Column

چوروں کا ورلڈ کپ، لاہور فاتح

چوروں کا ورلڈ کپ، لاہور فاتح
صورتحال
سیدہ عنبرین
لاہور سے تعلق رکھنے والے اور لاہور میں موجود پرنٹ، الیکٹرانک میڈیا سے منسلک صحافیوں، ادیبوں، شاعروں، سماجی کارکنوں، فوجی بھائیوں، اینکر انالسٹ حضرات اور شوبز سے تعلق رکھنے والی نامور شخصیات کا رخ والٹن روڈ کینٹ کے ایک گھر کی طرف ہے، جس کے مکین سے اظہار ہمدردی کیلئے دوست، احباب صبح شام پہنچ رہے ہیں، یہ گھر سینئر صحافی تجزیہ کار کالم نگار سید ناصر شیرازی کا ہے، جن کی ایک منفرد پہچان آئی ایس پی آر اور پاکستان ٹیلی ویژن کا مشترکہ ڈرامہ ’’ نشان حیدر‘‘ ہے، جس میں انہوں نے میجر عزیز بھٹی شہید نشان حیدر کا لازوال کردار ادا کیا اور دنیا بھر سے داد پائی۔
ناصر شیرازی عید کی چھٹیوں میں اپنے اہلخانہ کے ہمراہ لاہور سے باہر تھے۔ وہ 31مئی کی رات گھر واپس پہنچے تو چوروں کا ایک گینگ ان کے گھر کا مکمل صفایا کر چکا تھا، چوروں نے گھر میں کوئی قیمتی شے نہ چھوڑی، وہ ساٹھ انچ کی ایل سی ڈی، قیمتی موبائل فون، الیکٹرانک سامان، گھڑیاں، بریف کیس، کیمرہ متعدد سوٹ کیسز، سلے ان سلے زنانہ مردانہ کپڑے، یو پی ایس بیٹریاں، کراکری، پائری، ایمرجنسی لائٹس، تمام نئے جوتے، ورزش کا سامان، ڈمبل راڈ، بیڈ کورز، تولیے، انڈر گارمنٹس، میڈلز، سووینئرز، اعزازی شمشیر اور دیگر سامان ڈبوں میں بند کر کے بکسوں میں ڈال کر نہایت اطمینان سے ساتھ لے گئے۔ چوروں نے تین بیڈ روم کے گھر کے تینوں باتھ رومز کو مکمل طور پر توڑ دیا، اور اس میں نصف تمام سامان لے گئے۔ آج ان کے گھر میں کسی باتھ روم میں ایک بھی ٹوٹی موجود نہیں، جس سے پانی لیا جا سکے، چوروں نے کچن میں گھس کر قیمتی برتنوں کے علاوہ چینی، چاول اور کھانے پینے کی دیگر اشیاء بھی نہ چھوڑیں۔ ہم ان کے گھر میں داخل ہوئے تو یوں محسوس ہوا، جیسے وہاں بم بلاسٹ ہوا ہے، جس سے گھر کے تمام تالے ٹوٹے ہیں۔ الماریاں خود بخود کھل گئی ہیں، اور جنات نے انہیں خالی کر دیا ہے۔ واردات کی ایف آئی آر تو درج ہو گئی۔ ستم بالائے ستم اس واردات کے چند روز بعد سہ پہر قریباً چار بجے کے قریب ناصر شیرازی پریس کلب سے واپس اپنے گھر پہنچے ہی تھے کہ تین چور پھر آ دھمکے۔ ایک موٹر سائیکل سٹارٹ کر کے باہر رک گیا، دوسرا گرین سگنل کا انتظار کرنے لگا، جبکہ تیسرا دیوار پھلانگ کر گھر کے اندر آ گیا، جسے ہمت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہوں نے پکڑ لیا، ون فائیو پر کال کی گئی، پولیس دس پندرہ منٹ کے اندر پہنچ گئی، رنگے ہاتھوں پکڑے جانے والے چور کو ان کے حوالے کیا، جبکہ چور کے دیگر ساتھی ہجوم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھاگنے میں کامیاب ہو گئے، ان تمام کا ریکارڈ انویسٹی گیشن کے کمپیوٹر میں موجود ہے۔ تفتیش کے مراحل میں پکڑے جانے والے چور نے بتایا کہ وہ گھر خالی دیکھ کر چار روز تک مسلسل وہاں آتے رہے، اور روزانہ سامان اکٹھا کر کے لے جاتے رہے، لیکن پانچویں پھیرے میں پکڑے گئے۔ ایک چور نے دیگر ساتھیوں کی نشاندہی کی تو ایک اور ساتھی کو پکڑ لیا گیا، جس نے پولیس کے اپنے دروازے پر پہنچتے ہی گھر کے اندر سے چوری شدہ تلوار نکال کر پولیس کو دے دی، اور کہا میرے پاس اس کے علاوہ کچھ نہیں۔ پولیس نے اس کے گھر کی مکمل تلاشی لینے کی بجائے اس کی زبان پر اعتبار کیا اور واپس چلی آئی۔ اب فرینڈلی تفتیش کا مرحلہ شروع ہوا، تلوار برآمد کرانے والے چور کو بیٹھنے کیلئے کرسی پیش کی گئی، جبکہ پہلے سے گرفتار چور کو وہ سوٹی دکھا کر ڈرانا شروع کیا گیا جسے بندر کا تماشا دکھانے والا بندر کو دکھاتا ہے، لیکن آج کل یہ بندر اس سوٹی سے نہیں ڈرتے، چہ جائیکے ہسڑی شیٹر اور تجربہ کار نقب زنوں کو اس سے کوئی خوف محسوس ہو، گرفتار شدہ چور متعدد مرتبہ جیل جا چکے ہیں۔ گرفتار چوروں نے نو مختلف افراد کے نام اور پتے بتائے، جنہیں انہوں نے چوری شدہ سامان فروخت کیا۔ انہوں نے واضع طور پر بتایا کہ باتھ رومز فٹنگز کسے اور کتنے میں بیچیں۔ ٹی وی، ایل سی ڈی کیسے فروخت کی، زنانہ کپڑوں کا خریدار کون ہے، مردانہ کپڑے اور سوٹ کیسز و بریف کیس کس کو فروخت ہوا، چوروں نے ان کباڑیوں کے نام پتے بھی بتائے جو ان سے اور دیگر جرائم پیشہ افراد سے چوری کا مال اونے پونے خریدتے ہیں، چوروں نے اپنے دیگر شریک کار افراد کے نام بتائے کہ کون ہیروئن فروخت کرتا ہے، اور اس کا ڈیرہ کہاں ہے، کون چرس اور شراب کے دھندے میں کتنے عرصے سے ہے۔
چوروں کے بتائے گئے ساتھیوں، چوری کا مال خریدنے والوں، دکانداروں، کباڑیوں کے ٹھکانوں پر چھاپے نہیں مارے گئے، کسی کو گرفتار کر کے قیمتی سامان برآمد کرنے کی کوششیں تاحال نہیں ہوئیں۔ بادی النظر میں یوں لگتا ہے جیسے آج کل میں چند سو روپے مالیت کی چیزیں خانہ پری کیلئے برآمد کر لی جائیں گی، جبکہ قیمتی سامان کا سراغ نہیں ملے گا ۔ چور چوری کا سامان ڈھونے کیلئے جس موٹر سائیکل کو استعمال کرتے رہے اسے قبضے میں نہیں لیا گیا، وہ ایک چور کے گھر پر کھڑی ہے۔ ناصر شیرازی صاحب کے گھر کے باہر دن اور رات کو کالونی کے دو گارڈ ڈیوٹی پر موجود ہوتے تھے، انہیں شامل تفتیش نہیں کیا گیا۔ چوروں نے بتایا وہ جتنی مرتبہ بھی گھر میں داخل ہوئے نائٹ ڈیوٹی گارڈ قریبی ہوٹل پر چائے پیتا نظر آیا، یا اپنے کیبن میں نیند کے مزے لیتا ملا، یوں ہم بلا روک ٹوک گھر میں داخل ہوتے اور نکل جاتے، ساٹھ گھروں کی یہ کالونی تین طرف سے بند ہے، آنے جانے کا فقط ایک راستہ ہے، جس پر گارڈ کی ڈیوٹی ہوتی ہے۔ مطلب یہ کہ جو بھی کالونی میں آئے گا گارڈ کی نظروں سے اوجھل ہو کر نہیں آ سکتا، البتہ اس کی ملی بھگت یا اس کے ڈیوٹی سے غائب ہونے پر چوروں کے جتھے بلا روک ٹوک آ سکتے ہیں، یعنی چور بائی اپوائنٹ منٹ آنے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
جس انداز میں فرینڈلی تفتیش ہو رہی ہے، کچھ عجب نہیں ایک چور ’’ سائیں‘‘ ڈکلیئر کر دیا جائے، جبکہ دوسرے ساتھی کے بارے میں بتایا جائے کہ یہ معصوم ہے، چور نہیں ہے، اس کا کبوتر اس گھر میں گیا تھا، یہ اسے پکڑنے کیلئے دیوار پھاند کر اندر داخل ہوا کہ پکڑا گیا۔
اعلیٰ پولیس حکام اگر توجہ فرمائیں تو محتاط اندازے کے مطابق بیس لاکھ روپے مالیت کا یہ چوری شدہ سامان با آسانی برآمد ہو سکتا ہے، کیونکہ چور مدعی نے خود پکڑ کر حوالہ پولیس کیا ہے۔ چھوٹی چھوٹی اشیاء برآمد بھی ہو چکی ہیں، کسی معاملہ میں کوئی ابہام باقی نہیں ہے، اگر ہے تو اب پولیس کارکردگی کا ہے، پولیس نیک نامی کما سکتی ہے۔ چوروں کا ورلڈ کپ لاہور نے جیت لیا ہے۔ فٹبال کپ ابھی جاری ہے۔

جواب دیں

Back to top button