تازہ ترینخبریںپاکستان سے

چیف جسٹس کے تقرر میں سینیارٹی اصول کی خلاف ورزی ہوئی، صدر سپریم کورٹ بار

فل کورٹ ریفرنس پر سپریم کورٹ بار ایسوسی کے صدر احسن بھون نے ریٹائرڈ چیف جسٹس گلزار احمد کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس گلزار احمد کے بطور جج تقرر پر سینیارٹی کے اصول کی خلاف ہوئی میرٹ کے برعکس تعیناتیوں کے باعث عدلیہ کو سنگین بحران کا سامنا ہے۔

صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن یہ بھی کہا کہ اسلام آباد، لاہور اور پشاور ہائیکورٹ میں ججز کی تعیناتی میں سینیارٹی کے اصول پامال کیے گئے۔

اس موقع پر احسن بھون نے چیف جسٹس گلزار احمد فیصلوں کی تعریف بھی کی اور کہا کہ انہون نے مقامی حکومتوں کی تحلیل کیخلاف تاریخ ساز فیصلہ دیا لیکن 7ماہ گزرنے کے باوجود بھی مقامی حکومتوں کے فیصلے پرعملدرآمد نہیں کیا گیا۔

مزید کہاکہ پنجاب حکومت کے رویے کےخلاف متاثرہ فریقین کی درخواستوں کو شنوائی نہیں ملی، عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد نہ ہونے پر ایک منتخب وزیراعظم کو گھر بھیج دیا گیا۔

احسن بھون کا مزید کہنا تھا کہ وکلاء تنظیموں نے آئین وقانون کی بالادستی پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا لیکن جوڈیشل کمیشن میں ججز کی اکثریت سے باقی نمائندوں کی رائے غیر مؤثر کردی گئی۔

ریٹائرڈ چیف جسٹس سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کا مزید کہنا تھا کہ اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں اور ان پر عملدرآمد کے معیار یکساں ہوں گے تو کسی کو انگلی اٹھانے کا موقع نہیں ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ججز کی زیادہ تر تعیناتیاں ذاتی پسند اور نا پسند کی بنیاد پر ہوئیں وکلاء تنظیموں نے آرٹیکل 209 کے تحت جوڈیشل کمیشن کے اختیارات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

احسن بھون نے شکوہ کیا کہ قانون اور آئین کے تحت یکساں احتساب کے بجائے من پسند احتساب کو ترجیح دی گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button