آپریشن غضب للحق کا آغاز

آپریشن غضب للحق کا آغاز
افغان طالبان کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ اور سرحدی خلاف ورزیوں کے بعد پاکستان کی جانب سے آپریشن غضب للحق کا آغاز کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں 274دہشت گرد ہلاک ہوگئے، سیکیورٹی فورسز نے فوری اور موثر جواب دیتے ہوئے نہ صرف دشمن کی جارحیت کو پسپا کر ڈالا۔ یہ صورت حال اس امر کی متقاضی ہے کہ حقائق کو غیر جذباتی مگر دوٹوک انداز میں بیان کیا جائے۔ سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف صفِ اول کا کردار ادا کر رہا ہے۔ ہزاروں جانوں کی قربانی اور اربوں ڈالر کے معاشی نقصانات کے باوجود ریاست نے اپنی سرزمین کو دہشت گرد عناصر سے بڑی حد تک پاک کیا۔ ایسے میں اگر مغربی سرحد سے بلاجواز فائرنگ، دراندازی یا چیک پوسٹوں کو نشانہ بنانے جیسے اقدامات سامنے آئیں تو یہ نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ خطے کے امن کے لیے بھی خطرناک ہیں۔ اطلاعات کے مطابق آپریشن ’’ غضب للحق’’ کے تحت پاکستانی افواج نے دشمن کی متعدد پوسٹیں، ایمونیشن ڈپو اور لاجسٹک بیسز تباہ کیے۔ 274سے زائد حملہ آور مارے گئے اور درجنوں عسکری تنصیبات کو نقصان پہنچا تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی دفاعی صلاحیت نہ صرف مستحکم ہے بلکہ بروقت اور فیصلہ کن کارروائی کی اہل بھی ہے۔ یہ ردِعمل محض جوابی کارروائی تھا، جس کا مقصد اپنی سرحدوں کا تحفظ اور شہری آبادی کو محفوظ بنانا تھا۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ بعض اطلاعات کے مطابق ہزیمت کے بعد افغان جانب سے مارٹر گولوں کا رخ سول آبادی کی طرف کیا گیا، جس سے خواتین سمیت کئی شہری زخمی ہوئے اور عبادت گاہ کو بھی نقصان پہنچا۔ کسی بھی ریاست کے لیے یہ طرزِ عمل ناقابلِ قبول ہے۔ بین الاقوامی انسانی قوانین کے تحت شہری آبادی کو نشانہ بنانا جنگی جرم کے زمرے میں آتا ہے۔ اگر افغان طالبان حکومت اپنی ذمے داریوں سے غافل رہتی ہے تو اسے سفارتی اور اخلاقی سطح پر جواب دہی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ بعض غیر ملکی میڈیا اداروں نے بغیر تصدیق کے دعوے نشر کیے۔ برطانوی نشریاتی ادارے سکائی نیوز کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ، جس میں مبینہ طور پر افغانستان کی فضائیہ کی جانب سے پاکستان پر حملے کا ذکر کیا گیا، شدید تنقید کے بعد حذف کردی گئی۔ اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ معلوماتی جنگ کے اس دور میں جھوٹی یا ادھوری خبروں کے ذریعے رائے عامہ کو متاثر کرنے کی کوششیں بھی کی جاسکتی ہیں۔ ذمے دار صحافت کا تقاضا ہے کہ تصدیق شدہ اور متوازن معلومات ہی عوام تک پہنچائی جائیں۔علاقائی سیاست کے تناظر میں بعض بیانات نے کشیدگی کو مزید بڑھایا ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی کا نام بھی بعض بیانات میں لیا گیا، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ خطے کی بڑی طاقتیں پراکسی کشیدگی کو ہوا دے سکتی ہیں۔ اگر ایسا ہے تو یہ جنوبی ایشیا کے امن کے لیے ایک خطرناک رجحان ہوگا۔ افغانستان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی تیسرے فریق کے مفادات کی خاطر اپنی سرزمین کو استعمال ہونے دینا خود اس کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستانی عسکری قیادت نے واضح کیا ہے کہ سرحدوں کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ چیف آف آرمی اسٹاف سید عاصم منیر کی قیادت میں افواجِ پاکستان نے پیشہ ورانہ مہارت اور جدید دفاعی حکمتِ عملی کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ پیغام نہ صرف افغان طالبان بلکہ دیگر ممکنہ مہم جو عناصر کے لیے بھی ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے دفاع میں پوری طرح متحد ہے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری کے بیان سے بھی یہی عندیہ ملتا ہے کہ ریاست کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی پالیسی پر قائم ہے۔ تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان کی اولین ترجیح مذاکرات اور پرامن حل ہے۔ یہی ایک ذمہ دار ریاست کا رویہ ہونا چاہیے۔ طاقت کا استعمال آخری چارہ کار کے طور پر، مگر موثر انداز میں۔ افغانستان کی موجودہ حکومت کو یہ ادراک کرنا ہوگا کہ سرحدی استحکام دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔ لاکھوں افغان شہری پاکستان میں پناہ گزین رہے، تجارت اور ٹرانزٹ کے مواقع فراہم کیے گئے اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تعاون جاری رکھا گیا۔ ایسے میں اگر کابل کی جانب سے سرحدی کشیدگی کو ہوا دی جاتی ہے تو یہ احسان فراموشی کے مترادف ہوگا اور دوطرفہ اعتماد کو شدید نقصان پہنچائے گا۔ اس ساری صورت حال میں سب سے اہم پہلو عوام کا تحفظ ہے۔ سرحدی علاقوں کے باسی پہلے ہی دہشت گردی اور بدامنی کا خمیازہ بھگت چکے ہیں۔ ریاست کی ذمے داری ہے کہ وہ ان کی جان و مال کی حفاظت یقینی بنائے اور کسی بھی بیرونی جارحیت کا راستہ روکے۔ اگر اس مقصد کے لیے سخت اور فوری اقدامات کیے گئے تو انہیں قومی سلامتی کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں، مگر جارحیت کا جواب دینا ریاستی فریضہ ہے۔ پاکستان نے اگر اپنی سرحدوں کے دفاع میں فیصلہ کن اقدام کیا ہے تو یہ اس کے آئینی اور بین الاقوامی حق کے عین مطابق ہے۔ اب گیند افغان قیادت کے کورٹ میں ہے کہ وہ اشتعال انگیزی ترک کرکے سنجیدہ سفارتی مکالمے کی راہ اختیار کرے۔ خطے کا امن، معاشی ترقی اور عوام کی خوش حالی اسی میں مضمر ہے کہ سرحدوں کو جنگ کا میدان بنانے کے بجائے تعاون اور استحکام کی بنیاد بنایا جائے۔
ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر
ملک میں تعلیم کی صورتِ حال ایک بار پھر تشویشناک اعداد و شمار کے ساتھ سامنے آئی ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن کی تازہ رپورٹ کے مطابق تعلیمی سال 2023۔24میں 25.37ملین بچے اور بچیاں اسکولوں سے باہر ہیں۔ یہ محض ایک عدد نہیں بلکہ قومی ضمیر کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے۔ جب 13.41ملین بچیاں اور 11.96ملین لڑکے تعلیم سے محروم ہوں تو یہ مسئلہ صرف تعلیمی نہیں بلکہ سماجی، معاشی اور اخلاقی بحران کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اعداد و شمار صوبائی سطح پر عدم مساوات کی واضح تصویر پیش کرتے ہیں۔ پنجاب میں 36فیصد بچے اسکولوں سے باہر ہیں جب کہ سندھ میں یہ شرح 42فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ خیبر پختونخوا میں 29فیصد اور بلوچستان میں صورت حال سب سے زیادہ سنگین ہے جہاں 58فیصد بچے تعلیم سے محروم ہیں۔ حتیٰ کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی 15فیصد بچوں کا اسکولوں سے باہر ہونا تشویش کا باعث ہے۔ یہ تفاوت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وسائل کی منصفانہ تقسیم اور موثر پالیسی سازی کا فقدان موجود ہے۔ تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے، جس کی ضمانت آئین بھی دیتا ہے۔ مگر زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ غربت، کم عمری کی شادی، بچوں سے مشقت، اسکولوں کی کمی، اساتذہ کی غیر حاضری اور بنیادی سہولتوں کا فقدان اس بحران کی بڑی وجوہ ہیں۔ خصوصاً بچیوں کی تعلیم میں رکاوٹیں سماجی رویوں اور سیکیورٹی خدشات سے بھی جڑی ہوئی ہیں، جس کے باعث لاکھوں لڑکیاں مستقبل کے مواقع سے محروم رہ جاتی ہیں۔ یہ مسئلہ محض اسکولوں میں داخلے تک محدود نہیں۔ اگر بچے داخل بھی ہوجائیں تو معیارِ تعلیم، نصاب کی افادیت اور اساتذہ کی تربیت جیسے سوالات اپنی جگہ اہم ہیں۔ ملک میں تعلیمی بجٹ مجموعی قومی پیداوار کے مقابلے میں انتہائی کم ہے، جو حکومتی ترجیحات پر بھی سوال اٹھاتا ہے۔ جب تک تعلیم کو دفاع، سیاست اور دیگر شعبوں کی طرح اولین ترجیح نہیں بنایا جائے گا، یہ بحران برقرار رہے گا۔ ضروری ہے کہ وفاق اور صوبے ہنگامی بنیادوں پر مشترکہ حکمت عملی ترتیب دیں۔ اسکول انفرا سٹرکچر کی بہتری، اساتذہ کی بھرتی اور تربیت، بچیوں کے لیے محفوظ تعلیمی ماحول اور غریب خاندانوں کے لیے مالی معاونت جیسے اقدامات فوری کیے جائیں۔ ٹیکنالوجی کے موثر استعمال اور کمیونٹی کی شمولیت سے بھی مثبت نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ اگر آج ہم ان 25ملین بچوں کو تعلیم کے دائرے میں نہ لائے تو کل یہی محرومی بے روزگاری، جرائم اور انتہا پسندی کی صورت میں سامنے آ سکتی ہے۔ تعلیم صرف کتابیں پڑھانے کا نام نہیں بلکہ قوم کی سمت متعین کرنے کا ذریعہ ہے۔ وقت آگیا ہے کہ تعلیم کو نعرہ نہیں، عملی ترجیح بنایا جائے، ورنہ یہ خاموش بحران آنے والی نسلوں کا مستقبل نگلتا رہے گا۔







