مزاحمت کی دلدل میں پھنستا ہاتھی

مزاحمت کی دلدل میں پھنستا ہاتھی
تحریر : عبد الحنان راجہ
موجودہ دنیا اور اقوام عالم سے تعلقات جذبات کے متقاضی ہیں اور نہ نعروں کے محتاج، مفادات دیکھ کر حکمت عملی ترتیب دی جاتی ہے اور دوستوں اور طاقتوروں کے درمیان توازن قائم رکھنا ہی کامیابی کی ضمانت۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان پہلی بار اپنی تاریخ کے مشکل ترین سفارتی محاذ پر نبرد آزما ہے کہ ایک طرف سعودیہ سے دفاعی معاہدے کے تقاضے ہیں تو دوسری طرف امت مسلمہ کا حیا اور عوامی جذبات، بدمست ہاتھی سے عزت اور معیشت بھی بچانی ہے تو اسرائیلی، بھارتی اور افغانستان کی ریشہ دوانیاں بھی ناکام بنانی ہیں۔ یہ کام اس وقت مزید مشکل ہو جاتا ہے کہ جب ملک کے اندر کے کچھ ناعاقبت اندیش سفارتی پل صراط سے پاکستان کو گرانے کے لیے سوشل میڈیا کے محاذ پر سرگرم ہوں صد شکر کہ فیلڈ مارشل کہ جو اس وقت چومکھی لڑائی میں مصروف اور خارجہ محاذ بھی سنبھالے ہوئی ہیں سعودی عرب کو باوجود دبائو کے ایران کے خلاف فضائی و زمینی حدود کے استعمال سے روکے ہوئے ہیں اور ایرانی حملوں کے جواب سے بھی، سید عاصم منیر اگر ایران اور سعودی عرب کو آمنے سامنے آنے سے روکنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یقین جانئیے کہ ایٹمی طاقت کے بعد شاید یہ پاکستان کی سب سے بڑی کامیابی کہ 30لاکھ سے زائد پاکستانی سعودی عرب میں اور یہاں سے آنے والا زر مبادلہ دم توڑتی معیشت کی سانسیں بحال رکھے ہوئے ہے تو دوسری طرف حرمین شریفین کی حفاظت کے معاہدہ کے تقاضے جبکہ ایران کے خلاف جنگ کا حصہ بننا گویا امت مسلمہ کے وقار کو پائوں تلے روندنا وہ بھی ان حالات میں کہ پاکستان کے ہر شہری کا دل ایران کے لیے دھڑک رہا ہے۔ معروضی حالات میں دانش مندی اور حکمت سے سرمو انحراف پاکستان کے لیے کتنا خطر ناک ثابت ہو سکتا ہے عام تو عام اچھے بھلے پڑھے لکھے اپنے مادر وطن کی نازک پوزیشن کے خیال سے نابلد۔
ان حالات میں پاکستان کا کردار اب تک معتبر اور مخلصانہ کہ وہ جنگ کے دائرہ کو مسلم دنیا میں پھیلنے سے روکے ہوئے ہے۔ ترکیہ بھی سرگرم اور اب
کرائون پرنس بھی متحرک۔ جب دنیا یہ سمجھ رہی تھی کہ ایران اور عرب دنیا کے درمیان جنگ ناگزیر ہو چکی ہے، تب پاکستان کی فوجی قیادت خاموش، مگر جارحانہ سفارت کاری سے ناممکن کو ممکن کر دکھا رہی ہے، اب دعا ہے کہ یہ کوششیں پائیدار ثابت ہوں اور ان کی کامیابی کی ایک چابی ایران کے پاس بھی کہ ماضی میں بھی۔ پاکستان نے چین کی مدد سے تہران اور ریاض کے درمیان ٹوٹے ہوئے رابطوں کو بحال کروا کر دشمنی کو دوستی میں بدلا، اب ایران کا باقاعدہ معذرت کرنا اور حملے نہ کرنے کا عہد کرنا جنرل عاصم منیر کی اسٹریٹجک مہارت اور اثر و رسوخ کی عکاسی کرتا ہے۔ اب اگر ایرانی پاسداران انقلاب اور ان کی سلامتی کمیٹی پر منحصر کہ وہ اپنے صدر کے قول اور پاکستان کی دوستی کا پاس رکھتے ہیں یا نہیں کہ ان کا جذباتی فیصلہ پوری اسلامی دنیا کے لیے وہ خطرہ بن سکتا ہے کہ جسے اب تک پاکستانی کوششوں نے بڑھنے سے روک رکھا ہے کہ ایران کے اندر غداروں کی موجودگی اور اعلیٰ ترین حلقوں تک رسائی نے اب تک رہبر معظم سمیت اہم ترین شخصیات کو شہید کروا کر اپنی موثر موجودگی کا ثبوت
دیا ہے اب یہ عناصر پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو کس طرح بار آور ہوتا دیکھ سکتے ہیں۔ کہ اسی میں اسرائیل و امریکہ کا مفاد کہ سعودی عرب بھی کسی طور اس جنگ کا حصہ بنے۔
یہ بات بھی کتنی دلچسپ کہ خلیج میں ہونے والی تباہی اور امریکی اڈوں پر حملوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات براہ راست عربوں کے کہ انہوں نے تو اربوں ڈالر دیکر امریکہ سے حفاظت کی گارنٹی لے رکھی تھی مگر امریکہ نے عربوں کو ایرانی میزائلوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جس سے ایران پہلے خبردار کر چکا تھا۔ عربوں کی دولت کا ان سے زیادہ درست استعمال عربوں اور اسلام کے دشمن کر رہے ہیں ان حملوں نے یہ بات خلیجی ریاستوں کے حکمرانوں کو باور کرا دی ہے۔ اب حمیت کی یہ انگڑائی کتنی دیر باقی رہتی ہے یہ سعودی عرب اور پاکستان کی مدبرانہ صلاحیتوں پر منحصر۔یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ایک فرد کی متلون مزاجی اور انا نے مسلم امہ پر قہر ڈھا دئیے ہیں۔ ایسا شخص امریکی صدر کے عہدے پر فائز کہ جسے اس کے علاوہ کوئی اور سمجھا نہیں سکتا۔ ذہنی مریض انسانیت کے لیے کتنا خطر ناک ہوتا ہے اس کی مجسم شکل دیکھنے کے لیے ہزاروں میل دور امریکی سر زمین پر نظر ٹھہرتی ہے کہ جہاں ایپسٹن فائلز کا متاثرہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کہ جسے اس کے غلیظ ماضی نے عذاب میں مبتلا کر رکھا ہے اور صیہونی دجال نیتن یاہو اخلاقیات کے باب میں اس کی بے بسی اور امریکی طاقت کا فائدہ اٹھا کر ہر خود دار مسلم ریاست کو اس کے ہاتھوں تباہ کرانے پر تلا ہے۔ جنگی بلکہ امریکی ماہرین بھی مانتے ہیں جبکہ امریکی انٹیلی جنس کی رپورٹ بھی ظاہر کرتی ہے کہ ابھی تو محض سونڈ پھنسی ہے مگر پورا ہاتھی زمینی فوجیں ایران میں داخل کرنے کے بعد ایرانی مزاحمت کی دلدل میں پھنسے گا۔ جبکہ دوسری طرف شہرت طاقت اور عمر کی اس حصے میں ٹرمپ رسوائی کا کلنک لیکر وائٹ ہائوس سے نکلنے سے خائف اور اسی خوف نے اسے ایران کے خلاف جنگ میں دھکیلا کہ دسویں روز ہی دنیا کے طاقتور ترین شخص کو اپنی سبکی اور خفت محسوس ہونے لگی ہے۔ عیار اور مکار ہاتھ نے طاقت اور تکبر کے خمار میں بدمست ہاتھی کو چکمہ دیکر اپنے تئیں چند گھنٹے کے لیے ہی جنگ میں دھکیلا مگر بازی الٹی پڑ گئی۔ اور اب سازشی اسرائیل کو ہر سو اس موت کے سائے نظر آنے لگے کہ جسے اپنے سوا ہر ایک کی درد ناک موت تسکین دیتی۔ ایران کی غیر متوقع استقامت امریکہ کو ایسا زچ کرنے لگی ہے کہ خدشہ پے کہ کہیں وہ محدود ایٹمی طاقت کا استعمال کر کے اپنے آپ کو رسوائی کے داغ سے بچانے کی حماقت ہی نہ کر ڈالے۔




