Column

دوزخ کے درجات

دوزخ کے درجات
علیشبا بگٹی
پلس پوائنٹ
سورج اور آگ کو دیکھ کے گمان ہوتا ہے، کہ دوزخ کیسا بھیانک ہوگا۔ جس کے نگران فرشتے ہیں، جن کے سردار کا نام مالک ہے۔ دوزخ کی آگ کا ایندھن انسان، کافر، منافق اور پتھر ہوں گے۔
قرآن و سنت کی روشنی میں دوزخ کے سات درجات ہیں۔ یہ درجات گناہوں کی نوعیت کے مطابق ہیں۔ عذاب کی نوعیت ایسی ہوگی کہ ہر طبقے کے لیے مخصوص عذاب ہے، اور جیسے جیسے درجہ نیچے ہوتا جائے گا، عذاب کی شدت بڑھتی جائے گی۔
دوزخ کا جو سب سے پہلا درجہ ہے، اس کا نام جہنم ہے، سب سے اوپر کا یہ درجہ گنہگار مسلمانوں کے لیے ہو سکتا ہے۔ یا جس میں ان لوگوں کو رکھا جائے گا جو چھوٹے گناہ کرنے والے ہیں۔ وہاں کی آگ کھال کے اوپر زخم بنا دے گی اور وہ زخم کبھی بھی ختم نہیں ہوں گے، وہ کبھی بھی ٹھیک نہیں ہوں گے۔
دوزخ کا دوسرا درجہ جس کا نام لظیٰ ہے۔ یعنی شعلے۔ اس میں انسان کو ایسی آگ کے اندر ڈالا جائے گا۔ جو آگ اس کی ہڈیوں تک کو جلا دے گی۔ اور ان ہڈیوں کے اوپر کبھی ماس نہیں آئے گا۔ اور وہ ہڈیاں آگ میں جلتی رہیں گی۔ اور یہ تکلیف بھی کبھی ختم نہیں ہوگی۔
دوزخ کا تیسرا درجہ جس کا نام حطمہ ہے یعنی پاش پاش کرنے والی، جو سب کچھ توڑ پھوڑ کر رکھ دے گا۔ یہ ان لوگوں کے لیے ہے، جو تکبر کرنے والے ہیں، جو اپنا مال سین سین کے رکھنے والے ہیں اور اپنے مال سے کسی غریب کو کچھ دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس میں جو آگ ہوگی وہ کلیجوں کو چیرنے والی آگ ہوگی۔
دوزخ کا چوتھا درجہ جس کا نام سعیر ہے۔ یعنی بھڑکتی ہوئی آگ، اس میں آگ کے شعلے اتنے بڑے ہوں گے، کہ وہ آسمان کے ساتھ باتیں کر رہے ہوں گے اور اس میں جو مجرم ہوں گے، وہ لوہے کی زنجیروں میں جکڑ کر اس آگ میں لٹکائے گئے ہوں گے اور یہ عذاب کبھی ختم نہیں ہوگا۔
دوزخ کا پانچواں درجہ جس کا نام سقر ہے، یعنی جھلسا دینے والی، جو سخت گرمی سے متعلق ہے۔ اس میں جو جلنے والے انسان ہیں، ان کو ہر بار نئی کھال دی جائے گی ایک کھال ختم ہو جائے گی، تو دوبارہ کھال دی جائے گی، تاکہ وہ بار بار اس تکلیف کو برداشت کریں۔
دوزخ کا چھٹا درجہ جس کا نام جحیم ہے۔ یعنی شدید بھڑکتی آگ، اس میں وہ لوگ ہوں گے، جو حق کا انکار کرنے والے ہوں گے اور ان کے چہروں کے اوپر اور جسموں کے اوپر آگ کے عذاب کے ساتھ ساتھ آگ کے کوڑے برسائے جائیں گے اور جو عذاب ہمیشہ رہے گا، کبھی ختم نہیں ہوگا۔
دوزخ کا ساتواں اور آخری درجہ جس کا نام ہاویہ ہے، یعنی گہرا گڑھا۔ یہ دوزخ کا سب سے نچلا درجہ ہے، جس میں منافقین اور شدید ترین کفار کو ڈالا جائے گا۔ یہ دوزخ کا وہ درجہ ہے یہاں پہ وہ لوگ رہیں گے جنہوں نے ہمیشہ اپنی پوری زندگی کفر کے اوپر گزار دی اور کبھی بھی حق پہچاننے کی کوشش نہیں کی۔ قرآن کے مطابق منافقین دوزخ کے سب سے نچلے طبقے درک الاسفل میں ہوں گے۔
اب ذرا ایک لمحے کے لیے سوچیں، کبھی آپ گھر میں کہیں آگ جلی ہو، تو ایک سیکنڈ کے لیے اپنی انگلی اس کے اوپر کریں، آپ کو احساس ہو کہ یہ عذاب ہے کیا ؟ اور یہ عذاب اس انسان کے لیے بنتا ہے۔ جس کو پوری زندگی مرنے کے آخری دم تک یہ اللہ کی ذات نے موقع دیا توبہ کرنے کا اور وہ پھر بھی نہ کرے اور اپنی پچاس ساٹھ ستر سال کی زندگی تباہ کر دے۔ اور اپنی ہمیشہ کی زندگی دائو پہ لگا دے۔ اللہ نے اس انسان کے لیے پیغمبر بھیجے، کتابیں بھیجیں۔ سوچنے کے لیے عقل دی، صحیح اور غلط کا فیصلہ کرنے کے لیے شعور دیا اور فیصلے کا حق دیا۔ لیکن پھر بھی جس نے اپنے کریئٹر یعنی خالق کو نہ پہچانا۔ اس کے احکامات کو نہ مانا اور وہ اصول نہ اپنائے، جو اللہ کی ذات نے اس انسان کے لیے بنائے ہیں۔ اتنی نعمتیں انجوائے کرنے کے باوجود۔ جو ظلم بھی کرے، تو پھر حق تو بنتا ہے، کہ یہ عذاب ہو، ذرا کبھی اکیلے بیٹھ کے سوچیں کہ وہ قبر جہاں مرنے کے بعد آپ جہاں جائیں گے، کوئی تمہارا پوچھنے والا نہیں ہوگا۔ سب کچھ یہیں پہ چھوٹ جائے گا اور وہ عذاب اکیلے کو بھگتنا پڑے گا۔ جہاں پہ کوئی کسی کا جاننے والا نہیں ہے۔

جواب دیں

Back to top button