Column

سیاسی ہلچل اور ابہام …. روشن لعل

روشن لعل

پاکستان میںسیاسی ہل ڈول کبھی ناپید نہیں ہوئی ، بعض اوقات تو ایسا ہوتا ہے کہ سیاسی ہل ڈول اچانک سیاسی ہلچل میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ ہمارا آج کا سیاسی منظر نامہ سیاسی ہلچل سے بھر پور نظر آرہا ہے۔ ستمبر 2020 میں بننے والی پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (PDM) یہاں بلند و باگ دعووں کے باوجود سیاسی ہل ڈول جیسی کارروائیاں ڈالنے کے علاوہ کچھ بھی نہ کرسکی مگر پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے لانگ مارچ کی تیاریوں کے دوران یہاں ایسی لہر اٹھی کہ نہ نظر آنی والی سیاسی ہل ڈول یکا یک ، نمایاں سیاسی ہلچل میں تبدیل ہوگئی۔ اس وقت یہاں سیاسی ہلچل کا یہ عالم ہے کہ ایک طرف بلاول کا لانگ مارچ طے شدہ شیڈول کے مطابق اپنے نشانے کے قریب پہنچ چکا ہے تو دوسری طرف وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی تیاریاں زوروں پر دکھائی دے رہی ہیں۔ تحریک عدم اعتماد کی تیاریوں کا توڑ کرنے کی سرتوڑ کوششیں کرتے ہوئے دوسروں کو نہ گھبرانے کا مشورہ دینے والے عمران خان خود زبردست گھبراہٹ کا شکار نظر آرہے ہیں ۔ اسی سیاسی ہلچل کی برکت نے عرصہ دراز سے علیل چودھری شجاعت حسین کو یکایک قومی مریض کا سا رتبہ عطا کردیا ہے۔ اس سیاسی ہلچل میں یہ بھی ہوا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے رویوں کا ابہام کھل کر سامنے آگیا ہے۔

(ن) لیگی قیادت کے رویوں کا ابہام یہ ہے کہ وہ عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کا ساتھ دینے کے لیے تو آمادہ ہیں مگر اس تحریک کی کامیابی کے لیے دیئے گئے آصف علی زرداری کے فارمولے پر عمل کرنے کے لیے تیار نظر نہیں آرہے۔عمران خان کو ہٹانے کے لیے آصف علی زرداری کا فارمولاہر گز پیچیدہ نہیں ۔ بلاول نے اپنے لانگ مارچ کے دوران یہ ذکر کیا تھا کہ اگرعمران خان کو ہٹانے کے لیے (ق) لیگ کو اپنے ساتھ ملانا ہے تو انہیں اس سے کچھ زیادہ دینا ہوگا جو تحریک انصاف نے پہلے سے دے رکھا ہے ۔ (ق) لیگ کے پاس صوبائی اور مرکزی وزارتوں کے علاوہ ایک بڑا عہدہ پنجاب اسمبلی کی سپیکر شپ بھی ہے۔ (ق) لیگ کو پنجاب کی اسمبلی سپیکر شپ سے جو بڑاعہدہ دیا جاسکتا ہے وہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ ہے۔(ق) لیگ کی طرف سے چودھری پرویز الٰہی کے لیے اس عہدے کا متمنی ہونے کااظہار چودھری شجاعت حسین کر چکے ہیں۔ چودھری شجاعت کا یہ بیان بھی سامنے آچکا ہے کہ چودھری پرویز الٰہی کے وزیر اعلیٰ پنجاب بننے کی راہ میں مسلم لیگ (ن) رکاوٹ ہے۔ چودھری شجاعت حسین کی اس بات کی تصدیق مسلم لیگ (ن) کے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے یہ کہتے ہوئے کی تھی کہ چودھری پرویز الٰہی کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ کی پیشکش پر ان کے تحفظات ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے لوگوں کے رویوں کا ابہام اپنی جگہ لیکن اس کے باوجود پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی پر مشتمل تمام پارلیمانی اپوزیشن عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے ۔ ان سرگرمیوں کے سلسلے میں اپوزیشن جماعتوں کی قیادت کے پے درپے باہمی رابطوں کے ساتھ ساتھ اہم حکومتی اتحادی (ق) لیگ کے چودھری برادران سے بھی ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ ان ملاقاتوں کے جواب میں عمران خان نہ صرف (ق) لیگ کی قیادت سے ملے بلکہ اب وہ ایم کیو ایم کے لوگوں سے بنفس نفیس ملنے بہادر آباد کراچی بھی جارہے ہیں۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ (ن) لیگ جو کچھ (ق) لیگ کو نہیں دینا چاہتی اگر اسے دے کر عمران خان اپنا اتحادی بنائے رکھتے ہیں تو عدم اعتماد کی اس تحریک سے کیا امیدیں وابستہ رہ جائیں گی جو تمام اپوزیشن وزیراعظم کے خلاف پیش کرنا چاہتی ہے۔ ایم کیو ایم کے متعلق یہ باتیں سامنے آچکی ہیں کہ وہ عمران خان یا اپوزیشن میں سے جو پلڑا بھی جھکتا ہوا دیکھے گی اسی میں اپنا وزن ڈال دے گی مگر (ق) لیگ کے لیے ایسا نہیں کہا جاسکتا ۔ (ق) لیگ کے بغیر عمران خان کو ہٹانے کی اپوزیشن کی امیدیں بر آنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے کہ جہانگیر ترین گروپ اتنی بڑی تعداد میں تحریک انصاف کے اندر بغاوت کرے کہ (ق) لیگ کے ننھے منے گروپ کی طرف سے عمران خان کی حمایت یا مخالفت بے معنی ہو کر وہ جائے۔ تحریک انصاف میں جہانگیر ترین گروپ کی موجودگی سے انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن اس بارے میں حتمی طور پریہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ وہ عمران خان کو ہٹانے کے لیے کس قدر موثر ثابت ہو سکتا ہے۔
اس وقت ملک میںجو سیاسی ہلچل برپا ہے اس پر سب کی نظریں ہیں مگر اس ہلچل میں موجود ابہاموں کی وجہ سے جو صورت حال سامنے آتی ہے وہ سادہ نہیں پیچیدہ ہے۔ اس پیچیدگی کو دیکھتے ہوئے کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس کا نتیجہ ہر صورت میں عمران خان کی حکومت کے خاتمہ کی صورت میں ہی برآمد ہوگا۔ جو صورتحال سادہ ہو سکتی تھی وہ اگر پیچیدہ ہے تو اس کی وجہ مسلم لیگ (ن) کی تنگ دلی اور کسی نہ کسی حد تک بخیلی بھی ہے۔ (ن) لیگ کی قیادت کے رویے سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ شراکت اقتدار یا کسی کو کچھ حصہ دینے کی بجائے اس کی ترجیح مکمل اجارہ داری ہے۔ طویل عرصہ تک مکمل اجارہ داری حاصل کر کے (ن) لیگ کی قیادت کو جو تجربات ہوئے وہ کوئی ایسے خوشگوار نہیں ہیں مگر تلخ تجربات کے باوجود بھی نہ جانے کیوں یہ لوگ مختصر ترین مدت کے لیے بھی اپنی ترجیحات سے ہٹ کر کسی کو کچھ دینے کے لیے تیار نظر نہیں آرہے ۔ اس رویے کو ان کی سیاسی ناپختگی بھی کہا جاسکتا ہے ۔ سیاسی پختگی کا تقاضا تو یہ ہوتا ہے کہ کسی بھی بڑے مقصد کو پانے کے لیے وقتی طور پر چھوٹی موٹی قربانیاں دینے سے دریغ نہ کیا جائے مگر یہاں معاملہ یہ ہے کہ عمران خان کو ہٹانا اپنا نصب العین قرار دینے کے باوجود چودھری پرویز الٰہی کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنانے سے انکار کیا جارہا ہے۔
چاہے پرویز الٰہی کو وزیر اعلیٰ پنجاب قبول کرنے کے لیے مسلم لیگ (ن) کی قیادت کا رویہ مبہم نظر آرہا ہے مگر بعض مبصر عمران خان کی حکومت کی ڈگمگاہٹ کو دیکھتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی کی اکثریت کو اب عمران کی ذات ، شخصیت اور سیاست میں ایسی کوئی کشش نظر نہیں آرہی جو انہیں اپنے وعدوں اور دعووں کے برعکس کارکردگی دکھانے کے باوجود دوبارہ اسمبلیوں میں پہنچا دے۔ عمران خان پر ان کے اپنے ہی لوگوں کا عدم اعتماد کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ۔ چاہے عمران خان کے ساتھی اراکین اسمبلی کا اعتماد ان پر پہلے جیسا نہیں رہا مگراس عدم اعتما د کا کھلے عام اظہار وہ کسی ایسی چھتری کے اپنے اوپر اعتماد کے بعد کریں گے جہاں وہ عمران خان کی چھتری سے اڑ کر بیٹھ جائیں۔ کیا ابہاموں کا شکار مسلم لیگ (ن) کی قیادت ایسے لوگوں کے لیے اپنی چھتری کشادہ کر سکے گی۔ اگر یہ بھی نہیںہوگا تو پھر ہو سکتا ہے کہ مبہم رویوں کی وجہ سے سیاسی ہلچل کا نتیجہ ٹائیں ٹائیں فش ہی نکلے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button