سٹریٹ کرائم، ڈکیتی، چوری اور دیگر جرائم میں بھی اضافہ کیا ہے۔ اگرچہ جرائم کی بنیادی وجوہات صرف نقل مکانی نہیں بلکہ غربت، بے روزگاری، ناقص منصوبہ بندی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کمزور کارکردگی بھی ہیں، تاہم غیر منصوبہ بند شہری آبادی ان مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔
ایک اور تشویشناک پہلو زرعی زمینوں کا تیزی سے رہائشی کالونیوں میں تبدیل ہونا ہے۔ بڑے شہروں کے گرد موجود زرخیز زمینیں کنکریٹ کے جنگل بنتی جا رہی ہیں، جس سے نہ صرف زرعی پیداوار متاثر ہو رہی ہے بلکہ مستقبل میں غذائی تحفظ بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے دیہی ترقی کو قومی ترقی کا بنیادی ستون بنایا ہے۔ وہاں جدید سکول، معیاری ہسپتال، تیز رفتار سڑکیں، انٹرنیٹ، صنعتی زون اور روزگار کے مواقع دیہات تک فراہم کیے گئے، جس کے نتیجے میں شہروں پر غیر ضروری آبادی کا دبائو کم ہوا۔ پاکستان بھی اگر متوازن ترقی چاہتا ہے تو اسے اس ماڈل سے سبق سیکھنا ہوگا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت دیہی علاقوں میں معیاری تعلیمی ادارے، جدید طبی مراکز، محفوظ سڑکیں، صاف پانی، تیز رفتار انٹرنیٹ، زرعی اصلاحات، چھوٹی صنعتیں اور ہنر مندی کے مراکز قائم کرے۔ نئی صنعتوں اور سرمایہ کاری کو صرف بڑے شہروں تک محدود رکھنے کے بجاءے تحصیلوں اور قصبوں کا رخ دیا جائے تاکہ روزگار لوگوں کے گھروں کے قریب پیدا ہو۔
اسی طرح مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے تاکہ دیہی مسائل مقامی سطح پر حل ہو سکیں۔ زرعی شعبے کو جدید ٹیکنالوجی، آسان قرضوں، بہتر مارکیٹنگ اور ویلیو ایڈیشن کے ذریعے مضبوط بنایا جائے تاکہ کسان اپنے آبائی علاقوں میں باعزت روزگار حاصل کر سکیں۔
حقیقت یہ ہے کہ دیہات کی ترقی ہی شہروں کی بقا کی ضمانت ہے۔ اگر دیہات کو بنیادی سہولیات، تعلیم، صحت، روزگار اور انصاف فراہم کر دیا جائے تو نقل مکانی کی رفتار خود بخود کم ہو جائے گی۔ بصورتِ دیگر شہروں پر بڑھتا ہوا دبا مستقبل میں ایسے مسائل کو جنم دے سکتا ہے جن پر قابو پانا حکومتوں کے لیے بھی ممکن نہیں رہے گا۔ ایک مضبوط، خوشحال اور متوازن پاکستان کا راستہ لاہور، کراچی اور اسلام آباد سے نہیں بلکہ ان ہزاروں دیہات سے ہو کر گزرتا ہے جہاں آج بھی ترقی کے چراغ جلنے کے منتظر ہیں۔

 

.

جواب دیں

Back to top button