ColumnRoshan Lal

پاکستان میں ناجائز منافع خوروں گٹھ جوڑ 

پاکستان میں ناجائز منافع خوروں گٹھ جوڑ

تحریر : روشن لعل

حریف کاروباری افراد یا کمپنیاں اگر ناجائز منافع خوری کی غرض سے کسی گٹھ بندھن کا حصہ بن جائیں تو اسے معاشی اصطلاح میں کارٹل (Cartel )کہا جاتا ہے۔ اگر اشیائے صرف بنانے اور بیچنے یا اپنی خدمات فراہم کرنے والے لوگ اپنی پیداوار، اشیا یا خدمات کی قیمت مسابقت کی بجائے باہمی گٹھ جوڑ سے مقرر کریں تو ان کا یہ عمل کارٹل سازی کی مثال ہوگا۔ قیمتوں کے اس طرح تعین سے کارٹل بنانے والوں کی ناجائز منافع خوری کا راستہ تو کھل جاتا ہے مگر ملکی معیشت اور عام لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ کسی کارٹل کو ایسے کاروباری لو گوں کا مجموعہ بھی کہا جاتا ہے جو الگ شناخت رکھنے کے باوجود اس طرح مل کر کسی آئٹم کی تقریباً ایک جیسی من مانی قیمت مقرر کریں جیسے اسے مختلف کمپنیوں نے نہیں بلکہ کسی ایک ادارے نے بنایا ہو۔ اس طرح سے مختلف برانڈز کے نام سے کوئی آئٹم بنانے والوں کے درمیان مسابقت کا وہ امکان ختم ہو جاتا ہے جس سے عام صارف کو کوئی فائدہ پہنچ سکے۔

ویسے تو اپنی خدمات کی من مانی اجرت مقرر کرنے کے لیے کارٹل بنانے کے شواہد قدیم تاریخ میں بھی ملتے ہیں مگر اس طرح کے باقاعدہ کاروباری گٹھ بندھن کا آغاز صنعتی دور شروع ہونے کے بعد ہوا۔ دنیا میں جیسے جیسے صنعتی پیداوار میں اضافے کے ساتھ اس کی کھپت بڑھتی گئی ویسے ویسے نہ صرف سرمایہ داری نظام مضبوط ہوا بلکہ صنعتی ترقی کرنے والے ممالک نے پسماندہ ممالک کو اپنی نوآبادیاں بنا کر وہاں کی منڈیوں پر بلا شرکت غیرے اجارہ داری قائم کر لی۔ اس دور میں کسی ایک ایمپائر کی نوآبادی کی منڈی میں کسی دوسری ایمپائر کے مال کی کھپت ممکن نہیں ہوتی تھی جبکہ قابض ایمپائر کے سرمایہ داروں کو مکمل آزادی تھی کہ وہ مقابلہ کرنے کی بجائے ملی بھگت سے جیسے مرضی اپنی مصنوعات کی قیمتیں مقرر کریں۔ نوآبادیوں کی منڈیوں کے حصول کے لیے لڑی جانے والی پہلی جنگ عظیم کے بعد یورپ میں کارٹل بنانے کا عمل تیز ترین ہو گیا۔ دوسری جنگ عظیم شروع ہونے تک یورپ اور امریکہ کے سرمایہ دار آزادی کے ساتھ کارٹیل بنا کر ناجائز منافع خوری کرتے رہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد جب عالمی منڈیوں میں یورپی ایمپائرز کی اجارہ داری ختم ہوئی تو سوویت یونین خود کو یورپ اور امریکہ کی صنعتی طاقتوں کے متوازی ثابت کر کے ان منڈیوں میں اپنے مال کی فروخت کا دعویدار بن گیا۔ سوویت یونین کی صنعتوں میں تیار شدہ مال کا معیار گو کہ یورپی اور امریکی صنعتوں کے مال سے کم تھا مگر پھر بھی بین الاقوامی سرمایہ داروں نے یہ محسوس کر لیا کہ اب کارٹل بنا کر آزاد منڈیوں میں کم قیمت سوویت مال کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔ لہذا دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے پہلے امریکہ نے کارٹل سازی کے خلاف سخت عملی اقدامات کیے اور اس کے بعد یورپ میں نہ صرف کارٹل سازی کے خلاف پہلے سے موجود قوانین کو موثر بنانے کے لیے نئی ترامیم کی گئیں بلکہ ان قوانین کا سختی سے نفاذ بھی کیا گیا ۔ یورپ اور امریکہ میں سخت اقدامات کے باوجود کارٹل سازی کا عمل رک تو نہیں سکا مگر اس میں کمی ضرور واقع ہوئی۔ موجودہ دور میں یورپی یونین میں شامل ملکوں میں کارٹل سازی کے خلاف نہ صرف پوری دنیا کے مقابلے میں سخت ترین قوانین موجود ہیں بلکہ ان قوانین پر زیادہ سختی سے عمل بھی کیا جاتا ہے مگر اس کے باوجود وہاں کارٹل بننے کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔ اس وقت تیل پیدا کرنے والے ملکوں کی تنظیم اوپیک کو د نیا کا سب سے بڑا کارٹل تصور کیا جاتا ہے۔

قیام پاکستان کے بعدجب یہاں کئی قسم کے چوروں نے کھل کھیلنے کی کوشش کی تو کاروباری طبقہ بھی کارٹل بنانے میں کسی سے پیچھے نہیں رہا۔ ملکی وسائل کے استعمال سے سرمایہ داروں نے یہاں بڑے بڑے بزنس گروپ تو قائم کر لیے مگر ا ن کی پیداوار کی بے پناہ کھپت کے باوجود کارٹل بنائے جانے کی وجہ سے ملکی خزانے اور عوام کو کچھ فائدہ نہ ہوا۔ 1960ء کی دہائی کے اختتام پر جب ملکی معیشت کے 80فیصد حصہ پر 22خاندانوں کی اجارہ داری کے خلاف شورو غوغا ہوا تو 1970ء میں پہلی مرتبہ یہاں مناپلی کنٹرول اتھارٹی (MCA)بنائی گئی مگر یہ اتھارٹی بھی اجارہ داروں اور کارٹل بنانے والوں کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکی۔ پوری دنیا میں کارٹل سازی کے خلاف قانون سخت سے سخت بنائے جاتے رہے مگر پاکستان میں اس ضمن میں کوئی قابل ذکر کام نہ ہو سکا کیونکہ یہاں حکمرانوں اور کارٹل ساز وں کے کاروباری مفادات بڑی حد تک یکساں تھے۔ ہمارے ہاں پیپلز پارٹی کی حکومت نے 2010ء میں کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان قائم کرکے پہلی مرتبہ کارٹل سازی کے خلاف موثر قانون سازی کی ۔ 2010ء میں کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان کے قیام کے بعد بھی یہاں کارٹل بنتے رہے۔ تحریک انصاف نے اپنی 2013ء کی انتخابی مہم کے دوران تبدیلی کے کئی دوسرے نعروں کے ساتھ کارٹل سازوں کے خلاف بھی آواز اٹھائی ۔ ان انتخابات کے بعد تحریک انصاف کی حکومت تو نہ بن سکی لیکن اس کی رکن قومی اسمبلی شیریں مزاری نے ایک مرتبہ ن لیگ کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے باقاعدہ یہ سوال کیا تھا کہ کیا یہ بات درست ہے کہ پاکستان کے مختلف کاروباری شعبوں سے وابستہ لوگوں نے کارٹل بنائے ہوئے ہیں اور کیا پاکستان میں کارٹل سازی کے خلاف کوئی قانون موجود ہے۔ اس وقت کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کارٹل سازی کی تفصیل بیان کرنے کی بجائے صرف یہ جواب دیا کہ 2008ء سے 2013ء کی حکومت کے دوران پاکستان میں بینکنگ، اکائونٹیسی، پرنٹ میڈیا، سٹاک ایکسچینج، سیمنٹ، چینی، ٹیلی کام، جیوٹ بیگ، پولٹری، بجلی کے آلات، گھی اور جہاز رانی کی صنعت میں بنائے ہوئے کارٹلز نے پاکستان کی معیشت کو بری طرح نقصان پہنچایا۔ سوال کے دوسرے حصے کا یہ جواب دیا گیا کہ 2010ء میں بنائے گئے مسابقتی قانون کی شق نمبر 4کسی بھی شعبے میں کارٹل سازی کی ممانعت کرتی ہے۔

ن لیگ کی جس حکومت کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پاکستان میں کارٹل سازی کے متعلق پوچھے گئے سوال کا غیر سنجیدہ جواب دیا اس حکومت کے خاتمے کے بعد یہاں عمران کی تحریک انصاف کی حکومت کے دوران بھی نہ صرف کارٹل سازی کا عمل جاری رہا بلکہ کارٹل بنانے والے ہر سابقہ دور کی طرح کھل کر کھیلتے رہے۔ عمران خان کی حکومت کے بعد بھی یہاں کارٹل سازی کا عمل رک نہیں سکا۔ گو کہ دنیا میں کارٹل سازی کا عمل اب بھی کسی نہ کسی حد تک جاری ہے مگر کارٹل بنانے والوں نے جو لوٹ مار پاکستان میں مچا رکھی ہے اس کی مثال دنیا میں اور کہیں نہیں ملتی۔

کارٹل سازی سے ہونے والی لوٹ مار کے متعلق اس وقت لکھنے کی وجہ یہ ہے کہ یہاں 2026ء کا بجٹ کسی وقت بھی پیش ہو سکتا ہے۔ اس بجٹ کے ساتھ بہتری کی امیدیں وابستہ نہ کیے جانے کی دیگر کئی وجوہات کے علاوہ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کارٹل سازی کے خلاف موثر اقدامات نہ کیے جانے کی بدولت یہ بجٹ بھی ممکنہ طور پر ٹیکس چوروں کے مفادات کو تحفظ فراہم کرتے ہوئے غریبوں کے حق پر ڈاکہ ڈالنے والوں کی ہر ممکن سہولت کاری کرے گا۔

جواب دیں

Back to top button