
فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون اور کینیڈین وزیر اعظم مارک کارنی نے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کو بین الاقوامی قوانین کے خلاف قرار دے دیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایمانوئیل میکرون نے امریکی و اسرائیلی حملوں کو بین الاقوامی قانون کے دائرہ کار سے باہر قرار دیتے ہوئے ان کی منظوری سے انکار کر دیا۔
انہوں نے قوم سے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور اسرائیل نے فوجی کارروائیاں شروع کرنے کا فیصلہ کیا، جو بین الاقوامی قانون کے فریم ورک سے باہر کی گئیں، اور ہم اس کی توثیق نہیں کر سکتے۔
فرانسیسی صدر نے تمام فضائی حملے فوری طور پر روکنے اور دیرپا امن کے لیے سفارتی مذاکرات کی بحالی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں موجود فرانسیسی فوجی اڈوں اور سفارت خانوں کی سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملکی سطح پر حساس مقامات اور شخصیات کی نگرانی و حفاظتی اقدامات بڑھائے ہیں۔
انہوں نے خطے میں اتحادی ممالک کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے یاد دلایا کہ فرانس کے قطر، کویت اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ دفاعی معاہدے موجود ہیں، جبکہ اردن اور عراق کے ساتھ بھی مضبوط وابستگیاں ہیں۔
میکرون نے خطے میں متاثرہ سمندری راستوں کی بحالی اور تحفظ کے لیے ایک اتحاد بنانے کا اعلان بھی کیا، جس میں فوجی وسائل بھی شامل ہوں گے۔
انہوں نے تصدیق کی کہ طیارہ بردار بحری جہاز اپنے فضائی یونٹس اور محافظ فریگیٹس کے ہمراہ بحیرہ روم کی جانب روانہ ہوگا۔
ادھر کینیڈین وزیر اعظم مارک کارنی نے ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ حملے بظاہر بین الاقوامی قانون سے مطابقت نہیں رکھتے۔
آسٹریلیا کے دورے کے دوران سڈنی میں خطاب کرتے ہوئے مارک کارنی نے کہا کہ بادی النظر میں یہ حملے بین الاقوامی قانون سے ہم آہنگ نہیں دکھائی دیتے۔
واضح رہے کہ ہفتے کے روز امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر بڑے پیمانے پر حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں شدت اختیار کر گئی ہے، جن میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای سمیت تقریباً 800 افراد شہید ہوگئے







