یومِ مزدوراں: نعروں کے حصار سے عمل کی شاہراہ تک

یومِ مزدوراں: نعروں کے حصار سے عمل کی شاہراہ تک
تحریر: رفیع صحرائی
آج یکم مئی ہے۔ جی ہاں یکم مئی، یعنی وہ دن جب دنیا بھر کا کیلنڈر سرخ رنگ سے عبارت ہوتا ہے۔ جب دنیا بھر میں شگاگو کے مزدوروں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے یہ عہد کیا جاتا ہے کہ مزدور کو معاشرے میں باعزت مقام اور بہتر مشاہرہ دینے کے لیے عملی اقدام اور جدوجہد کی جائے گی۔
شکاگو کے جاں نثاروں کی یاد میں منایا جانے والا یہ دن پاکستان میں بھی روایتی جوش و خروش، بلند آہنگ نعروں اور ایئر کنڈیشنڈ ہالز میں سجی تقاریب کے ساتھ طلوع ہوتا ہے مگر جب شام ڈھلتی ہے اور ریڈیم کی روشنیوں میں ڈوبے ہوئے سیمینارز ختم ہوتے ہیں تو ایک سوال اپنی پوری تلخی کے ساتھ وہیں کھڑا رہ جاتا ہے: کیا یہ دن واقعی اُن ہاتھوں کا ہے جو معیشت کا پہیہ گھماتے ہیں؟ یا یہ محض اشرافیہ کی نمائشی ہمدردی اور چند رسمی لفظوں کا سالانہ خراج ہے؟ جن مزدوروں کے لیے شان دار تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا اور بعد میں پُرتعیّش کھانا تناول فرمایا گیا تھا وہ مزدور خود اس وقت کہاں تھے؟
ہر سال یہی عمل دہرایا جاتا ہے کہ جس وقت شہر کے مہنگے ترین ہوٹلوں میں مزدور کی عظمت پر قصیدے پڑھے جا رہے ہوتے ہیں، عین اسی لمحے اینٹوں کے تپتے ہوئے بھٹوں، گرد آلود فیکٹریوں اور شہر کے بے رحم چوکوں پر مزدور تپتی دھوپ میں رزقِ حلال کی تگ و دو میں مصروف ہوتے ہیں۔ سیکڑوں پلّے دار غلہ منڈیوں میں گندم لوڈ اور ان لوڈ کر رہے ہوتے ہیں۔ جھلستی دوپہر میں اینٹیں اور گارا سر پر اٹھائے اپنے خاندان کی روٹی کا بندوبست کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ ایک ایسا تضاد ہے جو ہمارے معاشرتی ڈھانچے کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ جن کے نام پر دنیا بھر کی طرح ہمارے ہاں بھی پورے ملک میں تعطیل ہوتی ہے، وہی اس دن کی آسائش سے محروم رہتے ہیں۔
مزدور کی پھٹی ہوئی ایڑیاں اور پسینے سے شرابور قمیض ہمارے معاشی نظام کا وہ نوحہ ہے جسے ہم ہر سال بلند آواز میں پڑھتے تو ہیں مگر اس کا مداوا کرنے سے کتراتے ہیں۔ کتنا بڑا المیہ ہے کہ وہ مزدور جو دوسروں کے محل تعمیر کرتا ہے خود اپنے لیے چھت کو ترستا ہے، جو دوسروں کے لیے ریشم بُنتا ہے، اس کے اپنے بچوں کے تن پر پیوند لگے کپڑے ہوتے ہیں۔
ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ ہم نے ’’ انسان‘‘ کو اس کے منصب اور جیب سے ناپنا شروع کر دیا ہے۔ ایک طرف ہم مزدور کے حقوق کی لمبی فہرستیں پیش کرتے ہیں، دوسری طرف عملی زندگی میں اسی محنت کش کو اپنی محفلوں کے لائق نہیں سمجھتے۔ اس سے ہاتھ ملانا پسند نہیں کرتے۔ اس کی بات پر توجہ نہیں دیتے۔ یہ ایسا دوغلا پن ہے جو خطرناک سماجی ناانصافی کو جنم دے رہا ہے۔
جدیدیت اور نام نہاد سٹیٹس سمبل (Status Symbol)کی دوڑ نے ہمیں اخلاقی دیوالیہ پن کی طرف دھکیل دیا ہے۔ یہ ایک کڑوا سچ ہے کہ آج ہم دوسروں کو متاثر کرنے کے لیے جیتے ہیں، نہ کہ انسانیت کی خدمت کے لیے۔ کسی محنت کش کو محض اس کی غربت کی وجہ سے کم تر محسوس کروانا دراصل اپنی اخلاقی گراوٹ کا اشتہار دینا ہے۔ من حیث القوم ہماری اکثریت اس اخلاقی دیوالیہ پن اور گراوٹ میں مبتلا ہے۔
معاشرتی توازن اس وقت مزید بگڑ جاتا ہے جب ہم شادی بیاہ کی تقریبات اور روزمرہ زندگی میں اسراف اور نمود و نمائش کو اوڑھنا بچھونا بنا لیتے ہیں۔ مہنگے برانڈز کا جنون دراصل ایک نفسیاتی بیماری کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ شادیوں اور دیگر تقریبات پر زرق برق لباس، کئی طرح کے کھانے، فضول رسومات پر بے جا اور بے تحاشا اسراف محنت کش طبقے کو احساسِ کمتری میں مبتلا کرنے کا سبب بنتا ہے۔
دلچسپ مگر تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ وہی طبقہ جو بڑے بڑے آئوٹ لیٹس پر ہزاروں روپے کی خریداری کرتے ہوئے ایک روپے کی رعایت نہیں مانگتا، سڑک کنارے ریڑھی لگانے والے بوڑھے سے دس پانچ روپے کم کروانے کے لیے آدھا گھنٹہ بحث کرتا ہے۔ یہ رویہ صرف معاشی ناانصافی نہیں بلکہ اس محنت کش کی تذلیل ہے جو خیرات نہیں مانگ رہا بلکہ اپنی محنت بیچ رہا ہے۔
اگر آپ نظر دوڑائیں تو اپنے اردگرد ایسے بے شمار چہرے نظر آئیں گے جو معاشرے کا اصل حسن ہیں۔ وہ سفید پوش جو سائیکل پر غبارے بیچ رہا ہے، وہ بوڑھی ماں جو تپتی دوپہر میں سڑک کنارے ٹافیاں سجا کر بیٹھی ہے یا وہ نو عمر لڑکا جو کتابوں کا بوجھ اٹھانے کی عمر میں مزدوری کی گٹھڑی اٹھائے ہوئے ہے۔ یہ لوگ ریاست سے مراعات نہیں مانگتے، یہ امیر بننے کے خواب بھی نہیں دیکھتے؛ ان کی واحد تمنا ’’ عزتِ نفس کے ساتھ جینا‘‘ ہے۔ ان کی خاموشی میں ایک کربناک داستان ہوتی ہے مگر ان کے ماتھے کا پسینہ ان کے ایمان کی گواہی دیتا ہے۔ یہی وہ طبقہ ہے جس کے دم سے معاشرے میں برکت اور وقار قائم ہے۔
یاد رکھیے! نعروں سے عمل تک یومِ مزدوراں محض تقویم کا ایک ورق نہیں بلکہ اپنے گریبانوں میں جھانکنے کا ایک موقع ہے۔ اگر ہم واقعی تبدیلی چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی ترجیحات کو بدلنا ہوگا۔ اس کے لیے ہمیں چاہیے کہ محنت کش کو حقیر سمجھنے کے بجائے اسے ’’ معاشی ہیرو‘‘ کا درجہ دیں۔ بڑے مالز کے بجائے چھوٹے دکانداروں اور ریڑھی والوں سے خریداری کریں تاکہ پیسہ نچلے طبقے تک پہنچے اور اس طبقے کو کچھ معاشی آسودگی حاصل ہو۔ مزدور کو اس کا حق یعنی محنتانہ وقت پر ادا کریں۔ حدیثِ نبویؐ کے مطابق: ’’ مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ سوکھنے سے پہلے ادا کرو‘‘۔ کو اپنا منشور بنائیں۔ ہمیں سادگی کے کلچر کو فروغ دینا چاہیے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ہم اپنی خوشیوں کو سادگی سے منائیں تاکہ کسی غریب میں احساسِ محرومی پیدا نہ ہو۔
یومِ مزدوراں صرف ایک دن نہیں، ایک پوری فکر اور احساس کا نام ہے۔ اگر اس دن کو بھی ہم نے محض اخباری بیانات اور سوشل میڈیا پوسٹس تک محدود رکھا تو یہ محنت کرنے والے کروڑوں ہاتھوں کے ساتھ سنگین مذاق ہوگا۔ آج ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ مزدور کی تکریم صرف یکم مئی کا فریضہ نہیں بلکہ ہمارے ایمان اور اخلاق کا مستقل حصہ ہے۔ جس دن محنت کش کو اس کا پسینہ سوکھنے سے پہلے اس کا جائز حق اور معاشرے میں وہ مقام مل گیا جس کا وہ مستحق ہے تو وہی دن اصل معنوں میں ’’ یومِ مزدور‘‘ کہلانے کا حقدار ہوگا۔






