Column

اطمینان: زندگی کا نظریہ

اطمینان: زندگی کا نظریہ

علیشبا بگٹی

ایک بادشاہ تھا۔ اس کے خزانے سونے سے بھرے ہوئے تھے۔ اس کی فوجیں سمندروں کو چیرتی تھیں اور اس کے جھنڈے براعظموں پر لہراتے تھے۔ اس نے درجنوں جنگیں جیتیں، سیکڑوں قلعے فتح کیے اور ہزاروں میل زمین کو اپنی سلطنت میں شامل کیا۔ لیکن ایک رات وہ محل کی چھت پر تنہا بیٹھا آسمان کو دیکھ رہا تھا۔ اس کے چہرے پر عجیب اداسی تھی۔ ملکہ نے بادشاہ سے پوچھا: آج آپ اتنے غمگین کیوں ہیں؟۔ بادشاہ بولا’’ میں نے سب کچھ حاصل کر لیا، مگر سکون نہیں ملا‘‘۔ ملکہ بولی: ’’ جہاں آپ سکون تلاش کر رہے ہیں، وہاں وہ کبھی تھا ہی نہیں‘‘۔ یہ جملہ انسانی تاریخ کا خلاصہ ہے۔
فرعون سے لے کر سکندر اعظم تک، چنگیز خان سے لے کر نپولین تک، قیصر سے لے کر ہٹلر تک، انسان مسلسل دنیا فتح کرتا رہا، لیکن اطمینان حاصل نہ کر سکا۔ زندگی کا سب سے بڑا سوال دولت، طاقت یا شہرت نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ انسان کب مطمئن ہوتا ہے؟ اور یہی سوال ’’ نظریہ اطمینان زندگی‘‘ کا مرکزی سوال ہے۔
نظریہ اطمینان زندگی (Life Satisfaction Theory)نفسیات اور فلاح انسانی کے میدان میں ایک اہم تصور ہے۔ اس کے مطابق انسان کی خوش حالی کا ایک بنیادی پیمانہ یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی کو مجموعی طور پر کتنا اطمینان بخش سمجھتا ہے۔ اس نظریے کے مطابق اطمینان زندگی صرف وقتی خوشی یا جذبات پر منحصر نہیں ہوتا، بلکہ اس بات پر مبنی ہوتا ہے کہ فرد اپنی زندگی کے مختلف پہلوں جیسے خاندان، صحت، تعلیم، روزگار، معاشرتی تعلقات اور ذاتی کامیابیوں کا مجموعی جائزہ لے کر انہیں اپنی توقعات اور مقاصد کے مطابق کتنا کامیاب پاتا ہے۔ ذاتی تشخیص (Subjective Evaluation) یہ ہے کہ اطمینان زندگی کا فیصلہ خود فرد کرتا ہے۔ اور مجموعی جائزہ یہ ہے کہ کسی ایک لمحے کی خوشی نہیں بلکہ پوری زندگی کے بارے میں عمومی رائے۔ اور سچی بات تو یہ ہے کہ جتنا کم فرق توقعات اور حاصل شدہ نتائج میں ہوگا، اتنا زیادہ اطمینان محسوس ہوگا۔ اطمینان زندگی کا نظریہ صرف جذبات نہیں بلکہ زندگی کے مجموعی جائزے پر زور دیتا ہے۔
نفسیات میں Ed Dienerکو اطمینان زندگی اور subjective well-beingپر تحقیق کے حوالے سے نمایاں مقام حاصل ہے، اور ان کے کام نے اس نظریے کی سائنسی بنیادوں کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
شکسپیر نے کہا: سب سے زیادہ اسی کو ملتا ہے، جو مطمئن ہے۔ رکنڈورسٹ نے کہا: بغیر کسی سے مقابلہ یا موازنہ کیے اپنی زندگی بسر کرو، یہی اعلیٰ اطمینان کی علامت ہے۔ ڈبلیو سیکر نی کہا: انسان کو تندرست رکھنے کے لیے اطمینان بہترین غذا بھی ہے اور بہترین دوا بھی۔ چینی محاورہ ہے: ’’ جس شخص کو معلوم ہو کہ کافی کیا ہے، اس کے پاس ہمیشہ کافی ہوگا‘‘۔
محسن احسان کا کہنا ہے کہ:
یہ اطمینان دل کو ہے کہ ہم گھر بار رکھتے ہیں
شکستہ ہیں مگر اپنے در و دیوار رکھتے ہیں
جدا ہے مفلس و زردار سے ملنے کا پیمانہ
ہر انسان کے لیے ہم اک الگ معیار رکھتے ہیں
وہی ہیں ان دنوں مقبول تمثیل سیاست میں
جو سارے کھیل میں اک مرکزی کردار رکھتے ہیں۔
ہمارے ہاتھ خالی ہیں، ہماری آنکھ بھوکی ہے
اگرچہ جیب میں ہم درہم و دینار رکھتے ہیں
ہمارا حال ہے محسن یہ اب اقوام عالم میں
ضمیر بے ضمیراں اور دل بیمار رکھتے ہیں
اسلام اس مسئلے کا ایک منفرد حل پیش کرتا ہے۔ قرآن کہتا ہے: ’’ دلوں کا اطمینان اللہ کے ذکر میں ہے‘‘۔
تاریخ کے تمام فاتحین ایک ہی سبق چھوڑ گئے ہیں۔ سکندر دنیا فتح کر کے خالی ہاتھ گیا۔ چنگیز خان زمین جیت کر قبر میں اتر گیا۔ نپولین یورپ فتح کر کے جلاوطنی میں مرا۔
زندگی کا اطمینان دولت اور غربت کے درمیان کہیں نہیں چھپا۔ وہ طاقت اور کمزوری کے درمیان بھی نہیں۔ وہ انسان اور اس کے ضمیر کے درمیان چھپا ہے۔ اور شاید اسی لیے دنیا کا سب سے بڑا بادشاہ وہ نہیں جو سلطنتوں کا مالک ہو۔ بلکہ وہ ہے جو مطمئن ہو۔ جو مرتے مرتے زندگی کی اطمینان کو جیت کر جائے۔ باقی سب فتوحات عارضی ہیں۔

جواب دیں

Back to top button