
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ نے پاکستان کی گزشتہ دو سال کی اجتماعی معاشی کاوشوں کو متاثر کیا ہے اور اس کے نتیجے میں معیشت پر دباؤ بڑھا ہے۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان نے خطے میں امن کے قیام کے لیے خلوص نیت سے کوششیں کیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایران اور امریکا کے درمیان 21 گھنٹے طویل مذاکرات ہوئے اور فی الحال فریقین کے درمیان سیز فائر برقرار ہے۔
وزیراعظم کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عمان اور روس کا بھی دورہ کیا اور اپنی قیادت سے مشاورت کے بعد ردعمل دینے کا عندیہ دیا۔
شہباز شریف نے کہا کہ اس جنگ کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا، جس سے غیر معمولی معاشی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ سے پہلے پاکستان کا ایک ہفتے کا تیل کا بل تقریباً 30 کروڑ ڈالر تھا، جو اب بڑھ کر 80 کروڑ ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بڑھتی ہوئی عالمی قیمتوں نے پاکستان کی معاشی استحکام کی کوششوں کو متاثر کیا ہے، تاہم حکومت چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔ وزیراعظم کے مطابق پاکستان نے ساڑھے تین ارب ڈالر کے بیرونی قرضے واپس کیے ہیں اور اس حوالے سے سعودی عرب کی قیادت کے تعاون پر شکر گزار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پبلک ٹرانسپورٹ اور دیگر شعبوں میں سبسڈی برقرار رکھنے کے لیے صوبوں کے ساتھ مشاورت جاری ہے۔






