Column

’ ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات‘‘ 

’’ ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات‘‘

شہر خواب ۔۔۔

صفدر علی حیدری ۔۔۔

تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں

ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات

یہ محض شعری اظہار نہیں بلکہ معاشرتی حقیقت کا عکاس ہے۔ یہ شعر بطور خاص پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے موجودہ حالات پر فٹ بیٹھتا ہے۔

اعداد و شمار کو چھوڑ دیجیے کہ مہنگائی کا عکس غریب کے چہروں پر صاف دکھائی پڑتا ہے۔ آج کا مزدور، دیہاڑی دار، کم تنخواہ والا ملازم اور نچلے متوسط طبقے کا فرد ایسی معاشی گرفت میں جکڑا ہوا ہے جہاں محنت بڑھتی جا رہی ہے مگر ثمر کم ہوتے جا رہے ہیں۔ وطن عزیز میں غربت، مہنگائی اور بے روزگاری ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ایسی زنجیر بن چکی ہیں جس نے عام آدمی کی زندگی کو دشوار بنا دیا ہے۔ یہ تینوں مسائل الگ الگ نہیں بلکہ ایک دوسرے کو پیدا کرتے اور تقویت دیتے ہیں۔

غربت صرف آمدنی کی کمی کا نام نہیں بلکہ مواقع کی کمی، تعلیم کی کمی، صحت کی سہولیات کی کمی اور سماجی تحفظ کے فقدان کا مجموعہ ہے۔ پاکستان میں غربت کی بنیادی وجہ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہے ۔ قومی دولت کا بڑا حصہ ایک محدود طبقے کے پاس جمع ہے جب کہ ملک کی غالب اکثریت بنیادی ضروریات کے لیے بھی ہاتھ پاں مارتی دکھائی دیتی ہے ۔

دیہی علاقوں میں صورت حال زیادہ پیچیدہ ہے۔ زمین کی ملکیت بڑے خاندانوں تک محدود ہے۔ چھوٹے کاشتکار قرض کے بوجھ تلے دبے رہتے ہیں۔ فصل خراب ہو جائے تو پورا سال متاثر ہو جاتا ہے۔ فصلوں کی آمدنی، کسان کی محنت اور سرمائے کا منہ چڑاتی ہے ۔

شہروں میں غربت کا چہرہ مختلف مگر تکلیف ایک جیسی ہے۔ یہاں لوگ کچی آبادیوں میں رہتے ہیں، کرائے، بجلی، گیس اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات ان کی آمدنی کا بڑا حصہ کھا جاتے ہیں۔

غربت کا ایک اور پہلو بین النسلی ہے ۔ یعنی غریب کا بچہ بھی اکثر غریب رہ جاتا ہے۔ تعلیم مہنگی ہو جائے تو بچہ اسکول چھوڑ دیتا ہے۔ بچپن میں مزدوری شروع ہوتی ہے اور یوں غربت کا دائرہ ٹوٹنے کے بجائے مضبوط ہو جاتا ہے ۔مہنگائی غربت کو مزید گہرا کرتی ہے۔ جب اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو سب سے زیادہ اثر نچلے طبقے پر پڑتا ہے۔ امیر آدمی اپنی طرز زندگی میں معمولی تبدیلی لاتا ہے مگر غریب آدمی کے لیے مہنگائی کا مطلب ہے،کھانے میں کمی، بچوں کی تعلیم چھوڑنا، علاج موخر کرنا، قرض لینا۔

جب آٹا، چاول، دال، گھی، دودھ اور سبزی مہنگی ہو جائیں تو دسترخوان سکڑ جاتا ہے۔ گوشت تو پہلے ہی غریب سے دور دور رہتا تھا ، اب دال بھی مہنگی ہو جائے تو غذائی قلت پیدا ہوتی ہے۔

مہنگائی صرف خوراک تک محدود نہیں۔ بجلی کے بل، گیس کے نرخ، پٹرول کی قیمتیں، ٹرانسپورٹ کے اخراجات، یہ سب بڑھتے ہیں تو ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے۔ یوں مہنگائی ایک سلسلہ وار ردعمل پیدا کرتی ہے جس کا اختتام عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ ہے۔

بے روزگاری غربت کی ماں ہے تو مہنگائی گویا اس کا باپ ۔

پاکستان کے بارے کہا جاتا ہے ہے کہ نوجوانوں کی تعداد کا تناسب دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے مگر حالت یہ ہے کہ سب سے زیادہ پریشان بھی یہی ہیں ۔ اکثر بے مقصد سرگرمیوں میں اپنا وقت برباد کر رہے ہیں ۔ ظاہر ہے جب روزگار کے مواقع نہیں ہوں گے۔ جب کچھ کرنے اور آگے بڑھنے کو نہیں ہو گا تو پھر وقت کا ضیاع ہی دیکھنے کو ملے گا۔

نوجوانوں کی بڑی تعداد ہر سال تعلیم مکمل کر کے مارکیٹ میں آتی ہے مگر روزگار کے مواقع محدود ہیں۔ صنعتوں کی کمی، کاروباری ماحول کی غیر یقینی صورتحال اور مہنگی توانائی روزگار کے مواقع کم کرتی ہے۔

تعلیم اور روزگار کے درمیان عدم مطابقت بھی ایک مسئلہ ہے۔ ہزاروں نوجوان ڈگریاں لے کر نکلتے ہیں مگر مارکیٹ کو ہنر مند افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔ تکنیکی تعلیم کا فقدان نوجوانوں کو بے روزگار رکھتا ہے۔

دیہاڑی دار مزدور کی حالت اور بھی غیر مستحکم ہے۔ کام ملا تو کھانا پکا، نہیں ملا تو فاقہ۔ یہی وہ کیفیت ہے جسے شاعر نے ’’ تلخ اوقات ‘‘ کہا۔

مزدور طبقہ مہنگائی، غربت اور بے روزگاری کے تینوں حملوں کا شکار ہوتا ہے۔ مزدوری کم، کام غیر یقینی، مہنگائی مسلسل۔

ایک مزدور کی روزانہ آمدنی محدود ہوتی ہے مگر اخراجات بڑھتے جاتے ہیں۔ کرایہ، راشن، بچوں کی فیس، دوا، سب کچھ بڑھتا ہے مگر مزدوری وہی رہتی ہے۔

بہت سے مزدور قرض لے کر زندگی گزارتے ہیں۔ دکان دار سے ادھار، رشتہ دار سے مدد، یا مقامی سود پر قرض، یہ سب غربت کے دائرے کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔

مہنگائی صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ سماجی تبدیلی بھی پیدا کرتی ہے۔ شادیوں میں سادگی یا تاخیر، خاندانی تنازعات میں اضافہ، ذہنی دبائو اور ڈپریشن۔ جرائم میں اضافہ۔ جب بنیادی ضروریات پوری نہ ہوں تو معاشرے میں بے چینی بڑھتی ہے۔ نوجوان مایوسی کا شکار ہوتے ہیں۔ بعض اوقات غیر قانونی راستے اختیار کرنے لگتے ہیں ۔ کچھ نشے کی تاریک وادی میں کا نکلتے ہیں۔

دیہی علاقوں میں لوگ کھانے کے لیے کچھ نہ کچھ پیدا کر لیتے ہیں، مگر نقدی کی کمی ہوتی ہے۔ شہروں میں نقدی ضروری ہے مگر آمدنی محدود ہوتی ہے۔ اس لیی شہری غربت زیادہ نمایاں ہوتی ہے۔

شہری مزدور کرایہ، ٹرانسپورٹ اور یوٹیلیٹی بلز کے باعث زیادہ دبائو میں ہوتا ہے۔ دیہی مزدور کا مسئلہ موسمی بے روزگاری ہے۔ خواتین غربت کا دوہرا بوجھ اٹھاتی ہیں۔ گھریلو اخراجات کی ذمہ داری، کم مواقع، کم تنخواہ۔

بہت سی خواتین گھروں میں سلائی، پیکنگ یا گھریلو کام کر کے آمدنی میں حصہ ڈالتی ہیں مگر ان کی محنت کا معاوضہ کم ہوتا ہے۔

غربت کا سب سے زیادہ اثر بچوں پر پڑتا ہے۔ تعلیم چھوڑ دینا، کم عمری میں مزدوری، غذائی قلت صحت کے مسائلبچے جب اسکول چھوڑتے ہیں تو مستقبل کے مواقع کم ہو جاتی ہیں۔ یوں غربت نسل در نسل منتقل ہوتی ہے۔متوسط طبقہ بھی دبائو کا شکار ہے۔ تنخواہ دار طبقہ محدود آمدنی پر زندگی گزار رہا ہے۔ مہنگائی بڑھنے سے ان کی بچت ختم ہو جاتی ہے۔ قرض، قسطیں اور بل زندگی کو مشکل بنا دیتے ہیں۔

یہ طبقہ غربت کی طرف سرکنے لگتا ہے۔ یوں معاشرے میں معاشی عدم توازن بڑھتا ہے۔

ان مسائل سے نمٹنے کے لیے کچھ کام کیے جا سکتے ہیں:

1۔ روزگار کے مواقع بڑھانا۔

2۔ چھوٹے کاروبار کی حوصلہ افزائی۔

3۔ تکنیکی تعلیم کو فروغ دینا۔

4۔ مہنگائی پر کنٹرول۔

5۔ زرعی اصلاحات۔

6۔ سماجی تحفظ کے پروگرام۔

7کم از کم اجرت میں اضافہ۔

8۔ صنعتوں کو سہولیات فراہم کرنا۔

9۔ کاروبار کے لیے بلا سود چھوٹے چھوٹے قرضے دینا ۔

’’ ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے ایّام‘‘

آج کے معاشی حالات کی مکمل تصویر ہے۔ غربت، مہنگائی اور بے روزگاری ایک دوسرے سے جڑے ہوئے مسائل ہیں۔ جب تک ان کا مربوط حل تلاش نہیں کیا جاتا، عام آدمی کی مشکلات کم نہیں ہوں گی۔

مزدور کی زندگی آج بھی جدوجہد کا نام ہے۔ وہ صبح امید لے کر نکلتا ہے اور شام کو تھکن کے ساتھ لوٹتا ہے۔ اس کے خواب سادہ ہیں، دو وقت کی روٹی، بچوں کی تعلیم، اور سر پر چھت۔ مگر موجودہ حالات میں یہ خواب بھی مشکل ہوتے جا رہے ہیں۔

معاشرے کی ترقی کا اصل پیمانہ یہی ہے کہ کمزور طبقہ کس حال میں ہے۔ اگر مزدور خوشحال ہو تو معیشت مضبوط ہوتی ہے۔ اگر مزدور پریشان ہو تو معاشرہ بھی عدم استحکام کا شکار ہو جاتا ہے۔

اسی لیے ضروری ہے کہ معاشی پالیسیاں عام آدمی کو سامنے رکھ کر بنائی جائیں، تاکہ بندہ مزدور کے یہ تلخ ایام کسی قدر کم ہو سکیں

کل ہمارے شہر میں ایک حادثہ رونما ہوا جس پر افسانچہ پیش خدمت ہے ۔۔۔

خرچہ

صفدر علی حیدری ۔۔۔۔

ایک مزدور کا بیٹا اپنی ماں سے اپنے باپ کی شکایت کر رہا تھا۔

’’ ابّا کیوں ہمارے خرچے پورے نہیں کرتے‘‘ ،’’ ڈھنگ کا کھانے کو ملتا ہے نہ پہننے کو ۔ جیب خرچ تک ہاتھ پر نہیں رکھا جاتا۔ جب پال نہیں سکتے تھے تو ہمیں پیدا کیوں کیا؟‘‘۔

ماں خاموش رہی۔ اس کے پاس الفاظ نہیں تھے، صرف تھکی ہوئی آنکھیں تھیں۔

دو گھنٹے بھی نہ گزرے تھے کہ گلی میں شور اٹھا۔ ایک مزدور کو کرنٹ لگ گیا تھا۔

وہ بے چارہ ایک اونچی چھت پر کام کرتے ہوئے حادثے کا شکار ہوا۔ اسے ایک زوردار جھٹکا لگا، جسم کانپا، توازن بگڑا اور وہ لہرا کر نیچے آ گرا۔

چند لمحوں میں کہانی ختم ہو گئی۔

لوگ جمع ہو گئے۔ کسی نے پانی مانگا، کسی نے ایمبولینس، مگر مزدور کی سانسیں جا چکی تھیں۔

لاش گھر پہنچی تو بیوی کی چیخ نکل گئی۔

بچہ سُن ہو کر باپ کے بے جان چہرے کو دیکھتا رہا۔

پھر ماں کے قریب آ کر بولا ’’ امّاں، اب خرچے کیسے پورے ہوں گے؟‘‘۔

ماں نے آنسوئوں میں بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھا۔

اور پہلی بار لڑکے کو احساس ہوا کہ کبھی کبھی خرچے پورے نہ کرنے والا باپ، اصل میں اپنی جان لگا کر گھر کو قائم رکھے ہوتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button