
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی سمیت ممکنہ معاہدے اور جنگ بندی سے متعلق مذاکرات کیلئے پیر کو قطر کے دارالحکومت دوحہ پہنچ گئے۔
مذاکرات سے واقف ذرائع کا کہنا ہے کہ قطری ثالثی کے نتیجے میں ایران کے منجمد مالیاتی اثاثوں کی بحالی پر امریکا کے ساتھ مفاہمت طے پا گئی ہے۔اس بات کا قوی امکان ہے کہ آج امن معاہدے کاباقاعدہ اعلان کر دیا جائے گا۔
امریکی میڈیا کے مطابق جنگ بندی معاہدے کے تقریباً 30 دن بعد تہران آبنائے ہرمز کو کھول دے گا جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کا کہنا ہے کہ تہران کے ساتھ معاہدہ یا تو شاندار اور بامعنی ہوگا یا پھر سرے سے کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور اس صورت میں دوبارہ جنگی محاذ اور لڑائی کی طرف جانا پڑے گا جو پہلے سے کہیں زیادہ بڑی اور سخت ہوگی اور کوئی بھی ایسا نہیں چاہتا۔
ٹرمپ نے تہران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ ڈیل کو معاہدہ ابراہیمی سے جوڑتے ہوئے سعودی عرب ‘پاکستان ‘قطر‘ ترکیہ ‘ اردن ‘ مصر ودیگرممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس میں شامل ہوں اوراسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائیں ‘ٹرمپ کے بقول ممکن ہے کہ ایک یا دو ممالک کے پاس اس میں شامل نہ ہونے کی کوئی وجہ ہو اور اسے قبول کیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب پاکستان نے معاہدہ ابراہیمی کا حصہ بننے کی امریکی صدر کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے‘ پاکستان کے سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ ٹرمپ کا بیان جنگ بندی کی سفارت کاری کو معاہدہ ابراہیمی کے وسیع تر دائرے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی عکاسی کرتا ہے‘ معاہدہ ابراہیمی اور ایران ڈیل دو الگ الگ معاملات ہیں‘ یہ دونوں امور آپس میں جڑے ہوئے نہیں ہیں اور نہ ہی انہیں ایسا بنایا جا سکتا ہے۔
پاکستان پر اس طرح کے کسی بھی مطالبے کو ماننے کے لیے کوئی دباؤ نہیں ہے جبکہ سعودی عرب نے بھی امریکی صدر کی تجویز کو ٹھکرا دیا ہے۔
سعودی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ فلسطین سے متعلق اس کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ‘فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ممکن نہیں۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ممکنہ معاہدے پر تہران اور واشنگٹن کے درمیان کئی معاملات پر اتفاق رائے ہو چکا ہے تاہم کسی فوری معاہدے کی توقع نہیں کی جانی چاہیے۔
فی الحال جوہری امورپر بات چیت نہیں ہورہی جبکہ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری نے واضح کیا ہے کہ ہتھیار ڈالنے یا پیچھے ہٹنے کی کوئی گنجائش نہیں‘ علاوہ ازیں صدر مسعود پزشکیان نے ملک میں بین الاقوامی انٹرنیٹ تک رسائی کو بحال کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
امریکا ایران ممکنہ معاہدے کے اشاروں کے بعد تیل کی قیمتیں گر کر 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئیں اور اسٹاک مارکیٹوں میں تیزی کا رجحان دیکھا گیا۔ ادھر پاسداران انقلاب کی اجازت کے بعد گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید32جہازوں نے ہرمز عبورکرلی ہے۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے نئی دہلی میں صحافیوں کو بتایا کہ امریکا، ایران کے ساتھ کسی دوسرے طریقے سے نمٹنے پر غور کرنے سے پہلے سفارت کاری کو کامیاب ہونے کا ہر ممکن موقع دے گا۔
تفصیلات کےمطابق باقر قالیباف اورعباس عراقچی قطر کے امیر اور اعلیٰ حکام سے مذاکرات کے لیے دوحہ پہنچ گئے ہیں ‘برطانوی اورفرانسیسی خبر ایجنسیوں نے ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران کے دونوں سینئر عہدیدار قطر کے وزیرِاعظم سے اہم علاقائی اور سفارتی امور پر بات چیت کریں گے۔
مذاکرات میں بالخصوص ہرمز اور ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر سے متعلق امور زیرِ بحث آئیں گے۔ایران کے مرکزی بینک کے سربراہ عبدالناصر ہمتی بھی منجمد اثاثوں پر سے پابندیوں کے خاتمے اور اقتصادی مذاکراتی کمیشن کے سلسلے میں قطر پہنچے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کے ایک سفارتی ذریعے کا حوالہ دیتے ہوئے جاپانی اخبار نے رپورٹ کیا کہ امریکہ اور ایران ایک ایسے منصوبے پر بحث کر رہے ہیں جس کے تحت جنگ بندی کے معاہدے کے تقریباً 30 دن بعد آبنائے ہرمز کو کھول دیا جائے گا۔ایران اس 30 دن کی مہلت کے دوران آبنائے سے بارودی سرنگیں صاف کرے گا۔
ادھر صدر ٹرمپ نے معاہدہ ابراہیمی کومزید وسعت دینے کی تجویز دیتے ہوئے پاکستان اور سعودی عرب سمیت خطے کے متعدد مسلم ممالک پر اس میں شامل ہونے پر زور دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ٹرمپ نے لکھا کہ تہران کے ساتھ مذاکرات نہایت اچھے انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں‘ یہ صرف ایک عظیم معاہدہ ہوگا جو سب کے لیے فائدہ مند ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا







