ColumnImtiaz Aasi

مولانا فضل الرحمان کی سیاست

مولانا فضل الرحمان کی سیاست

نقارہ خلق

امتیاز عاصی

یہ بھی پڑھیے

اس حقیقت میں دو آراء نہیں جے یو آئی کے امیر اور مولانا مفتی محمود مرحوم کے ہونہار بیٹے مولانا فضل الرحمان زیرک سیاست دان ہیں جو وکٹ کے دونوں طرف کھیلنے کے عادی ہیں۔ مولانا کی سیاست کا مرکز و محور ہمیشہ اقتدار رہا ہے وہ طاقتور حلقوں کے ساتھ بھی قریبی روابط رکھتے ہیں۔ قارئین کو یاد ہو گا مولانا نے ایک موقع پر کہا تھا انہیں عمران خان کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد لانے کے لئے دیگر سیاست دانوں کے ساتھ سابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بلا بھیجا تھا۔ پیپلز پارٹی کی حکومت ہو یا مسلم لیگ نون کی جے یو آئی اقتدار میں ان کی اتحادی رہی ہے۔ غالبا یہ پہلا موقع ہے ان کی جماعت وفاق اور کسی صوبے میں اقتدار سے باہر ہے۔ نگران دور میں اپنے بیٹے کو سب سے بڑی وزارت دلوائی۔ ایک اردو معاصر میں خبر نظر سے گزری جس میں وہ چارسدہ میں شہید اسلام کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے، جس میں انہوں نے حکومت کو دھمکی دی اگر انہوں نے ایک آواز دی پورا پاکستان اسلام آباد امڈ آئے گا۔ مجھے یاد ہے مولانا نے اس قبل عمران خان کے دور میں بھی ایک آواز دی تھی، جس کے بعد پورا ملک تو امڈ نہیں آیا تھا، البتہ چند ہزار مدارس کے طلبہ ضرور اسلام آباد آئے تھے، لیکن وہ حکومت ختم کرنے میں ناکام لوٹے تھے۔

ہمیں تو یہ بات سمجھ نہیں آتی مولانا کیسی اپوزیشن کرتے ہیں اگر وہ اپوزیشن کرنے میں مخلص ہوتے وہ اپوزیشن کی تمام جماعتوں کے ساتھ مل کر عوام کے مسائل کے لئے جدوجہد کرتے۔ ایک طرف وہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی بات کرتے ہیں اگر وہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لئے سنجیدہ ہوتے وہ پی ٹی آئی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں سے مل کر جدوجہد کر سکتے تھے لیکن جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں وہ وکٹ کے دونوں طرف کھیلنے والے کھلاڑی ہیں۔ جہاں تک ان کا اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے جدوجہد کا نعرہ ہے وہ ایک محض سیاسی نعرہ ہے جس کا مقصد دین دار طبقے کو اپنی طرف راغب کرنے کے سوا کچھ نہیں۔ اگر ہم ماضی کی طرف لوٹیں تو ان کے والد محترم نے مذہبی جماعتوں کے ساتھ ملکر بھٹو حکومت کے خلاف تحریک چلائی تھی جس کے نتیجہ میں ملک میں مارشل لاء لگ گیا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی گرفتاری کے بعد عوام کو دکھانے کے لئے جنرل ضیاء الحق نے مذہبی جماعتوں کے قائدین کو بھی سہالہ ریسٹ ہائوس میں نظر بند کر دیا تھا جنہیں بعد ازاں رہا کر دیا گیا تھا۔ جنرل ضیاء الحق نے بات چیت کی لئے مری ریسٹ ہائوس میں ایئر مارشل نور خان کو بھٹو کے پاس بھیجا تھا اور اس بات کا یقین دلایا تھا وہ نوے روز کے اندر میں عام انتخابات کر ا دیں گے، لیکن مذہبی جماعتوں نے اس کی مخالفت کی اور جنرل ضیاء الحق کو نوے روز میں الیکشن کرانے سے منع کر دیا، اگر انتخابات ہوئے تو پیپلز پارٹی پھر اقتدار میں آجائے گی۔

آپ نے دیکھا ہوگا مولانا فضل الرحمان کے جلسوں میں عام لوگوں کی نسبت مدار س کے طلبہ کی تعدد بہت زیادہ ہوتی ہے، جو اس امر کا عکاس ہے جے یو آئی کے امیر کی سیاست مدارس کے بل بوتے پر ہے۔ وفاقی حکومت نے مدارس کی رجسٹریشن کا معاملہ اٹھا یا تو مولانا نے احتجاج کی دھمکی دے دی حالانکہ مدارس کی رجسٹریشن سے طلبہ کی تعلیم پر کوئی اثر تو نہیں پڑنا تھا بس حکومت کو مدارس کے ذرائع آمدن کا پتہ چل جانا تھا جو مولانا کو کسی صورت منظور نہیں۔ ملک کے مدارس کو اندرون اور بیرون ملک سی عطیات آتے ہیں جن کا حساب کتاب رکھنا ضروری ہے، مگر مولانا اس طرف کسی کو آنے نہیں دیتے، بلکہ الٹا اسلام آباد آنے کی دھمکی لگا کر معاملے کو دبوا دیتے ہیں۔ گزشتہ انتخابات میں وہ اپنے حلقہ انتخاب میں کامیاب نہیں ہو سکے تو انہیں بلوچستان سے نشست لے لی۔ آج پاکستان کی سیاست میں اگر ڈیڈ لاک ہے تو ان جیسے سیاست دانوں کی وجہ سے ہے۔ ایک علاقائی جماعت کے قائد ہونے کے باوجود ان کی جماعت کے لوگ وفاق اور صوبوں کی حکومتوں میں رہے ۔ ایک طرف اپوزیشن اور دوسری طرف جب کبھی قانونی سازی کا وقت آیا مولانا نے ہمیشہ حکومت کا ساتھ دیا۔ اصولی طور پر جو بھی غیر سرکاری تنظیمیں ہوں ان کے اکائونٹس کا حساب کتاب بہت ضروری ہے۔ ماسوائے اخباری بیانات اور ٹی وی چینلوں کی رونق بننے کے عملی طور پر ملک و قوم کے لئے جے یو آئی کی خدمات ہیں۔ جے یو آئی اسلامی نظام کے نفاذ میں مخلص ہوتی وہ جماعت اسلامی اور دیگر مذہبی جماعتوں سے الائنس کرکے اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے جدوجہد کر سکتی تھی بد قسمتی سے ہر جماعت نے اپنا اپنا پلیٹ فارم بنا رکھا ہے۔ جے یو آئی گزشتہ انتخابات میں مبینہ طور پر دھاندلی کے خلاف جدوجہد میں مخلص ہوتی وہ پی ٹی آئی اور اپوزیشن کی دوسری جماعتوں سے باہم مل کر عوام کو سڑکوں پر لا سکتی تھی۔ سیاسی اور مذہبی جماعتیں الیکشن میں مبینہ دھاندلی کی بات تو کرتی ہیں عملی طور پر دھاندلی کے خلاف سڑکوں پر آنے کو تیار نہیں ہوتیں۔

آج کے سیاست دانوں کی ملک کے لئے کیا خدمات ہیں، ماسوائے جماعت اسلامی کے کوئی سیاسی جماعت مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف آواز اٹھانے کو تیار نہیں۔ دراصل ملک کے عوام سیاسی جماعتوں سے مایوس ہو چکے ہیں، انہیں سیاست دانوں کے وعدوں پر اعتبار نہیں۔ یہ بات میں دعویٰ سے کہتا ہوں سیاسی جماعتوں کے قائدین اگر ذاتی مفادات کے خول سے نکل کر ملک کو ترقی اور عوام کی مشکلات حل کرنے کے لئے یکجا ہو جائیں تو کوئی وجہ نہیں ہمارا ملک ترقی نہ کر سکے، تاہم اس کے لئے یہ ضروری ہے وہ طاقتور حلقوں کی طرف اقتدار کے حصول کے لئے نہ دیکھیں نہ ہی ان کا دم چھلا بنیں تو سیاسی معاملات میں کوئی ادارہ مداخلت کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ افسوسناک پہلو یہ ہے سیاست دانوں کی اکثریت کی نظریں اقتدار کے حصول کے لئے مقتدرہ کی طرف ہوتی ہیں۔

جواب دیں

Back to top button