Column

ہمارے چہرے ہی نہیں، دل بھی سیاہی کا منظر پیش کرتے ہیں

ہمارے چہرے ہی نہیں، دل بھی سیاہی کا منظر پیش کرتے ہیں
تحریر: خالد غورغشتی
بغض، کینہ اور حسد تو جیسے ہمیں گھٹی میں ملا ہو، ہر اچھے معاملے میں رخنہ ڈالنا اور برے کاموں کی تشہیر کرنا ہمارا وتیرہ بن چکا ہے۔ مجھے اس بات کا قطعی علم نہ تھا کہ ہم جتنے بھی امیر اور اووسیز ہو جائیں ہمارا طرز عمل نہیں بدلتا۔ اپنوں کی ذات سے کیڑے نکالنا اور انھیں گرانا ہم نہ کبھی بُھولے ہیں، نہ بُھولیں گے۔ گزشتہ دنوں راستوں کی کشادگی کے حوالے سے ایک ویڈیو کیا وائرل ہوئی، بعض نام نہاد افراد نے اس قدر واویلا کیا کہ ہمیں شدت سے احساس ہوا، جس حسد کی آگ میں لوگ ہم جل رہے ہیں، اسی کی تپش میں بیرون ملک رہنے والے بھی جل رہے ہیں اور مصروفیات تو ہمارا خودساختہ بہانہ ہے، ورنہ جتنا یہاں لوگوں کا سوشل میڈیا پر وقت صرف ہوتا ہے، یہ بھی ان سے کچھ کم نہیں۔
بات ہو رہی تھی حسد کی، تو ایک بزرگ کا قول پڑھا تھا، دشمن اسی کے ہوتے ہیں، جس میں کچھ بات ہوتی ہے۔ مجھے گزشتہ دنوں شدید حیرت کے جھٹکے لگے، جب میں نے فلاح انسانیت کے سلسلے میں انہی بھیانک رویوں کا سامنا کیا۔ میں نہیں کہتا کہ ہم حسد نہیں کرتے مگر جب بندہ خدا کا دیا ہوا سب کچھ ہوتے ہوئے کسی سے بخیلی کرے تو اس پر ملال تو ہوتا ہے۔
ان دنوں مسلسل زلزلے آرہے ہیں، سب اسے اپنے اعمال کی سزا قرار دینے کے باوجود اپنے رویوں میں ایک انچ برابر تبدیلی لانے کے لیے تیار نہیں۔ پانچ مرلے کے گھر تین بھائی رہتے ہیں، شادی کے بعد ایک ہی گھر میں تین آہنی دیواریں تعمیر کر دی جاتی ہیں، پھر وقت کے ساتھ ساتھ تینوں بھائیوں کی اولادیں جُوں جُوں بڑی ہوتی ہیں، ان کی نفرتوں میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ اکثر ایک بھائی ترقی کر گیا تو دوسرے بھائی اس پر کالا جادو کروا کر، اس کے نام کا پتلا جلا کر، قبر میں دفن کرتے ہیں اور مرتے دم تک خار مخاری کرتے ہیں، خود بے چارے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں، اپنی نسلوں میں یہی حسد، بخیلی اور جادو ٹونے چھوڑ جاتے ہیں۔ گزشتہ دنوں علم رمل کے ماہر حامل سے رابطہ ہوا، اس نے مجھ پر حیرت انگیز انکشافات کیے، کہنے لگا، بیٹا! جس جس دیہی آبادی بلکہ اب تو شہری آبادی میں کوئی شخص پچاس سال سے دو خاندانوں سمیت رہ رہا ہو تو وہاں لازمی ایک دوسرے کو گرانے کے لیے لوگ جادو تعویز کا سہارا لیتے ہیں، جو بھی ان جادو دھاگے کا انکاری ہوتا ہے، جب اس پر خود بیتی ہے تو وہ بھی مان جاتا ہے، واقعی ہم کس قدر بخیلی کی کیفیات سے دو چار ہیں اور ایک دوسرے کو گرانے کے لیے کس حد تک گراوٹ کا شکار ہوسکتے ہیں۔ اس نے مجھے مزید کہا، جن گھروں میں بے برکتی ناچاقی اور حالات گڑ بڑ کا شکار ہیں۔ آپ دیکھو گے، ان میں لازمی ان کاموں کا بھی دخل ہوگا۔ اس لیے پچاس سال پرانی آبادی والوں کے حالات نہیں بدل رہے تو وہ لازمی کہیں نہ کہیں ہجرت کریں۔
آپ یقین کریں، ہمارے لوگ جہاں کہیں بھی بستے ہوں، نشیمن پر بجلی گرانے میں بڑے مہارت رکھتے ہیں۔ ہم نے اس حد تک بھی بعض افراد سے سُنا، اللہ فلاں کے ساتھ قبر بھی نہ دے۔ پڑوس تو دور کی بات ہے۔ یار ہم تو چاہتے ہیں وہاں بسیں جہاں ہمارے اپنے نہ ہوں، بس بھائی! ہمارے جسم پر جتنے بھی زخم ہیں وہ سب اپنوں کے لگائے ہوئے ہیں۔ اکثر لوگ مجھے فلاح انسانیت کے کاموں میں زد وکوب کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو میں سکوت کا فتویٰ دے کر، سب سے کنارہ کشی اختیار کر لیتا ہوں، مگر جُوں ہی میں خاموش ہوتا ہوں آگے سے ایسے ایسے طعنے سُننے کو ملتے ہیں کہ دل جل اٹھتا ہے۔ میں نے غور کیا کہ اب تو اگر کسی بچے کو بھی آپ جواب نہ دیں، تو وہ آپ کو چھیڑنا معمول بنا دے گا، ہمارے یہ رویے اس بات کی علامت ہیں کہ ہم نے نسل در نسل آپس میں کینہ، بغض حسد اور جادو ٹونے پھیلائے ہیں، دُور دُور تک ہم میں انسانیت نہ پیدا ہو سکی، کاش ہم انا کی چادر کو اُتار کر آپس میں اچھے تعلقات کی طرف بھی پیش رفت کرتے، ہمارے جیتے جی تو ایسے آثار ممکن نظر نہیں آتے، مرنے کے بعد ہوئے تو کیا فائدہ؟ مرے ہوئے کے کھانے کھانا، مرے ہوئوں کے گن گانا، مرے ہوئوں کی یادیں منانا تو ہمارا ازلی وتیرہ ہے۔ کیا ہم زندوں کے لیے بھی کوئی اقدام کریں گے؟ یا مرے ہوئے ضمیر کی طرح مردوں کو ہی ایصال بخشتے رہیں گے اور زندوں کو یُوں ہی اپنی بد خلقی سے جلاتے رہیں گے؟

جواب دیں

Back to top button