تعلیم کے نام پر ایک اور ناکام تجربہ

تعلیم کے نام پر ایک اور ناکام تجربہ
تحریر : رفیع صحرائی
پنجاب میں محکمہ تعلیم ایک عرصے سے ایسے تجربات کی زد میں ہے جنہوں نے تعلیمی نظام کو استحکام دینے کے بجائے اسے غیر یقینی اور انتشار کا شکار بنا دیا ہے۔ بظاہر یہ سب اقدامات اصلاحات کے نام پر کیے جاتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کے نتائج اکثر الٹ نکلتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے محکمہ تعلیم کو ایک سنجیدہ قومی شعبے کے بجائے تجربہ گاہ بنا دیا گیا ہو جہاں ہر سال کوئی نہ کوئی نیا نسخہ آزمایا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے یہ تجربات طلبہ کے مستقبل کے ساتھ کیے جا رہے ہیں۔
گزشتہ چند برسوں کی پالیسیوں پر نظر ڈالی جائے تو ایک عجیب سا تضاد سامنے آتا ہے۔ کبھی اعلان کیا جاتا ہے کہ پانچویں اور آٹھویں جماعت کے امتحانات ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کے تحت ہوں گے، پھر اگلے ہی سال کہا جاتا ہے کہ اسکولز خود امتحانات لیں گے۔ پھر اچانک فیصلہ ہوتا ہے کہ آٹھویں جماعت کا امتحان پیکٹا کے تحت لیا جائے گا۔ اس کے بعد ایک اور اعلان سامنے آتا ہے کہ صرف چار مضامین کا امتحان پیکٹا لے گا جبکہ باقی پیپرز اسکول خود منعقد کریں گے۔ یہ مسلسل تبدیلیاں اس بات کی عکاس ہیں کہ فیصلے کسی واضح حکمتِ عملی کے تحت نہیں کیے جا رہے بلکہ وقتی اور عارضی سوچ کے تحت کیے جا رہے ہیں۔ اس سے نہ صرف تعلیمی اداروں میں کنفیوعن پیدا ہوتا ہے بلکہ طلبہ اور اساتذہ بھی شدید ذہنی دبائو کا شکار ہو جاتے ہیں۔
اس صورتحال کی ایک تازہ مثال حالیہ امتحانی شیڈول کا بحران ہے۔ پیکٹا کی جانب سے پورے پنجاب کے لیے سالانہ امتحانات 2026کی ڈیٹ شیٹ 3مارچ کو جاری کی گئی۔ طلبہ نے اسی ڈیٹ شیٹ کے مطابق اپنی تیاری شروع کر دی۔ اس شیڈول کے مطابق امتحانات کا آغاز 9مارچ سے ہونا تھا اور 25مارچ تک جاری رہنا تھے جبکہ 31مارچ کو اول تا ہفتم جماعت کے نتائج کا اعلان ہونا تھا۔
طلبہ اپنی تیاری میں مصروف تھے کہ 6مارچ کو اسکولوں کی چھٹی کے بعد سہ پہر کے وقت اچانک نظرِ ثانی شدہ ڈیٹ شیٹ جاری کر دی گئی۔ اس تبدیلی کی وجہ یہ بتائی گئی کہ پرائمری کلاسز کے امتحانات عید سے پہلے مکمل کیے جائیں گے۔ بظاہر یہ ایک انتظامی فیصلہ تھا جس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے تھا، مگر اصل مسئلہ اس کے نفاذ کے طریقے میں سامنے آیا۔ نئی ڈیٹ شیٹ میں صرف تاریخیں ہی تبدیل نہیں کی گئیں بلکہ پہلے دن کے پیپرز سمیت تمام مضامین کی تاریخیں بھی بدل دی گئیں۔ مثلاً پہلے دن جماعت سوم میں اسلامیات کی جگہ اردو، جماعت چہارم میں ریاضی کی جگہ سائنس اور جماعت پنجم میں اسلامیات کی جگہ انگریزی کا پرچہ مقرر کر دیا گیا۔ یہ تبدیلی جمعہ کے دن اسکولوں کی چھٹی کے بعد جاری کی گئی جبکہ ہفتہ اور اتوار کو تعطیل ہوتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ طلبہ کو اس تبدیلی کی خبر ہی نہ ہو سکی۔
جب 9مارچ کو طلبہ امتحان دینے کے لیے اسکول پہنچے تو ان کے سامنے نئے مضامین کے پرچے رکھ دئیے گئے۔ آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ ان بچوں پر کیا گزری ہو گی جو ایک مضمون کی تیاری کر کے آئے تھے اور انہیں اچانک کسی دوسرے مضمون کا پرچہ حل کرنا پڑ گیا۔ اساتذہ بھی شدید پریشانی میں مبتلا تھے کیونکہ انہیں خود اس صورتحال کا علم آخری وقت پر ہوا تھا۔ مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ بعض اسکولوں میں پرانی ڈیٹ شیٹ کے مطابق امتحان لے لیا گیا جبکہ دیگر اداروں میں نئی ڈیٹ شیٹ کے مطابق پرچے ہوئے۔ نتیجتاً جب طلبہ گھروں کو لوٹے تو انہوں نے آپس میں پرچے شیئر کر لیے۔ اس طرح پر آنے والے امتحانی پرچے منظر عام پر آ گئے ہیں اور پورا امتحانی نظام مشکوک ہو کر رہ گیا ہے۔
یہ معاملہ کسی معمولی انتظامی غلطی کا نہیں بلکہ ایک سنگین ادارہ جاتی ناکامی کا مظہر ہے۔ طلبہ کی سال بھر کی محنت کو ایک فیصلے نے بے معنی بنا دیا۔ اس سے محکمہ تعلیم اور امتحانی نظام کی ساکھ کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس درجے کی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ تو عام گھریلو یا داخلی امتحانات میں بھی نہیں کیا جاتا مگر یہاں پورے صوبے کے لاکھوں بچوں کے مستقبل کے ساتھ کھیل لیا گیا۔ اصل مسئلہ یہی ہے کہ ہمارے ہاں فیصلے پہلے کر لیے جاتے ہیں اور ان کے مضمرات پر بعد میں سوچا جاتا ہے۔ پالیسی سازی کے عمل میں نہ تو زمینی حقائق کو مدنظر رکھا جاتا ہے اور نہ ہی اساتذہ اور تعلیمی ماہرین سے مشاورت کی جاتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہر چند ماہ بعد ایک نیا بحران جنم لے لیتا ہے۔
امتحانات کو مذاق بنانے والے اس معاملے کی مکمل اور شفاف تحقیق ہونی چاہیے اور ذمہ داران کا تعین کر کے انہیں فوری طور پر عہدوں سے ہٹایا جانا چاہیے تاکہ یہ واضح پیغام جائے کہ طلبہ کے مستقبل کے ساتھ کھیلنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جا سکتی۔ یہ بھی معلوم کیا جانا چاہیے کہ آخر اس قدر غیر سنجیدہ فیصلہ سازی کے پیچھے کون سی سوچ کارفرما ہے۔ عوام یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ کسی بااثر ذمہ دار کے ذاتی مفادات یا سہولت کو پورے تعلیمی نظام پر ترجیح دے دی گئی ہو؟ اگر کسی ایک فرد کی خواہش یا سہولت کی خاطر پورے پنجاب کے لاکھوں بچوں کے امتحانات کا شیڈول تبدیل کیا گیا ہے تو یہ محض بدانتظامی نہیں بلکہ بدترین ناانصافی ہے۔
تعلیم کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔ اگر اسی بنیاد کو غیر سنجیدگی اور عارضی فیصلوں کے حوالے کر دیا جائے تو پھر ترقی کے دعوے محض نعرے بن کر رہ جاتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ محکمہ تعلیم کو تجربات کی لیبارٹری بنانے کے بجائے ایک سنجیدہ اور مستحکم ادارہ بنایا جائے جہاں فیصلے سوچ سمجھ کر کیے جائیں اور سب سے بڑھ کر طلبہ کے مفاد کو مقدم رکھا جائے۔




