
ڈوبی معیشت اور ابھرتی عالمی سفارت کاری
تحریر : سی ایم رضوان
پاکستان کی عالمی سفارتکاری میں نمایاں پوزیشن کا فقط ایک ہی کھلا راز ہے کہ جب سے ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے صدر منتخب ہوئے ہیں وہ روزانہ کی بنیاد پر نہ صرف پاکستانی وزیراعظم اور سی ڈی ایف کی تعریفیں کرتے رہتے ہیں بلکہ فلسطین میں غزہ امن بورڈ جیسے ان کی نظر میں اہم عالمی معاہدے میں پاکستان کی شمولیت کو ترجیح دے رہے ہیں، وگرنہ چند ہفتے قبل ٹیرف تو انہوں نے پاکستان پر بھی کم و بیش دوسرے ملکوں جتنا ہی لگایا تھا جو کہ پاکستان نے بخوشی قبول کر لیا تھا، وجہ شاید یہ تھی کہ پاکستان کے حکمرانوں نے سوچا ہو گا کہ ہمارا کون سا لمبا چوڑا کاروبار ہے ۔ چھوٹی موٹی درآمد برآمد پر پڑنے والے اضافی ٹیرف کا بوجھ عوام پر ڈال دیں گے اور اللّٰہ اللّٰہ خیر صلا۔ بہرحال ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کی تعریفیں سن کر ہمارے حکمران پھولے نہیں سما رہے اور روزانہ کسی نہ کسی عالمی سفارتی مہم کے سلسلے میں بیرون ممالک کے دوروں پر ہوتے ہیں۔ اسی سلسلے میں اب وزیر اعظم شہباز شریف اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار دو روزہ دورہ امریکہ کے بعد لندن پہنچ گئے ہیں۔ لندن میں مختصر قیام کے بعد وہ واپس اسلام آباد آئیں گے۔ پھر ہو سکتا ہے چند روز ٹھہر کر پھر کسی عالمی سفارتی ضرورت کے تحت کسی اور ملک یا کسی اور عالمی رہنما سے ملنے چلے جائیں۔ ان کی یہی انیاں جانیاں دیکھتے ہوئے دو سال گزر گئے اور ان دو سال میں بھوک، بیروزگاری اور مہنگائی سے لڑتے کئی غریب پاکستانی گزر گئے، مگر پاکستانی معیشت عام پاکستانی کا گلا مسلسل گھونٹتی ہی چلتی جا رہی ہے۔ بہرحال اس دورہ برطانیہ سے قبل وزیر اعظم اور ہمراہی نائب نے واشنگٹن میں بورڈ آف پیس اجلاس میں شرکت کی، اجلاس سے خطاب میں صدر ٹرمپ نے حسب سابق، حسب سیاست اور حسب حالات وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کی تعریف کی۔ اسی تازہ تعریف کو لے کر وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ پھر میدان میں اتر آئے۔ ان کا ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہنا تھا کہ کبھی پاکستان تنہائی کا شکار تھا، مگر اب عالمی سفارت کاری میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، لیکن بیروزگاری کا شکار پاکستان کی جین زی کا انہوں نے ایک مرتبہ پھر کوئی ذکر نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ جین زی بھی اس حکومت کی سب سے بڑی اور بیدرد قسم کی ناقد بن کر سامنے آ رہی ہے۔ محرومی اور بیروزگاری کے شکنجے میں جکڑے نوجوان حکومت کو کوسنے کے علاوہ کر بھی کیا سکتے ہیں اور حکمران اپنی گروہی اور سیاسی ترجیحات کے علاوہ کچھ دیگر کرنے کی پوزیشن یا موڈ میں نہیں۔
تاہم وفاقی وزیر اطلاعات کا ان تمام معاملات سے کسی حد تک لاپرواہی اختیار ہوئے یہی کہنا ہے کہ پاکستان کی سفارتی پالیسی کو پوری دنیا تسلیم کر رہی ہے۔ غزہ امن بورڈ اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف اور عاصم منیر کی تعریف کا اعزاز نہ صرف پاکستان بلکہ امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کے لئے بھی فخر کی بات ہے۔ یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف فلسطین اور غزہ کے موقف پر واضح اور مضبوط ہیں اور مختلف فورمز پر فلسطینیوں کے حقوق کی لئے موثر آواز بلند کرتے ہیں کہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق فلسطینیوں کو حق خود ارادیت ملنا چاہیے اور آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ناگزیر ہے۔ واضح رہے کہ فلسطین میں اسرائیل نے جنگ بندی کی خلاف ورزی مسلسل جاری رکھی ہوئی ہے۔ اب فرق صرف یہ ہے کہ وہاں پر ہونے والے مظالم کو عالمی میڈیا میں رپورٹ ہونے سے روک دیا گیا ہے اور اس حوالے سے عالمی راوی چین ہی چین لکھ رہا ہے۔ بہرحال وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا مضبوط ٹیم ورک پاکستان کے اسٹریٹجک اور اقتصادی تعلقات کی بہتری میں مددگار ثابت ہوا ہے، انہوں نے کہا کہ اجلاس کے اختتام پر وزیراعظم اور امریکی صدر کے درمیان خوش گوار ماحول میں ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ کی باڈی لینگویج باہمی اعتماد اور گرم جوشی کی عکاس تھی۔ عطا اللہ تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ جب قیادت ایماندار ہو اور قومی مفاد کو مقدم رکھے تو نتائج مثبت ہوتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس قومی مفاد میں عوامی مفاد تو تب ہی نظر آئے گا جب غریب پاکستانی کو آٹا، دال، گھی سستے نرخوں میں میسر ہوں گے، ورنہ یہ سفارت کاری غریب کا پیٹ تو نہیں بھرتی۔ پاکستان کے غریب عوام کا حال تو یہ ہے کہ گزشتہ سات سالوں میں ملک بھر میں غربت کی شرح میں سات فیصد اضافہ ہوا ہے۔ جس کے بعد پاکستان میں غربت کی شرح بڑھ کر 28.9فیصد ہو گئی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ بات کوئی پی ٹی آئی لیڈر یا حکومت مخالف صحافی نہیں کہہ رہا بلکہ یہ انکشاف گزشتہ روز وفاقی وزیر احسن اقبال نے خود ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ہے کہ 19۔2018ء میں پاکستان میں غربت کی شرح 21.9فیصد تھی۔ جبکہ پالیسی کے عدم تسلسل، کرونا وبا اور آئی ایم ایف پروگرامز سے غربت میں اضافہ ہوا۔ واضح رہے کہ ان
دنوں ماہ رمضان میں ملک بھر میں آٹے اور چینی کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ہوا ہے اور مہنگائی کی شرح مزید بڑھ گئی ہے۔ رمضان المبارک میں عوام کے غصے کو دیکھتے ہوئے وزیر خزانہ کے ہونہار مشیر خرم شہزاد بھی میدان میں اتر آئے ہیں تاہم انہوں نے بھی تسلیم کیا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ تقریباً 6سال کے عرصے میں غربت میں 7فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہوا ہے، جب 2018۔19ء میں غربت 21.9فیصد سے بڑھ کر 25۔2024ء میں 28.9فی صد تک پہنچی، تاہم مشیر وزیر خزانہ نے اپنی نوکری کے تقاضوں کے مطابق اس کی تمام تر ذمہ داری بیرونی عوامل پر ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ غربت میں اضافے کو پاکستان کو درپیش بحرانوں کے تناظر میں سمجھنا ہوگا کہ مالی سال 2019کے بعد کرونا وبا، عالمی اجناس کی مہنگائی، جغرافیائی کشیدگی نے معیشت پر گہرا اثر ڈالا، 2022ء اور 2025ء کے سیلاب نے دیہی روزگار، زراعت اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا۔ دیہات ماحولیاتی بحران اور بڑھتی لاگت جبکہ شہر مہنگائی اور سست معیشت سے متاثر ہوئے۔ خیال رہے کہ مشیر خزانہ کی اس رپورٹ میں کرونا، عالمی مہنگائی، جغرافیائی کشیدگی اور سیلاب کا ذکر تو ہے جو واقعی اہم عوامل ہیں مگر کیا اندرونی معاشی پالیسیوں کی ناکامی کا کوئی کردار نہیں۔ وہاں سوال بھی اٹھے کہ ٹیکس اصلاحات، توانائی قیمتوں اور شرح سود میں اضافے کا اثر کیا تھا لیکن خرم شہزاد نے ان سوالات کے جواب فراہم کیے بغیر گول مول سا جواب دے دیا کہ حکومت سماجی اور ترقیاتی پروگراموں کے ذریعے غربت پر قابو پانے کے لئے کوشاں ہے اور غربت کے مقابلے کے لئے سماجی تحفظ اور ہدف شدہ ترقیاتی منصوبے جاری ہیں۔ تاہم اس لفاظی کا اثر اب عوام پر بالکل نہیں ہوتا اور ان کی مایوسی دن بدن بڑھ رہی ہے۔
اگر معاشی ناہمواری کی بات کریں تو ایک تازہ اور محتاط سروے کے مطابق بھی پاکستان کے چاروں صوبوں میں غربت کی شرح میں اضافہ ہوا ہے اور معاشی ناہمواری 28.4سے بڑھ کر32.7فیصد ہو گئی ہے، شہری علاقوں میں غربت 11فیصد سے بڑھ کر 17.4فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں غربت 28.2سے بڑھ کر 36.2فیصد ہو گئی ہے۔ پنجاب میں غربت 16سے بڑھ کر 23.3فیصد، سندھ میں غربت 24.5 سے بڑھ کر 32.6فیصد، خیبر پختونخوا میں غربت 28.7سے بڑھ کر 35.3فیصد جبکہ بلوچستان میں غربت 41.8فیصد سے بڑھ کر 47فیصد ہو گئی ہے۔
قیام پاکستان کے بعد سے اب تک ہر گزرتا دن اور سال محرومیوں اورغربت کے سوا عام پاکستانی کو اور کچھ نہیں دے کر جاتے۔ چھ ماہ قبل بھی عالمی بینک کا یہی کہنا تھا کہ پاکستان میں گزشتہ 3سال میں غربت کی شرح میں 7فیصد اضافہ ہوا، جس کے تدارک کے لئے عالمی بینک نی تجویز کیا تھا کہ پاکستان کو غربت میں کمی، کمزور طبقات کے تحفظ کیلئے اصلاحات کی ضرورت ہے لیکن افسوس کہ یہاں کمزور طبقات کو کسی بھی حکومتی ترجیح میں شامل ہی نہیں کیا جا رہا۔ عالمی بینک نے اپنی اس رپورٹ میں یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان میں قومی غربت کی شرح جو 2001۔02میں 64.3فیصد سے مسلسل کم ہو کر 2018۔19ء میں 21.9فیصد تک آ گئی تھی، 2020ء سے دوبارہ بڑھنا شروع ہو گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق غربت میں اضافے کی بڑی وجوہات کوویڈ۔19، مہنگائی، سیلاب اور میکرو اکنامک دبائوشامل ہیں لیکن اس کی ایک وجہ وہ کھپت پر مبنی ترقیاتی ماڈل بھی ہے، جس نے ابتدائی کامیابیاں تو دیں لیکن اب اپنی حد کو پہنچ چکا ہے۔ پاکستان کی غربت، ایکوٹی اور ریسائلنس اسیسمنٹ کے نام سے جاری کردہ یہ رپورٹ 2000ء کی دہائی کے اوائل کے بعد سے پاکستان میں غربت اور فلاحی رجحانات کا پہلا جامع تجزیہ تھا۔ رپورٹ کے ذریعے سامنے آنے والی مسائل کے حل کے لئے غریب اور کمزور خاندانوں کے تحفظ، روزگار کے مواقع میں بہتری اور بنیادی خدمات تک سب کی رسائی کو بڑھانے کے لئے پائیدار اور عوام مرکوز اصلاحات پر زور دیا گیا تھا۔ اس جائزے سے معلوم ہوا تھا کہ گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستان میں غربت میں کمی کی بڑی وجہ غیر زرعی محنتانہ آمدنی میں اضافہ تھا، کیونکہ زیادہ تر گھرانے کھیتی باڑی چھوڑ کر کم معیار کی خدمات کی ملازمتوں کی طرف منتقل ہو گئے تھے۔ سست اور غیر متوازن ڈھانچہ جاتی تبدیلی نے متنوع معیشت، روزگار کے مواقع اور شمولیتی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈالی، اس کے نتیجے میں مختلف شعبوں میں کم پیداواری صلاحیت نے آمدنی کے بڑھنے کو محدود کیا، اب بھی 85فیصد سے زائد ملازمتیں غیر رسمی ہیں اور خواتین اور نوجوان بڑی حد تک لیبر فورس سے باہر ہیں۔رپورٹ میں گزشتہ 25برس کے سرکاری گھریلو سرویز، نئے تخمینے، جغرافیائی تجزیے اور مختلف انتظامی ڈیٹا ذرائع استعمال کئے گئے۔ اس رپورٹ میں سرکاری غربت کے تخمینے ہائوس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے ( ایچ آئی ای ایس) کی متعدد لہروں پر مبنی ہیں، جو پاکستان کی قومی غربت لائن اور طریقہ کار کے تحت کیے گئے اور پالیسی سازی کیلئے سب سے موزوں سمجھے جاتے ہیں۔ بین الاقوامی موازنوں کیلئے رپورٹ میں 2018۔19ء کے بعد کے عرصے کے لئے جون 2025ء میں اپ ڈیٹ ہونے والی عالمی غربت کی حدیں استعمال کی گئی ہیں، جو کہ دستیاب آخری سروے ہے، مائیکرو سمیولیشن ماڈلز کے ذریعے غربت کے تخمینے لگائے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر برائے پاکستان بولورما آمگابازر نے کہا کہ یہ نہایت اہم ہو گا کہ پاکستان اپنی بڑی محنت سے حاصل شدہ غربت میں کمی کے ثمرات کو محفوظ رکھے اور ان اصلاحات کو تیز کرے جو خصوصا خواتین اور نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع بڑھانے میں مثبت کردار ادا کریں۔ لیکن عملی طور پر صورتحال یہ ہے کہ حکومت کی ترجیحات معاشی نہیں سیاسی ہیں۔ ان حالات میں مجبور پاکستانی عوام اپنی قسمت کو رو رہے ہیں اور حکومت اور اپوزیشن سیاست کے چکروں میں ایسے گم ہیں کہ انہیں کچھ اور نظر ہی نہیں آ رہا۔ موجودہ حکومت کا صرف ایک ہی کریڈٹ ہے کہ اس نے ملکی معیشت کو ڈیفالٹ ہونے سے بچایا۔ رہی بات عالمی سفارتی کامیابیوں کی تو ان کامیابیوں سے اگر معیشت اڑان نہیں بھرتی تو بیرونی ممالک کے دوروں سے کیا حاصل؟۔
سی ایم رضوان





