کم تنخواہ کے بے شمار فوائد

کم تنخواہ کے بے شمار فوائد
تحریر: رفیع صحرائی
ہمارے ہاں ایک عجیب روایت ہے کہ لوگ ہر سال بجٹ آتے ہی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کا مطالبہ شروع کر دیتے ہیں۔ گویا حکومت کا کام صرف نوٹ چھاپ کر سرکاری ملازمین کی جیبوں میں ڈالنا رہ گیا ہو۔ حالانکہ دانش مند حکومتیں ہمیشہ دور اندیشی سے کام لیتی ہیں اور عوام کی فوری خوشی کے بجائے ان کے طویل المدتی مفادات کو ترجیح دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ بجٹ میں تنخواہوں اور پنشن میں ایسا اضافہ کیا گیا ہے جو خوردبین کے بغیر نظر نہیں آتا، حکومت چاہتی ہے کہ عوام اس بجٹ کے حقیقی فوائد سے بھرپور استفادہ کر سکیں۔
کم تنخواہ کا سب سے بڑا فائدہ صحت ہے۔ جب جیب اجازت نہ دے تو بندہ موٹر سائیکل کم اور اپنے پاؤں زیادہ استعمال کرتا ہے۔ یوں روزانہ کئی کئی کلومیٹر واک مفت میں ہو جاتی ہے۔ جن ممالک میں لوگ جم کی بھاری فیسیں دیتے ہیں، وہاں کے لوگ اگر ہمارا معاشی ماڈل سمجھ لیں تو حیران رہ جائیں۔ ہم تو بغیر کسی ممبرشپ کے فٹنس حاصل کرنے کے راستے پر گامزن ہیں۔
پٹرول کی بچت بھی ایک قومی خدمت ہے۔ آمدنی محدود ہو تو بندہ ہر سفر سے پہلے تین بار سوچتا ہے کہ جانا بھی ہے یا فون پر کام چل سکتا ہے۔ نتیجتاً سڑکوں پر رش کم ہوتا ہے، حادثات کم ہوتے ہیں، فضائی آلودگی کم ہوتی ہے اور ملک کا قیمتی زرِ مبادلہ بچتا ہے۔ گویا کم تنخواہ ایک ساتھ ماحولیات، معیشت اور صحت تینوں کی خدمت کرتی ہے۔آمدنی کم ہونے کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ انسان کی تخلیقی صلاحیتیں بیدار ہو جاتی ہیں۔ پہلے لوگ بازار سے چیزیں خرید لیا کرتے تھے، اب مرمت کروا لیں گے۔ پہلے خراب پنکھا تبدیل ہوتا تھا، اب الیکٹریشن کے ساتھ مل کر اس کی نئی زندگی شروع کروائی جائے گی۔ بعض گھروں میں تو ایک ہی بالٹی کئی نسلوں کی خدمت کر چکی ہے۔ یہ استحکام نہیں تو اور کیا ہے؟۔
بچوں کی تربیت میں بھی کم آمدنی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جب موبائل پیکج محدود ہو تو بچے مجبوری میں گھر والوں سے بات چیت کرتے ہیں۔ جب آن لائن گیمز کے لیے پیسے نہ ہوں تو گلی میں کرکٹ کھیلتے ہیں۔ یوں جسمانی ورزش بھی ہوتی ہے اور محلے داری بھی قائم رہتی ہے۔ ماہرینِ نفسیات اس پر ابھی تحقیق کر رہے ہیں لیکن ہماری قوم برسوں سے اس تجربے سے گزر رہی ہے۔
شادی بیاہ کے میدان میں بھی کم تنخواہ انقلاب برپا کر سکتی ہے۔ جب جیب اجازت نہ دے تو پانچ ہزار مہمانوں کے بجائے پچاس افراد پر اکتفا کیا جائے گا۔ دس ڈشوں کی جگہ ایک ڈش آئے گی اور مہندی، ڈھولکی، مایوں اور ولیمے کے درمیان انسان کو یہ سوچنے کا موقع بھی مل جائے گا کہ شادی اصل میں دو افراد کی ہوتی ہے یا پورے ضلعے کی۔
کم تنخواہ سے دوستیوں میں بھی خلوص پیدا ہوتا ہے۔ جو دوست پہلے ہر دوسرے دن قرض مانگنے آتے تھے، اب سلام دعا پر اکتفا کریں گے۔ بعض تو گلی کا راستہ ہی بدل لیں گے۔ یوں وقت اور پیسہ دونوں بچیں گے اور انسان غیر ضروری تعلقات کے بوجھ سے آزاد ہو جائے گا۔
مزید یہ کہ کم آمدنی انسان میں اعلیٰ درجے کی ریاضیاتی صلاحیتیں پیدا کرتی ہے۔ مہینے کی پہلی تاریخ کو ملنے والی تنخواہ کو تیس دن تک کھینچنے کے لیے ایسی ایسی مساواتیں حل کرنی پڑتی ہیں کہ بڑے بڑے پروفیسر بھی شرما جائیں ۔ ایک عام سرکاری ملازم روزانہ بجٹ سازی، تخمینے، کٹوتی اور مالی منصوبہ بندی کے ایسے عملی تجربات کرتا ہے جو کسی ایم بی اے پروگرام میں بھی دستیاب نہیں۔
پنجاب کے پنشنرز تو اس حوالی سے خصوصی مبارکباد کے مستحق ہیں۔ ان کی پنشن میں ایسا خوبصورت اضافہ کیا گیا ہے کہ انہیں یاد دلایا جا سکے کہ اصل سہارا دولت نہیں بلکہ صبر، شکر اور اولاد ہوتی ہے۔ اب اگر اولاد بھی یہی فلسفہ اپنائے تو پھر یہ ایک الگ قومی مسئلہ ہے۔
بعض ناقدین کہتے ہیں کہ تنخواہوں میں اضافے اور مہنگائی کے درمیان فاصلہ بہت بڑھ گیا ہے۔ ہم ان سے گزارش کریں گے کہ اس فاصلے کو منفی انداز میں نہ دیکھیں۔ آخر ترقی کا سفر بھی تو فاصلے طے کرنے کا نام ہے۔ قوم پہلے موٹر سائیکل سے سائیکل پر آئی، اب سائیکل سے پیدل چلنے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو جلد ہی ہمارے بزرگوں کی وہ سنہری روایت بحال ہو جائے گی جب لوگ میلوں کا سفر پیدل طے کرتے تھے اور اسے صحت مندانہ طرزِ زندگی کہا جاتا تھا۔
لہٰذا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو چاہیے کہ کم اضافے پر شکوہ کرنے کے بجائے اس کے پوشیدہ فوائد پر غور کریں۔ آخر ہر بجٹ کے پیچھے کوئی نہ کوئی حکمت ضرور ہوتی ہے۔ اگر ہمیں نظر نہیں آ رہی تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ موجود نہیں۔ ممکن ہے یہ حکمت اتنی گہری ہو کہ عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو۔ اور ویسے بھی، جب جیب خالی ہو تو فلسفہ خود بخود سمجھ میں آنے لگتا ہے۔







