تازہ ترینخبریںدنیاسیاسیاتپاکستان

مذاکرات میں ایران کے سپریم لیڈر زیادہ متحرک ہیں: مارکو روبیو

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔

امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ مجتبیٰ خامنہ ای ناصرف زندہ ہیں بلکہ ملک کے اہم معاملات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں، تاہم ان کی تمام ہدایات تحریری پیغامات اور ثالثوں کے ذریعے پہنچ رہی ہیں۔

روبیو کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں اب ایرانی جوہری پروگرام کے ایسے پہلو بھی زیر بحث آ رہے ہیں جن پر تہران ایک ماہ قبل تک بات کرنے پر آمادہ نہیں تھا، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اس سے کسی قابلِ قبول معاہدے کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔

مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا کی بنیادی شرائط میں آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنا اور ایران کے افزودہ یورینیئم کے ذخائر کے بارے میں مذاکرات شامل ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ صرف آبنائے ہرمز کی بحالی کے بدلے ایران پر عائد پابندیاں ختم نہیں کی جائیں گی بلکہ اس کے لیے تہران کو اپنے جوہری پروگرام پر بڑی رعایتیں دینا ہوں گی۔

دوسری جانب ایرانی خبر رساں ادارے مہر نے مذاکراتی ٹیم کے قریبی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ تہران امریکی تجویز کا بغور جائزہ لے رہا ہے اور حالیہ دنوں میں امریکا سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے حوالے سے امریکی رویے اور باہمی بداعتمادی کے باعث ایران انتہائی سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات مسلسل جاری ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان رابطے منقطع نہیں ہوئے

جواب دیں

Back to top button