ColumnImtiaz Aasi

اعتراف

اعتراف

تحریر : امتیاز عاصی

اس حقیقت میں دو آراء نہیں پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں، طالبان حکومت نے دہشت گردوں کو دھکیلنے کے عوض دس ارب کا مطالبہ کرکے اپنے جرم کا ایک طرح سے اعتراف کر لیا ہے۔ عجیب تماشا ہے، ایک مسلمان ملک ہوتے بے شرمی کی حد ہے، وہ مسلمانوں کی جانوں سے کھیل رہے ہیں۔ یوں تو طالبان نے مذہب کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے، ان کی نمازیں اور عبادتیں کیا اسی مقصد کے لئے ہیں، وہ مسلمانوں کی جانوں کے درپے ہوں ۔ روسی جارحیت کے بعد ہمارے ہاں افغان مہاجرین کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا، جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ یہ بات درست ہے سمندر نہ ہونے کے باعث افغانستان بین الاقوامی قانون کے تحت پاکستان کی ذمہ داری Labilityہے، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں لیا جا سکتا وہ جس برتن میں کھائیں اسی میں چھید کریں۔ ہمسایہ ملک ایران کو دیکھ لیں افغان مہاجرین گئے تو کسی ایک کو مہاجر کیمپ سے باہر نہیں نکلنے دیا، بلکہ وہیں سے انہیں افغانستان بھیجا، جب کہ ہم نے انصار مدینہ طرز کی میزبانی کرکے دہشت گردی مول لے لی، آج اسی کی سزا پوری قوم دہشت گردی اور معاشی صورت حال کی شکل میں بھگت رہی ہے۔ مرحوم جنرل فضل حق جو اس وقت گورنر تھے، نے صدر ضیاء الحق کو مشورہ دیا تھا افغان پناہ گزینوں کو سرحدی علاقوں میں کیمپ بنا کر ٹھہرایا جا سکتا ہے، مگر اسلامی نظام کے نفاذ کے علمبردار صدر نے ان کی سنی آن سنی کرکے مہاجرین کو شہروں میں بسایا۔ پاکستان کی حکومت کی درخواستوں کے باوجود طالبان کی عبوری حکومت نے دہشت گردی کے مراکز ختم نہیں کئے، الٹا ان کی حوصلہ افزائی کی۔ دوسری طرف ہماری حکومت اتنی بھولی ہے، یہ حقیقت معلوم ہونے کے باوجود کہ افغان طالبان نے تحریک طالبان کے ساتھ باہم ملکر امریکی افواج کو نکلنے پر مجبور کیا، اس نے افغانستان کے لئے نرم گوشہ رکھا۔ حال ہی میں پاکستان کی فضائیہ نے افغانستان کے سرحدی علاقوں میں قائم دہشت گردی کے مراکز پر پے درپے حملے کرکے انہیں تباہی سے دوچار کیا تو طالبان حکومت نے ایک نئی بحث چھڑ دی، وہ دہشت گردوں کو دوسری طرف دھکیل دیتے ہیں، تاہم انہیں دس ارب درکار ہیں۔ پاکستان کی حکومت جب کسی قسم کے تحریری معاہدے کا مطالبہ کرتی ہے تو طالبان کی عبوری حکومت پیچھے ہٹ جاتی ہے، جو ان کی بدنیتی کی عکاس ہے۔ ہم ماضی کی طرف لوٹیں تو ریاست پاکستان میں بم دھماکوں اور خودکش حملوں کا آغاز کرنے والے افغان ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد سب سے آخر میں پاکستان کو تسلیم کرنے والا افغانستان تھا۔ وزیراعظم نوابزادہ لیاقت علی خان کو شہید کرنے والا سید اکبر بھی افغان تھا۔ مجھے لگتا ہے پاکستان کی حکومت کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے، جس کے بعد انہوں نے افغانستان کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت سے انکار کیا ہے۔ ویسے بھی بڑوں سے سنا تھا افغان کبھی ہمارے دوست نہیں ہو سکتے۔ تاسف ہے اتنا کچھ ہونے کے باوجود پاکستان کی کوئی حکومت افغان پناہ گزنیوں کا انخلاء مکمل نہیں کر سکی، نہ جانے وہ کون سے عوامل ہیں جن کی بنا موجودہ حکومت سمیت ماضی کی حکومتیں افغان پناہ گزنیوں کو ملک بدر کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ پاکستان کی طرف سے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کے بعد افغانستان نے سرحدی علاقوں پر جھڑپیں شروع کر دی ہیں مگر ہماری بہادر افواج نے انہیں مار بھگایا۔ افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے بعد حالات کچھ بہتری کی بجائے مزید خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ پاکستان کی حکومت کو پہلے اقدام کے طور پر ہر قیمت پر غیر قانونی افغان پناہ گزینوں کی بڑی تعداد کو ملک بدر کرنے کے لئے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لئے حکومت کو سکیورٹی فورسز کے ساتھ عوام کا تعاون حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ جب تک عوام غیر قانونی پناہ گزنیوں کی نشاندہی نہیں کریں گے سکیورٹی فورسز کے لئے بھی یہ کام دشوار ہوگا، لہذا حکومت کو شہروں کے سابقہ ناظمین اور بلدیاتی نمائندوں پر مشتمل کمیٹیاں قائم کرکے غیر قانونی افغان پناہ گزنیوں کا کھوج لگانا چاہیے تاکہ انہیں اپنے ملک بھیجا جا سکے۔ ہمیں تو سمجھ نہیں آتا کے پی کے وزیراعلیٰ دہشت گردی اور افغان پناہ گزنیوں کے انخلاء کے لئے اقدامات کرنے کی بجائے نوجوانوں پر مشتمل عمران خان پرامن رہائی فورس تشکیل دے رہے ہیں، حالانکہ انہیں نامساعد حالات میں اپنے صوبے میں ہونے والی دہشت گردی پر قابو پانے کے لئے جدوجہد کرنی چاہیے۔ طالبان حکومت کی بدمعاشی دیکھئے افغانستان سے دہشت گردوں کو نکالنے کے لئے پاکستان سے دس ارب روپے کا مطالبہ کیا ہے۔ ہم یہ بات دعویٰ سے کہتے ہیں پاکستان افغانستان کو دس ارب دے بھی دے تو طالبان حکومت دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم نہیں کر سکے گی، جس کی بڑی وجہ یہ ہے ٹی ٹی پی اور افغان طالبان نے باہم ملک کر امریکیوں کو افغانستان سے نکلنے پر مجبور کیا اب وہ کیسے ایک دوسرے سے الگ ہو سکتے ہیں۔ مجھے یاد ہے مرحوم سابق وفاقی وزیر ملک فرید اللہ خان، جن کا تعلق جنوبی وزیرستان کے علاقے شکئی سے تھا، نے جنرل پرویز مشرف کو قبائلی علاقہ جات میں آپریشن سے منع کیا تھا۔ حکومت کے ساتھ تعاون کرنے پر فرید اللہ خان کو اپنے علاقے میں جب وہ ایک میٹنگ میں شرکت سے واپس آرہے تھے تو انہیں شہید کر دیا گیا تھا۔ قیام پاکستان سے قبل انگریز سرکار نے قبائل کو نہیں چھیڑا تھا اور ان کے آزاد اسٹییٹس کو برقرار رکھا تھا۔ جہان تک سکیورٹی فورسز کی بات ہے وطن عزیز کی جان کی پروا کئے بغیر حفاظت پر مامور ہیں، اس کے ساتھ کے پی کے کی حکومت کی بھی یہ ذمہ داری ہے عمران خان رہائی امن فورس کے ساتھ اپنے صوبے میں امن و امان قائم کرنے کے لئے فوری اقدامات کرے۔ اس وقت ہمارا ملک حالت جنگ میں ہے لہذا تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے اختلافات بالائے طاق رکھتے ہوئے کے پی کے اور بلوچستان میں امن قائم کرنے کے لئے سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ چلیں۔ سیاسی رہنماءوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے ملک ہے تو ہم بھی ہیں، لہذا وطن عزیز کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

جواب دیں

Back to top button