
**جھنگ ٹریفک پولیس کا مثبت چہرہ: کانسٹیبل نعمان کے رویے نے دل جیت لیے**
اکثر ٹریفک ناکوں کو لوگ صرف چالان اور سختی سے جوڑتے ہیں، مگر آج مجھے جھنگ ٹریفک پولیس کے ایک ایسے مثبت اور خوشگوار رویے کا سامنا ہوا جس نے میرے خیالات بدل دیے۔
میں کسی ضروری کام کے سلسلے میں صدر کی طرف جا رہا تھا کہ سینٹرل جیل کے باہر ٹریفک پولیس کا ناکہ لگا ہوا تھا۔ وارڈن نے دور سے ہی نہایت منظم انداز میں مجھے بائیک ایک طرف لگانے کا کہا۔ اس دوران کانسٹیبل نعمان نے انتہائی شائستگی، تحمل اور پیشہ ورانہ انداز میں مجھے آگاہ کیا کہ ہیلمٹ نہ پہن کر میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہوں۔
انہوں نے نہ صرف قانون کی اہمیت سمجھائی بلکہ میرے ڈرائیونگ لائسنس کے متعلق دریافت کیا۔ جب میں نے بتایا کہ میرا لرنر بنا ہوا ہے مگر مستقل لائسنس ابھی تک نہیں بنا، تو کانسٹیبل نعمان نے سختی کے بجائے رہنمائی اور مثبت رویہ اپنایا۔
قابلِ ذکر اور متاثر کن بات یہ تھی کہ ان کا خوش اخلاق اور مہذب رویہ صرف میرے ساتھ ہی نہیں تھا، بلکہ میں نے خود دیکھا کہ وہ جس بھی شہری کو روک رہے تھے، ہر ایک کے ساتھ نہایت احترام، صبر اور شائستگی سے پیش آ رہے تھے۔ ان کے لہجے، رویے اور اندازِ گفتگو میں ایک حقیقی عوامی خدمت کا جذبہ نمایاں تھا، جو یقیناً قابلِ تعریف ہے۔
مزید قابلِ ستائش بات یہ تھی کہ انہوں نے اپنی ٹیم کے ایک اہلکار کو میرے ساتھ قریبی خدمت مرکز بھیجا تاکہ میں لائسنس کے عمل کو مکمل کر سکوں۔ خدمت مرکز کے عملے نے بھی انتہائی خوش اخلاقی اور بہترین انداز میں رہنمائی فراہم کی۔
یہ واقعہ اس بات کی خوبصورت مثال ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اگر حسنِ اخلاق، شعور اور خدمت کے جذبے کے ساتھ کام کریں تو عوام کے دلوں میں اعتماد اور احترام مزید بڑھتا ہے۔
میں کانسٹیبل نعمان، ان کی پوری ٹیم اور جھنگ ٹریفک پولیس کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں کہ وہ صرف قانون کی پاسداری نہیں کرا رہے بلکہ اپنے رویے، شائستگی اور عوامی خدمت سے ایک مثبت مثال قائم کر رہے ہیں۔







