Ali HassanColumn

بڑی طاقتوں کے درمیان بنا پاکستان سینڈ وچ .. علی حسن

علی حسن

 

ایک تاریخی آزمائش کے موقع (سیلاب کا سامنا) پر پاکستان کو جس طرح دو بڑی طاقتوں کے درمیان سینڈ وچ بنا یا جارہا ہے، وہ بھی تاریخی عمل اور قرضوں پر زندہ رہنے والے ممالک کیلئے سبق آموز ہے۔ پاکستان کی تباہ شدہ اور خستہ معاشی صورت حال نے اس کو اپاہج ہی کر دیا تھا کہ قوت برداشت سے باہر بارش اور سیلاب نے معیشت پر ایسا بوجھ ڈال دیا جس کو برداشت کرنے کیلئے حکمرانوں کو بین الاقوامی سطح پر ہاتھ پھیلانا پڑا۔ یہ پاکستان کے حال اور ماضی کے حکمرانوںکیلئے سبق کا موقع بھی ہے کہ جو اقوام اپنی آمدنی اور اخراجات میں توازن نہیں رکھتیں، جو کرپشن کے دلدل میں دھنسی ہوتی ہیں، انہیں کشکول ہی پھیلانا پڑتا ہے اور یہ ان ممالک پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ کیا تبصرے کرتے ہوئے ، کس انداز میں کتنی امداد کرتے ہیں۔ گزشتہ پچیس سال کے دوران کئی مواقعوں پر پاکستان کی دنیا کے ممالک نے امداد کی ہے، لیکن پاکستان کی حکومتوں نے ان امدادی رقوم کا دنیا کی نظر میں درست استعمال نہیں کیا۔ پاکستانی حکمران شتر مرغ کی طرح اپنی گردن ریت میں رکھتے ہیں اور اس خام خیالی کا شکار رہتے ہیں کہ دنیا پاکستان میں کی جانے والی کرپشن سے لاعلم رہے گی۔
امریکہ اور چین دونوں ملک مصیبت کے اس مرحلے میں دونوں پاکستان کو مشورے تو دے رہے ہیں لیکن پاکستان کو سیلاب متاثرین کی ضرورتوں اور مشکلات سے نمٹنے کا قابل عمل حل کوئی نہیں بتا رہا۔ اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس کے موقع پر واشنگٹن میں وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ امریکی وزیر خارجہ کی ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں خطے کی صورتحال اور دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، بلاول بھٹو نے پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے بارے میں آگاہ کیا، امریکی وزیرخارجہ نے سیلاب متاثرین کیلئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی لیکن مشورہ دیا ہے کہ ’’ پاکستان بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر ر کھے اور سیلاب سے تباہی کے سبب قرضوں میں نرمی کیلئے قریبی دوست ملک چین سے ریلیف حاصل کرے‘‘۔ دوران ملاقات بھارت کے ساتھ ذمہ دارانہ تعلقات کو منظم کرنے کی اہمیت کے بارے میں بات ہوئی اورامریکی وزیر خارجہ نے اپنے دوست (پاکستان) پر زور دیا کہ چین سے قرضوں میں نرمی اور قرضوں کی تنظیم نو کے بعض اہم امور پر بات کریں تاکہ پاکستان سیلاب سے پیدا شدہ حالات کے اثرات سے جلد از جلد نکل سکے ۔پاکستان چین کا 30 ارب ڈالر کا مقروض ہے جوکہ بیرونی قرضوں کا ایک تہائی حصہ ہے۔ پاکستان کے حالیہ سیلاب سے اب تک کم از کم سولہ سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ حکومت کا تخمینہ ہے کہ ملکی معیشت کو 30 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان پہنچا ہے۔
آزمائش کے ایسے موقع پر جب برطانیہ جیسے ملک کے رقبہ اور کینیڈا کی آبادی جتنے شہری سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں اور زیر آب ہیں، امریکی وزیر خا رجہ کا پاکستان کو یہ یاد دلانا بھی بلا مقصد نہیں ہے کہ ’’ افغانستان میں دو دہائیوں سے جاری جنگ کے دوران پاکستان کے ساتھ امریکہ کے تعلقات تیزی سے خراب ہوئے ۔ ہمارے اختلافات ہیں اور یہ کوئی راز نہیں ہے۔افغانستان کی ترقی پاکستان اور امریکہ دونوں کیلئے ضروری ہے، افغانستان کی ترقی پاکستان اور امریکہ دونوں کا مشترکہ مسئلہ ہے۔جس میں خواتین اور لڑکیوں کیلئے زیادہ سے زیادہ آزادی بھی شامل ہے، جن کے حقوق طالبان نے ایک بار پھر بڑی حد تک سلب کرلیے ہیں ۔ یہ بھی عجیب بات ہے کہ پاکستان کے عوام اس مرحلہ پر جاں بلب ہیں، اور ان سے اس مرحلہ پر ’’ ڈو مور‘‘ کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ پاکستان کو سمجھایا جا رہا ہے کہ بھارت کے ساتھ تعلقات کو استوار کرے اور افغانستان کے حالات کو بہتر کرنے میں مدد کرے۔ پاکستانی حکمرانوں کو سوچنا چاہیے کہ کیا پاکستان کیلئے یہ مرحلہ سفارتکاری کا ہے یا اپنے عوام کے وجود کو بچانے کا ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ نے ملاقات کے بعد ہونے والی پریس کانفرنس میں کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات نہ صرف لچکدار ہیں بلکہ وہ وقت کی کسوٹی پر بھی پورے اترے ہیں۔ ہم نے پوری تاریخ میں ثابت کیا ہے کہ جب ہم مل کر کام کرتے ہیں، تو عظیم مقاصد حاصل کر لیتے ہیں اور میرے خیال میں جب ہم مل کر کام نہیں کرتے تب ہم بھٹک جاتے ہیں۔ پھر ہم لڑکھڑا جاتے ہیں اور پھر معاملات غلط ہو جاتے ہیں ۔ پاکستان میں حکمرانی کرنے والا دولت مند طبقہ جس میں سیاسی رہنماء بشمول نواز شریف اور آصف زرداری شامل ہیں، وقت کے تقاضے کی روشنی میں اپنا کردار ادا کریں اور دنیا کے سامنے پھیلے ہوئے پاکستانی کشکول میں اپنی دولت میں سے اتنی رقم ڈالیں کہ سیلاب زدہ لوگوں کی بحالی کا کام سر انجام دیا جا سکے اور معیشت کو سہارا مل سکے ۔ وہ یہ رقم پاکستان کو اگر امداد میں نہیں دیتے ہیں تو قرضہ کے طور پر ہی دے دیں ۔ اگر عوام سلامت رہیں گے اور ملک اپنے پیروں پر کھڑا رہے گا تو سیاست بھی ہو سکے گی اور حکمرانی بھی ہوتی رہے گی۔ اگر پاکستان کا دولت مند طبقہ اس وقت آگے نہیں بڑھے گا تو یہ بین الاقوامی قرضے پاکستان کی جان بھی لے سکتے ہیں۔
دوسری طرف پاکستان میں چینی سفیر نونگ رنگ نے ایک بار پھر امریکہ کو جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاک چین تعاون پر تنقید کرنے والے ملک مشکل کی گھڑی میں پاکستان کی عملی مدد کریں۔چین کے قومی دن کے موقع پر ان کا پیغام جو انگریزی زبان کیساتھ ساتھ پاکستان کی علاقائی زبانوں میں بھی جاری کیا گیا ۔ اس میں چینی سفیر نے کہا کہ پاکستان میں سیلاب کے بعد چین نے اب تک قریباً 9کروڑ ڈالر امداد دی ہے جو اعلان کردہ امداد پاکستان کو ملنے والی سب سے بڑی امدادہے۔ انہوں نے کہاکہ مشکل کی اس گھڑی میں چین پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے، انہوں نے امریکہ کا نام لئے بغیر کہا کہ پاک چین تعاون پر تنقید کرنے والے ملک مشکل کی گھڑی میں پاکستان کی عملی مدد کریں۔ اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ کی جانب سے پاکستان کو چین سے قرضوں میں ریلیف لینے کے مشورے پر چینی وزارت خارجہ نے رد عمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ سیلابی صورتحال کے بعد سے ہی چین پاکستان کی مدد کر رہا ہے اور چین نے مشکل وقت میں پاکستان کی حقیقی دوست اوربھائی کی طرح مدد کی ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے امریکہ کو مشورہ دیا تھا کہ پاک چین تعاون پربلاوجہ تنقید کے بجائے امریکہ پاکستانی عوام کی حقیقی معنوں میں مدد کرے۔ آئی ایم ایف نے پاکستان کو یہ بھی خبردار کیا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے میں سرمایہ کاری سے ترقی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں لیکن منصوبے کے قرضے خطرہ بن سکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button