Column

امریکا، ایران امن معاہدے کا نفاذ

امریکا، ایران امن معاہدے کا نفاذ

دنیا ہمیشہ سے تنازعات، جنگوں اور کشیدگیوں کا مرکز رہی ہے، مگر تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ ہر دور میں کچھ ایسے لمحے آتے ہیں جب عقل، تدبر اور سفارت کاری جنگ کی آگ کو بجھا کر امن کی راہ ہموار کرتی ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والا مفاہمتی معاہدہ بھی ایسا ہی ایک لمحہ ہے جسے عالمی سیاست میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ گزشتہ روز اس امن معاہدے پر ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دستخط کردیے جب کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بھی بطور ثالث اس پر دستخط کیے۔ اس پیش رفت نے نہ صرف خطے میں امید کی نئی کرن پیدا کی ہے بلکہ یہ بھی ثابت کیا ہے کہ جنگیں مسائل کا حل نہیں ہوتیں، بلکہ بات چیت اور مکالمہ ہی پائیدار حل کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ اس معاہدے کے حوالے سے پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر خصوصی اہمیت دی جارہی ہے۔ پاکستان نے بطور ثالث جو سفارتی ذمے داری ادا کی، وہ نہ صرف قابلِ تعریف ہے بلکہ یہ ملک کی خارجہ پالیسی میں ایک نئے اعتماد اور توازن کی علامت بھی ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیرِاعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک مثبت اور فعال کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس مفاہمتی یادداشت کو عالمی سطح پر ایک بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ فریقین کے درمیان اعتماد کی بحالی اور مذاکرات کی بحالی میں پاکستان نے جو کردار ادا کیا، وہ نہایت اہم اور فیصلہ کن تھا۔ پاکستان کی کوششوں نے ایک ایسے ماحول کو جنم دیا جس میں فریقین ایک میز پر بیٹھنے اور اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر آمادہ ہوئے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیرِاعظم شہباز شریف نے اس پورے عمل میں نہ صرف بصیرت کا مظاہرہ کیا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے مقف کو ایک متوازن اور ذمے دار آواز کے طور پر پیش کیا۔ ان کی امن کوششیں اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہیں کہ پاکستان امن کا داعی ہے اور خطے میں استحکام چاہتا ہے۔اس اہم پیش رفت میں پاکستان کی عسکری قیادت، خصوصاً فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار انتہائی اہم قرار دیا جارہا ہے۔ ان کی پیشہ ورانہ بصیرت، حکمت عملی اور پسِ پردہ سفارتی تعاون نے اس عمل کو آگے بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ یہ امر واضح ہے کہ جدید دور میں صرف سیاسی قیادت ہی نہیں بلکہ عسکری قیادت بھی قومی مفاد اور عالمی امن میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ وزیرِاعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی مشترکہ کوششوں نے پاکستان کو ایک ایسی پوزیشن پر لاکھڑا کیا ہے جہاں اسے نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر ایک ذمے دار اور موثر ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ حقیقت اب دنیا بھر میں تسلیم کی جارہی ہے کہ جنگیں کسی بھی مسئلے کا مستقل حل فراہم نہیں کرتیں۔ جنگ صرف تباہی، غربت، انسانی المیے اور عدم استحکام کو جنم دیتی ہے۔ اس کے برعکس مذاکرات اور سفارت کاری ایسے راستے کھولتے ہیں جو دیرپا امن کی ضمانت بن سکتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان یہ مفاہمت بھی اسی سوچ کی عکاس ہے کہ طاقت کے بجائے بات چیت کو ترجیح دی جائے۔ یہ پیش رفت عالمی برادری کے لیے ایک مثال ہے کہ اگر نیت نیک ہو اور قیادت سنجیدہ ہو تو پیچیدہ سے پیچیدہ مسائل بھی حل کیے جا سکتے ہیں۔ اس سفارتی کامیابی کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ دنیا نے یہ تسلیم کیا ہے کہ پاکستان نہ صرف خطے کا ایک اہم ملک ہے بلکہ عالمی امن کے عمل میں بھی ایک تعمیری کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہ پیش رفت پاکستان کے لیے باعثِ فخر ہے کیونکہ اس نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ صرف تنازعات کا حصہ نہیں بلکہ ان کے حل کا بھی ایک اہم فریق ہے۔ اس عمل نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان ایک ذمے دار ریاست ہے جو امن، تعاون اور مکالمے پر یقین رکھتی ہے۔ اس معاہدے کے بعد خطے میں استحکام کی نئی امید پیدا ہوئی ہے۔ اگر یہ عمل تسلسل کے ساتھ جاری رہتا ہے تو نہ صرف ایران اور امریکا کے تعلقات میں بہتری آئے گی بلکہ پورے خطے میں معاشی، سیاسی اور سماجی ترقی کے نئے دروازے بھی کھل سکتے ہیں۔ پاکستان کی کوششیں اس بات کی غماز ہیں کہ وہ خطے میں کشیدگی کے بجائے تعاون کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ یہ ایک ایسا وژن ہی جو آنے والی نسلوں کے لیے امن اور خوشحالی کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدہ صرف ایک سیاسی دستاویز نہیں بلکہ ایک نئی سوچ کی علامت ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا میں اب بھی امن کی گنجائش موجود ہے، بشرطیکہ قیادت سنجیدگی اور خلوص کی ساتھ آگے بڑھے۔ پاکستان کا اس عمل میں کردار نہایت قابلِ تحسین ہے۔ وزیرِاعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے عالمی سطح پر اپنا ایک مثبت اور موثر تشخص قائم کیا ہے۔ یہ کامیابی نہ صرف پاکستان کے لیے باعثِ فخر ہے بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک امید کی کرن بھی ہے۔ آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ جنگیں کبھی حل نہیں ہوتیں، حل صرف بات چیت، برداشت اور سفارت کاری میں پوشیدہ ہے۔ اور یہی پیغام آج کی دنیا کو سب سے زیادہ درکار ہے۔

چائلڈ لیبر کا خاتمہ کب ہوگا؟

یہ بھی پڑھیے

نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق ( این سی ایچ آر) اور یونیسیف کی تازہ رپورٹ نے پاکستان کے سماجی ڈھانچے پر ایک گہرا سوالیہ نشان لگادیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں 86لاکھ بچے چائلڈ لیبر کا شکار ہیں، جن میں سے 66لاکھ سے زائد خطرناک مشقت میں مصروف ہیں۔ یہ اعداد و شمار محض ایک رپورٹ نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہیں۔ یہ امر انتہائی تشویش ناک ہے کہ پاکستان میں چائلڈ لیبر پر آخری جامع سروے 1996ء میں ہوا تھا، جس کے بعد طویل عرصے تک پالیسی سازی پرانی یا نامکمل معلومات پر چلتی رہی۔ نتیجتاً مسئلے کی اصل شدت پس منظر میں رہی اور اس کے حل کے لیے موثر اقدامات نہ کیے جا سکے۔ رپورٹ واضح کرتی ہے کہ چائلڈ لیبر کی سب سے بڑی وجہ غربت ہے، تاہم یہ صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ سماجی، تعلیمی اور ادارہ جاتی ناکامیوں کا مجموعہ ہے۔ پنجاب میں سب سے زیادہ بچوں کی مزدوری ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان اور اسلام آباد بھی اس مسئلے سے محفوظ نہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک قومی بحران ہے، نہ کہ کسی ایک خطے تک محدود مسئلہ۔ ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ بچوں کی بڑی تعداد خاندانی کاروبار، کھیتوں اور گھریلو ماحول میں کام کرتی ہے، جہاں وہ باقاعدہ لیبر نگرانی کے نظام سے اوجھل رہتے ہیں۔ یہی پوشیدہ شکل اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بناتی ہے۔چائلڈ لیبر صرف بچوں کا بچپن ہی نہیں چھینتی بلکہ ان کی صحت، تعلیم اور ذہنی نشوونما کو بھی شدید متاثر کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بڑی تعداد میں بچے کام کے دوران زخمی یا بیمار ہوتے ہیں جبکہ ایک قابلِ ذکر حصہ ذہنی دبا اور ڈپریشن کا بھی شکار پایا گیا ہے۔ یہ صورت حال ایک ایسی نسل کی نشان دہی کرتی ہے جو مستقبل کے بجائے بقا کی جدوجہد میں الجھی ہوئی ہے۔ حکومتی اور عدالتی سطح پر بھی اس مسئلے کو سنجیدگی سے تسلیم کیا گیا ہے۔ آئین پاکستان بچوں کو تحفظ اور مفت تعلیم کی ضمانت دیتا ہے مگر اصل چیلنج ان قوانین پر موثر عمل درآمد کا ہے۔ قوانین موجود ہونے کے باوجود اگر لاکھوں بچے مزدوری پر مجبور ہیں تو یہ نظامی خامیوں کی نشان دہی کرتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ چائلڈ لیبر کے خاتمے کو محض ایک پالیسی نعرہ نہیں بلکہ قومی ترجیح بنایا جائے۔ غربت کے خاتمے، تعلیم کی فراہمی، سماجی تحفظ کے نظام اور سخت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان مربوط حکمت عملی ناگزیر ہے۔ یہ وقت اعداد و شمار پر افسوس کرنے کا نہیں بلکہ عملی اقدامات کرنے کا ہے۔ ہر وہ بچہ جو اسکول کے بجائے کام پر مجبور ہے، ہمارے اجتماعی ناکامی کی علامت ہے۔ اگر ہم نے اب بھی سنجیدگی نہ دکھائی تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ چائلڈ لیبر کا خاتمہ صرف حکومت کی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی ذمے داری ہے۔ جب تک ہم بحیثیت قوم اس مسئلے کو اپنی ترجیح نہیں بناتے، تب تک تبدیلی ممکن نہیں۔ بچوں کا بچپن بچانا ہی دراصل قوم کا مستقبل بچانے کے مترادف ہے۔

جواب دیں

Back to top button