
آذربائیجان کی حکومت کی جانب سے اسکولوں میں طالبات اور تدریسی عملے کے حجاب پہننے پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق گزشتہ ماہ منظور کی گئی ایک ترمیم میں اگرچہ واضح طور پر حجاب پر پابندی کا ذکر نہیں کیا گیا تاہم اسکولوں میں ایسے لباس پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جو حکومت کے بقول ریاست کے ’سیکولر اصولوں‘ کے خلاف ہو۔
آذربائیجان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اس قانون کا مقصد سرکاری تعلیمی اداروں میں یکساں ڈریس کوڈ نافذ کرنا ہے تاکہ اساتذہ کے ‘پیشہ ورانہ معیار’ اور اسکول کی ‘عوامی ساکھ’ کو بہتر بنایا جا سکے۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق تقریبات کے لیے مخصوص ثقافتی لباس پہننے کی اجازت پیڈاگوجیکل کونسل کی منظوری سے مشروط کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ آذربائیجان کی تقریباً 96 فیصد آبادی مسلمان ہے تاہم ملکی آئین مذہبی آزادی کی ضمانت دینے کے ساتھ ساتھ ریاست کو سیکولر قرار دیتا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق نئے قانون پر عمل درآمد کے دوران بعض اسکولوں میں اساتذہ اور طالبات کو داخلے سے روکے جانے پر ایک سوشل میڈیا مہم اور مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ وائرل ہونے والی ویڈیوز میں طالبات کو اسکول سے نکالے جانے پر روتے اور اپنی اساتذہ کے گلے لگتے دیکھا جا سکتا ہے۔







