Column

اک نقطے وچ گل مکدی اے

اک نقطے وچ گل مکدی اے

تحریر : صفدر علی حیدری

کاغذ سفید تھا۔ سفیدی بھی کیسی؟ جیسے امکان کی خاموش برف، جیسے وقت سے پہلے کا وقت، جیسے وہ لمحہ جو ابھی پیدا نہیں ہوا مگر ہونے والا ہے۔ قلم نے جب پہلی بار اسے چھوا تو سیاہی کا ایک چھوٹا سا دائرہ بنا، ایک نقطہ۔سیاہی کا پہلا لرزہ، یعنی نقطہ، جو بظاہر کچھ بھی نہیں۔ مگر اسی سے سطر بنی، سطر سے عبارت، عبارت سے داستان، اور داستان سے تاریخ، تاریخ سے تہذیب، تہذیب سے شعور۔ اور پھر کسی نے دل کی آنکھ سے دیکھا تو وہی نقطہ نکتہ بن گیا ، یعنی سیاہی کے اندر چھپی ہوئی روشنی، یعنی تاریکی کے مرکز میں موجود نور کا بیج، یعنی خاموشی کے دل میں دھڑکتی ہوئی آواز۔

’’ نکتہ محض نشانی نہیں، معانی ہے‘‘۔

یہ جملہ خود ایک نکتہ ہے۔ کیونکہ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ نشان اشارہ ہوتا ہے، مگر نکتہ انکشاف۔ نشان بتاتا ہے کہاں دیکھنا ہے، نکتہ بتاتا ہے کیا دیکھنا ہے۔ اردو کی باریکیوں میں ایک حیرت چھپی ہے۔ یہ زبان صرف بولی نہیں جاتی، سمجھی جاتی ہے؛ صرف پڑھی نہیں جاتی، دیکھی بھی جاتی ہے۔

نقطہ، دو نقطوں والی ق کے ساتھ۔

نکتہ،کاف کے ساتھ۔

ایک حرف کا فرق، مگر جہانوں کا فاصلہ۔

ایک ظاہری نشان، دوسرا باطنی اشارہ۔

نقطہ: ن +ق +ط +ہ

ایک نشان، ایک ڈاٹ، ایک سیاہ دھبہ جو حرف کی شناخت بدل دیتا ہے۔ یہ بساطِ بصارت ہے، یعنی وہ جگہ جہاں تک انسانی آنکھ کا دائرہِ عمل ہے۔ یہ ساخت کا محافظ ہے، شکل کا نگہبان، صورت کا پہریدار۔

نکتہ: ن +ک +ت +ہ

ایک باریک بات، ایک لطیف اشارہ، ایک معنی کی تہہ۔ یہ بادشاہتِ بصیرت ہے، یعنی وہ مقام جہاں معنی کی سلطنت شروع ہوتی ہے۔ یہ روح کا دربان ہے، فکر کا دریا، ادراک کی چنگاری۔

حروف میں دیکھئے: ب، ت، ث، سب نقطوں کے سہارے الگ الگ ہیں۔ نقطہ ہٹا دیں تو شناخت گم۔ صورت ایک ہو جائے گی، فرق مٹ جائے گا، امتیاز تحلیل ہو جائے گا۔ مگر نکتہ ہٹا دیں تو روح گم۔ لفظ باقی رہے گا، مگر جان نہیں۔عبارت ہوگی، مگر اثر نہیں۔ جسم ہوگا، مگر حرارت نہیں۔ یہی فرق ہے ساخت اور معنی میں۔ ساخت نقطے سے بنتی ہے ، معنی نکتے سے۔

زندگی میں دو رویے عام ہیں: پہلا رویہ: نقطہ چینی، یہ صرف املا یا حرفی نہیں، بلکہ باریک بینی اور حقیقت کی جانچ ہے۔ نقطہ نظر ( درست)

نکتہ نظر ( غلط)

نقطہ : ڈاٹ، مقام، جگہ

نقطہ نظر: وہ ’’ نقطہ‘‘ یا مقام جہاں کھڑے ہو کر آپ دیکھتے ہیں، یعنی زاویہ فکر ؍ Perspective۔

مثال: میرا نقطہ نظر مختلف ہے۔ یعنی میں ایک اور مقام پر کھڑا ہوں، اس لیے منظر الگ ہے۔

نقطہ چینی کا مطلب ہے باریک اعتراض نکالنا، خامیاں تلاش کرنا، چھوٹے چھوٹے ’’ نقطوں‘‘ کو پکڑنا، معنی کی تہہ تک نہ جانا۔

مثال: وہ ہر بات میں نقطہ چینی کرتا ہے۔

نکتہ کہاں درست ہے؟

نکتہ آفرینی

نکتہ سنجی

نکتہ رس

نکتہ دان

یہ سب معنی اور باریکیِ فکر سے متعلق ہیں۔

یہاں آنکھ نہیں، دل کام کرتا ہے۔

یہاں حرف نہیں، حقیقت بولتی ہے۔

دب لفظوں کا کھیل نہیں، نکتوں کا انکشاف ہے۔

جب مرزا غالب نے کہا

ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے

کہتے ہیں کہ غالب کا ہے اندازِ بیاں اور

یہ ’’ اندازِ بیاں‘‘ دراصل نکتہ ہے۔ لفظ سب کے پاس تھے، لغت سب کے پاس تھی، بحر اور وزن سب جانتے تھے، مگر معنی کی تہہ ان کے پاس تھی۔

ادب میں اصل کمال یہ نہیں کہ آپ کیا کہتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیسے کہتے ہیں۔

ایک افسانہ ہزار لفظوں میں پھیل سکتا ہے، مگر اس کا اثر اکثر ایک جملے پر ٹکا ہوتا ہے، وہ آخری جملہ، وہ خاموشی، وہ نکتہ، جہاں قاری کی سانس رک جاتی ہے اور سوچ شروع ہو جاتی ہے۔

جملہ نقطے پر ختم ہوتا، مگر کہانی نکتے سے شروع ہوتی۔

ریاضی میں نقطہ بے بُعد ہوتا ہے۔ نہ لمبائی، نہ چوڑائی، نہ گہرائی۔ مگر اسی سے لکیریں بنتی ہیں، لکیروں سے سطح، سطح سے حجم، اور حجم سے دنیا۔ صفر کچھ نہیں، مگر جب ایک کے ساتھ لگ جائے تو دس بن جاتا ہے۔ گویا کچھ نہ ہونے میں بھی سب کچھ چھپا ہے۔

کائنات بھی شاید ایک ہی نکتے سے پھٹی، اور پھیلتی چلی گئی۔ مرکز سکڑتا ہے تو وجود بنتا ہے، پھیلتا ہے تو کائنات۔انسان کی زندگی بھی ایک نقطے سے شروع ہوتی ہے ’’ نطفہ، اور ایک نقطے پر ختم ‘‘ قبر کی مٹی۔

درمیان کی ساری کہانی چند نقطوں کی ترتیب ہے، چند فیصلے، چند موڑ، چند خاموشیاں۔

صوفیا کے نزدیک حرف صرف پردہ ہے، حقیقت اس کے پیچھے ہے۔

مولانا جلال الدین رومی نے لفظوں کو آگ کہا، کہ لفظ جلتے ہیں، مگر ان کی راکھ میں نور ہوتا ہے۔

اور پنجابی روایت میں بلھے شاہ کی صدا گونجتی ہے:

اک نقطے وچ گل مکدی اے

یہ نکتہ کیا ہے؟

کسی نے اسے عشق کہا، کسی نے ’’ لا‘‘ کہا، کسی نے ’’ انا الحق‘‘ کہا۔

 

مگر حقیقت ایک ہی: کثرت سے وحدت کی طرف سفر۔

صوفی جب اپنی انا مٹا دیتا ہے تو وہ خود نقطہ بن جاتا، چھوٹا، بے نشان، بے دعویٰ، مگر اسی بے نشانی میں وسعت ہے۔

وہ مرکز بھی ہے اور دائرہ بھی، خاموش بھی ہے اور گویا بھی۔

انسان خود ایک نقطہ ہے، کائنات کے بے کنار صحرا میں ایک ذرا، مگر جب شعور پا لیتا ہے تو نکتہ بن جاتا ہے۔

پھر وہ سوال کرتا، پھر وہ تلاش کرتا، پھر اپنے اندر کے اندھیرے میں روشنی ڈھونڈتا ہے۔

ہم پوری زندگی دلیلیں جمع کرتے رہتے ہیں، مگر سچ اکثر مختصر ہوتا ہے۔

لمبی تقریریں، موٹی کتابیں، پیچیدہ نظریات، اور آخر میں ایک سادہ سا نکتہ: اندر جھانکو۔

جو خود کو پڑھ لے، وہ کائنات کو پڑھ لیتا ہے۔ جو خود کو سمجھ لے، وہ دلیلوں سے آزاد ہو جاتا ہے۔

جہاں گل مکدی اے۔

قلم رک گیا۔

کاغذ پر آخری نقطہ لگا۔

ظاہر میں عبارت مکمل ہو گئی، مگر باطن میں ایک نکتہ جاگا۔ کہ بات لمبی نہیں ہوتی، سمجھ لمبی ہوتی ہے۔

الفاظ دریا ہیں، مگر معنی سمندر۔ اور جب سمندر دل میں اتر آئے، تو زبان خاموش ہو جاتی ہے۔

اور جب خاموشی بولنے لگے، تو واقعی، اک نقطے وچ گل مکدی اے۔

بلھے شاہ نے بجا فرمایا

پھڑ نقطہ چھوڑ حساباں نوں

کر دور کفر دیاں باباں نوں

چھڈ دوزخ گور عذاباں نوں

کر صاف دلے دیاں خواباں نوں

گل ایسے گھر وچ ڈھکدی اے

اک نقطے وچ گل مکدی اے

صفدر علی حیدری

جواب دیں

Back to top button