CM RizwanColumn

بھوکے پیٹ شان و شوکت چہ معنی

جگائے گا کون؟
بھوکے پیٹ شان و شوکت چہ معنی
تحریر: سی ایم رضوان
یہ ٹھیک ہے کہ ہم نے خاص طور پر ہمارے فیلڈ مارشل نے متوقع عالمی جنگ کے پیش منظر یعنی ایران امریکہ جنگ میں ثالثی کے ذریعے امن ڈیل کروا کر عالمی سطح پر پاکستان کے لئے شان و شوکت کا ناقابل تردید اعزاز حاصل کر لیا ہے لیکن ہمارے اکثریتی عوام کی معاشی حالت تو بہت پتلی ہے۔ وہ بھوکے پیٹ کے ساتھ اس شان و شوکت کو بھلا کس حد تک انجوائے کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملکی معیشت کی موجودہ حالت پر اس وقت عوامی اور معاشی حلقوں میں تشویشناک بحث جاری ہے لہٰذا اب اس قومی چیلنج کے پیش نظر پاکستانی معیشت کو اولین ترجیح دینے میں ہی پاکستانی قیادت کی عافیت پنہاں ہے۔ جدید دور میں معیشت اور قومی سلامتی ایک دوسرے سے الگ الگ نہیں دیکھے جا سکتے ہیں۔ جب تک کوئی ملک معاشی طور پر مستحکم نہیں ہو جاتا، اس کی سفارتی کامیابیوں کے اثرات پائیدار نہیں رہ سکتے۔ اس نقطہ نظر کے مطابق، بیرونی قرضوں پر انحصار، مہنگائی، اور گرتے ہوئے معاشی اعشاریے اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ سیاسی اور عسکری دونوں قیادتیں اپنی تمام تر توانائیاں اور پالیسیاں معاشی اصلاحات، سرمایہ کاری کے تحفظ اور مقامی صنعتوں کی بحالی پر مرکوز کریں۔ اب معیشت کو مزید نظر انداز کرنا بہت بڑا تاریخی، سٹریٹجک نقصان ہو گا۔ قیادت کے حامیوں کا استدلال یکطرفہ ہے کہ جو سفارتی کامیابیاں یا علاقائی ثالثی کے کردار سامنے آتے ہیں، ان کا ایک بڑا مقصد ملک کے لئے معاشی مواقع پیدا کرنا ہے۔ خلیجی ممالک، چین یا دیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کو بیلنس رکھنا دراصل بیرونی سرمایہ کاری ( جیسے ایس آئی ایف سی کے ذریعے کوششیں) اور مالیاتی پیکجز کے حصول کے لئے ہی استعمال کیا جانا ہے۔ لیکن عوامی سطح پر جب روزمرہ زندگی ٹیکسوں کے بوجھ اور پٹرول و بجلی کی قیمتوں کی وجہ سے شدید متاثر ہو تو یہ تاثر گہرا ہو جاتا ہے کہ قیادت کی ترجیحات درست نہیں لہٰذا اگر اب بھی تمام اسٹیک ہولڈرز ( سیاسی جماعتیں اور اسٹیبلشمنٹ) ایک پیج پر آ کر طویل مدتی ’’ میثاقِ معیشت‘‘ پر عمل نہیں کرتے، تو اسے آنے والی نسلوں کے ساتھ ایک بڑی کوتاہی اور ظلم شمار کیا جائے گا۔ صرف سفارتی محاذ پر سرخرو ہونا کافی نہیں۔ پاکستان کو درپیش معاشی بحران اس بات کا متقاضی ہے کہ معیشت کو ہی سب سے بڑی قومی ترجیح بنایا جائے۔ اگر داخلی معیشت مضبوط نہیں ہو گی تو عالمی برادری میں ملک کا سیاسی اور سفارتی وزن بھی بتدریج کم ہو سکتا ہے۔ اس لئے سیاسی اور عسکری دونوں قیادتوں پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سکیورٹی، سفارت اور معیشت کے درمیان ایک پائیدار توازن قائم کریں کیونکہ معیشت کو دستاویزی شکل دینے اور بنیادی اصلاحات نافذ کرنے میں اس وقت سب سے بڑی رکاوٹ مربوط معاشی پالیسیوں کا فقدان ہے۔
آج ایران امریکہ امن ڈیل، جزوی پابندیوں کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کی مکمل کشادگی بلاشبہ 2026ء کے عالمی منظر نامے کی سب سے بڑی جیو اکنامک اور جیو پولیٹیکل تبدیلیوں میں سے ایک ہے۔ اس تاریخی پیش رفت کے پہلے ہی روز ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا پاکستان کا دورہ کرنا محض ایک رسمی اتفاق نہیں، بلکہ یہ ایک انتہائی گہرا اور کثیر الجہتی اشارہ ہے۔
یہ دورہ اسٹریٹجک بھی ہے اور کاروباری و سفارتی تشکر کا اظہار بھی۔ پابندیوں کے خاتمے اور تیل کی عالمی منڈی میں بلا رکاوٹ سپلائی بحال ہونے کے بعد ایران کو اب فوری طور پر اپنی معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے نئی اور قریبی منڈیوں کی ضرورت ہے۔ ایرانی صدر کے فوری طور پر پاکستان کے اس دورے کا سب سے پہلا اور بڑا کاروباری مقصد تعطل کا شکار پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کو فوری طور پر بحال کرنا بھی ہو سکتا ہے۔ امریکی پابندیاں ختم ہونے کے بعد اب پاکستان کے لئے بھی اس منصوبے پر آگے بڑھنا آسان ہو گیا ہے،
اس بدلے ہوئے منظر نامے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان اپنے لئے سستی توانائی کا حصول ممکن بنا سکتا ہے۔ پاکستان کا سب سے بڑا معاشی مسئلہ مہنگی بجلی اور گیس ہے، جس کی وجہ سے ہماری انڈسٹری مقابلے کی دوڑ سے باہر ہو رہی ہے۔ پاکستان پاکٹ ایران گیس پائپ لائن منصوبے کو ہنگامی بنیادوں پر مکمل کر سکتا ہے۔ ایران سے آنے والی سستی گیس پاکستان کے پاور سیکٹر اور انڈسٹری کو سستی توانائی فراہم کرے گی، جس سے اربوں ڈالر کے تیل کے درآمدی بل میں کمی آئے گی۔ پاکستان پہلے ہی مکران اور گوادر کے ساحلی علاقوں کے لئے ایران سے محدود بجلی خرید رہا ہے۔ اس سپلائی کو بڑھا کر پورے بلوچستان اور کراچی کے صنعتی علاقوں تک پھیلایا جا سکتا ہے۔ نیز پاکستان کو ہمیشہ ڈالرز کی کمی کا سامنا رہتا ہے۔ ایران کے ساتھ تجارت بڑھانے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہو سکتا ہے کہ دونوں ممالک بارٹر سسٹم ( چیز کے بدلے چیز) یا اپنی مقامی کرنسیوں ( روپیہ اور ریال) میں تجارت کر سکتے ہیں۔ پاکستان ایران کو چاول، گوشت، کنو ( مالٹے)، سرجیکل آلات اور ٹیکسٹائل مصنوعات برآمد کر سکتا ہے اور بدلے میں ایل پی جی، پیٹرو کیمیکلز اور سستا تیل لے سکتا ہے، جس سے پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر پر دبا بالکل ختم ہو جائے گا۔ ایران پیٹرو کیمیکلز، فرٹیلائزرز ( کھاد) اور لوہے کی پیداوار میں بہت آگے ہے۔ پاکستان کی زراعت کے لئے سستی ایرانی کھاد اور ہماری کنسٹرکشن انڈسٹری کے لئے سستا لوہا اور سیمنٹ کیمیکلز سرحد پار سے انتہائی کم ٹرانسپورٹیشن لاگت پر دستیاب ہو سکتے ہیں، جس سے پاکستان میں پیداواری لاگت کم ہو گی۔ ماضی میں گوادر ( سی پیک) اور چابہار ( ایرانی بندرگاہ ) کو ایک دوسرے کا حریف سمجھا جاتا رہا ہے۔ لیکن ایک آزاد ایران کے ساتھ۔ ان دونوں بندرگاہوں کو ریل اور روڈ کے ذریعے جوڑ کر جڑواں بندرگاہیں بنایا جا سکتا ہے۔ اس سے چین، وسطی ایشیا اور روس کے لئے ایک بہت بڑا تجارتی نیٹ ورک کھل جائے گا، اور پاکستان اس پورے نیٹ ورک کا ٹرانزٹ ہب بن کر اربوں ڈالر ٹرانزٹ فیس کی مد میں کما سکے گا۔ پاک ایران سرحد پر اسمگلنگ ( بالخصوص ایرانی پٹرول کی) ایک بڑا غیر رسمی نیٹ ورک بن چکی ہے، جس سے حکومت کو ٹیکس نہیں ملتا۔ ایک آزاد ایران کے ساتھ سرحد پر باقاعدہ فری ٹریڈ زونز اور قانونی بارڈر مارکیٹس قائم کر کے اس تجارت کو دستاویزی شکل دی جا سکتی ہے پاکستان کی موجودہ سیاسی قیادت اور بیوروکریسی کو عالمی دبائو کو بالائے طاق رکھ کر ایران کے ساتھ اس معاشی موقع سے فائدہ اٹھانے کے لئے ذہنی طور پر تیار ہونا چاہئے۔ ان حالات میں اگر پاکستان کی سیاسی قیادت اور بیورو کریسی کی ذہنی تیاری کا جائزہ لیا جائے، تو یہ معاملہ ’’ خواہش‘‘ اور ’’ صلاحیت‘‘ کے درمیان ایک گہرے تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔ موجودہ تناظر میں دیکھا جائے تو مقتدرہ، سیاستدان اور بیورو کریسی ایران کے ساتھ معاشی فائدہ اٹھانے کی خواہش تو ضرور رکھتے ہیں، لیکن عالمی دبائو کو بالائے طاق رکھنے کے لئے ذہنی اور عملی طور پر اس طرح تیار نہیں جیسے کسی آزاد معیشت کو ہونا چاہیے۔ اس ہچکچاہٹ اور تیاری کی کمی کے پیچھے چند اہم اور تلخ حقائق ہیں کیونکہ پاکستان اس وقت تاریخ کے مشکل ترین معاشی دور سے گزر رہا ہے، جہاں ہماری معیشت کا سارا دارومدار آئی ایم ایف کے پروگراموں، ورلڈ بینک کی امداد اور مغربی دوست ممالک کے مالیاتی تعاون پر ہے۔ اگرچہ ایران امریکہ ڈیل کے بعد جزوی پابندیاں ہٹ چکی ہیں، لیکن امریکی فنانشل سسٹم ( ڈالر کا نظام) اور واشنگٹن کا سفارتی اثر و رسوخ اب بھی برقرار ہے۔ ہماری بیورو کریسی کا مائنڈ سیٹ محتاط ہے، وہ کوئی ایسا جارحانہ قدم اٹھانے سے کتراتی ہے جس سے آئی ایم ایف یا مغربی مالیاتی ادارے ناراض ہوں، کیونکہ ان کی ناراضی کا مطلب پاکستان کا فوری ڈیفالٹ ہو سکتا ہے۔ پاکستان کی قیادت ہمیشہ سے ایران اور سعودی عرب ( خلیجی ممالک) کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی پالیسی پر چلتی آئی ہے۔ حال ہی میں خلیجی ممالک ( سعودی عرب اور یو اے ای) نے پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدے کیے ہیں۔ پاکستانی بیورو کریسی اور قیادت کے ذہن میں یہ خدشہ رہتا ہے کہ ایران کی طرف بہت زیادہ جھکائو یا اس کے ساتھ بڑے تزویراتی معاہدے کہیں خلیجی دوستوں کو ناراض نہ کر دیں، جو کہ پاکستان کے نقد مالیاتی ذخائر کا ایک بڑا ذریعہ ہیں۔ پاکستانی بیورو کریسی طویل مدتی سٹریٹجک منصوبوں کے بجائے روزمرہ کے بحرانوں کو سنبھالنے کی عادی ہو چکی ہے۔ پاک ایران گیس پائپ لائن جیسے منصوبوں پر دہائیوں سے کام نہ ہونا اور جرمانے کے خوف کے باوجود پیش رفت نہ کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ بیورو کریسی دبائو کے سامنے جلدی ہتھیار ڈال دیتی ہے اور متبادل راستے ( جیسے بارٹر ٹریڈ کا مضبوط نظام یا لوکل کرنسی میکانزم) بنانے میں سستی کا مظاہرہ کرتی ہے۔ تاہم، ایسا بھی نہیں ہے کہ بالکل مایوسی ہو۔ حالیہ کچھ عرصے میں چند تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں۔ پاکستان کی عسکری قیادت اب جیو پولیٹکس سے زیادہ جیو اکنامکس ( معاشی جیو۔ اسٹریٹجی) پر زور دے تو ملک سے معاشی بدحالی کا خاتمہ ممکن ہے۔ ملکی سلامتی اب معیشت کی بحالی سے جڑی ہے۔ پاکستان میں توانائی کا بحران اس حد تک سنگین ہو چکا ہے کہ اب قیادت کے پاس کوئی دوسرا سستا آپشن نہیں بچا ۔ ایرانی صدر کا دورہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ اب پاکستان پسِ پردہ امریکی لابی کو یہ باور کرانے کی پوزیشن میں آ رہا ہے کہ ہماری معاشی بقا اس ڈیل سے جڑی ہے۔ پاکستانی قیادت اور بیورو کریسی ایران کے ساتھ تجارت بڑھانا چاہتے ہیں، لیکن وہ کسی’’ بہادرانہ یا انقلابی‘‘ فیصلے کے موڈ میں نہیں، بلکہ وہ پھونک پھونک کر قدم رکھیں گے۔ حالانکہ پاکستان تبھی اس موقع سے پورا فائدہ اٹھا سکے گا جب وہ اپنی خارجہ پالیسی کو ڈالرز کی محتاجی سے آزاد کر کے خالصتاً قومی مفاد کی بنیاد پر استوار کرے گا۔ آج کی پاکستانی سفارتی شان و شوکت یہ تقاضا کرتی ہے کہ اس وقت لوہا گرم ہے اور ہتھوڑا بھی ہمارے ہاتھ میں ہے اس وقت چوٹ لگا کر کسی بھی صورت میں ملک کو معاشی طور پر بھی ناقابل شکست بنا دینے کی ضرورت ہے۔ ورنہ اب نہیں تو کبھی نہیں۔ اس وقت امریکہ، ایران، چین، سعودی عرب، عمان، قطر، چین اور روس سبھی پاکستان کے ساتھ ہر قسم کے تعاون کے لئے تیار ہیں۔ اب بھی اگر پاکستان کی معیشت نہ سدھری تو پھر بہت دیر ہو جائے گی۔

جواب دیں

Back to top button