تازہ ترینخبریںدنیاسیاسیات

چین کے اعلیٰ سطحی وفد کا لاہور چیمبر کا دورہ

چین کے اعلی سطحی وفد کا دورہ لاہور چیمبر

پاکستان اور چین کے صوبہ سنکیانگ کے درمیان زراعت، ٹیکسٹائل، فوڈ پروسیسنگ، لائیو اسٹاک اور صنعتی شعبوں میں مشترکہ منصوبہ سازی کے وسیع امکانات ہیں: سربراہ چینی وفد

لاہور، 4 نومبر۔ چین کے ایک اعلی سطحی وفد نے لاہور چیمبر کے دورہ کے دوران دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون کو وسعت دینے کے لیے زراعت، ٹیکسٹائل، فوڈ پروسیسنگ، لائیو اسٹاک، ٹیکنالوجی کی منتقلی، کراس بارڈر ای کامرس، سیاحت، مہمان نوازی اور علاقائی رابطوں سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ وفد کی سربراہی ہا زینگ یو کررہے تھے جبکہ صدر لاہور چیمبر علی حسام اصغر، چینی سفارت خانے کے منسٹر قونصلر یانگ گوانگ یوان، سینئر نائب صدر سردار عثمان غنی، نائب صدر چودھری خادم حسین اور سابق صدر لاہور چیمبر شہزاد علی ملک نے بھی اس موقع پر خطاب کیا۔ چینی وفد کے سربراہ ہا زینگ یو نے کہا کہ حکومتی سطح پر ہونے والے معاہدوں اور مفاہمتوں کے حقیقی ثمرات اسی وقت حاصل ہوسکتے ہیں جب کاروباری طبقہ آگے بڑھ کر انہیں قابل عمل تجارتی اور صنعتی منصوبوں میں تبدیل کرے۔ انہوں نے تعاون کے لیے چار ترجیحی شعبوں کی نشاندہی کرتے ہوئے زراعت و فوڈ پروسیسنگ، ٹیکسٹائل، تجارت کے نئے ذرائع اور علاقائی رابطوں و انفراسٹرکچر کو اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پھلوں، سبزیوں، سمندری خوراک، بیریز، خشک میوہ جات اور دیگر زرعی مصنوعات کی پیداوار میں نمایاں صلاحیت رکھتا ہے جبکہ سنکیانگ کو جدید زرعی کاشتکاری، لائیو اسٹاک، زرعی مصنوعات کی پروسیسنگ، کولڈ چین اور برآمدات کے لیے سپلائی چین کا تجربہ حاصل ہے۔انہوں نے اقتصادی زونز اور چیمبرز آف کامرس کے درمیان مستقل رابطہ کاری کا نظام قائم کرنے کی تجویز بھی دی تاکہ ادارہ جاتی تعاون اور کاروباری روابط کو مضبوط بنایا جاسکے۔لاہور چیمبر کے صدر علی حسام اصغر نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ اور آزمودہ دوستی کو مضبوط کاروباری شراکت داری، سرمایہ کاری اور عملی اقتصادی تعاون میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی وفد میں ٹیکسٹائل، زراعت، لائیو اسٹاک، پولٹری، فوڈ پروسیسنگ اور آبپاشی کے شعبوں سے وابستہ نمائندوں کی موجودگی دونوں خطوں کے درمیان تعاون کے نئے مواقع پیدا کرسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب پاکستان کا زرعی مرکز اور ٹیکسٹائل صنعت کا اہم صوبہ ہے جبکہ سنکیانگ کو کپاس کی پیداوار، جدید آبپاشی نظام، زرعی مشینری اور لائیو اسٹاک کے شعبوں میں نمایاں تجربہ حاصل ہے۔ انہوں نے پانی کے مو¿ثر استعمال پر مبنی زراعت، کپاس کی پیداوار میں اضافہ، فوڈ پروسیسنگ، پیکجنگ، کولڈ چین اور حلال گوشت کی صنعت کو مشترکہ منصوبوں اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے لیے اہم شعبے قرار دیا۔علی حسام اصغر نے چینی سرمایہ کاروں کو پنجاب کے صنعتی انفراسٹرکچر، صنعتی اسٹیٹس اور سی پیک اسپیشل اکنامک زونز میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ صوبے کی ہنرمند افرادی قوت اور اہم علاقائی منڈیوں تک رسائی سرمایہ کاروں کے لیے اہم موقع ہے۔ لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر سردار عثمان غنی نے کہا کہ لاہور کا محل وقوع، ترقی یافتہ ٹرانسپورٹ نیٹ ورک اور مشرق، مغرب اور جنوب کی اہم تجارتی گزرگاہوں تک رسائی اسے بین الاقوامی سرمایہ کاری کے لیے پرکشش مقام بناتی ہے۔ انہوں نے لاہور میں چائنا ٹاو¿ن قائم کرنے کی تجویز پیش کی جہاں چینی شہریوں، ماہرین اور سرمایہ کاروں کو مناسب سہولیات اور سکیورٹی کے ساتھ رہائش اور کاروبار کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جائے۔ اس اقدام سے لاہور اور پنجاب میں چینی سرمایہ کاروں اور پیشہ ور افراد کے لیے مزید بہتر ماحول پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔سابق صدر لاہور چیمبر شہزاد علی ملک نے پاکستان کی زرعی معیشت اور ٹیکسٹائل صنعت میں کپاس کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو کپاس کی کاشت، بیجوں کی تیاری، فصلوں کے انتظام اور جدید آبپاشی کے شعبوں میں چین کے تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ سنکیانگ اور ایکس پی سی سی نے کپاس کی پیداوار اور جدید زرعی طریقوں میں قابل قدر مہارت حاصل کی ہے، جس سے پاکستان اپنی ملکی پیداوار بڑھا سکتا ہے۔ انہوں نے چین کی جِنگ ہوا سیڈ انڈسٹری کمپنی کے ساتھ بیجوں کی تیاری اور اقسام میں بہتری کے لیے جاری تعاون کا حوالہ دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ایکس پی سی سی کے ساتھ بھی اسی نوعیت کا تعاون کپاس کی پیداوار میں اضافے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔سابق نائب صدر ذیشان خلیل اور ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین شیخ محمد ابراہیم، ساحر مشتاق، عدیل بابر خان، محمد عمر عبداللہ، نائلہ ندیم، شہزاد محمود، ذوالفقار علی چوہدری، محمد اعجاز غوری، طارق محمود اور علی رضا سمیت دیگر چینی مندوبین اجلاس میں شریک تھے۔

جواب دیں

Back to top button