
وزیراعظم شہباز شریف ڈیجیٹل انوائسنگ کے نفاذ سے قبل ایف بی آر پورٹل اور انٹرنیٹ انفراسٹرکچر کا جائزہ لیں، بھاری جرمانوں سے کاروباری بے چینی بڑھ رہی ہے: سابق صدر لاہور چیمبر محمد علی میاں
لاہور، 2 جولائی: لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر اور سابق مشیر وزیراعلیٰ پنجاب محمد علی میاں نے وزیراعظم محمد شہباز شریف سے اپیل کی ہے کہ وہ ملک میں لازمی ڈیجیٹل انوائسنگ کے نفاذ سے قبل ایف بی آر کے ڈیجیٹل پورٹل، ملکی انٹرنیٹ انفراسٹرکچر اور متعلقہ اداروں کی عملی استعداد کا فوری جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس طلب کریں، کیونکہ موجودہ صورتحال میں سخت جرمانوں اور تادیبی اقدامات نے ملک بھر کی کاروباری برادری میں شدید بے چینی اور غیر یقینی کی فضا پیدا کر دی ہے۔
محمد علی میاں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے معیشت کی دستاویز بندی، ٹیکس نیٹ میں توسیع اور ڈیجیٹلائزیشن قابلِ تحسین قومی اہداف ہیں، تاہم ان مقاصد کے حصول کے لیے مضبوط، قابلِ اعتماد اور عملی طور پر مؤثر ڈیجیٹل نظام بنیادی شرط ہے۔ موجودہ حالات میں ایف بی آر کا پورٹل بار بار تکنیکی خرابیوں، سسٹم کی سست رفتاری، ویلیڈیشن ایررز، ڈیٹا اپ لوڈ میں مشکلات اور غیر متوقع تعطل کا شکار رہتا ہے، جبکہ ملک کے مختلف علاقوں میں انٹرنیٹ اور نیٹ ورک کی غیر یقینی صورتحال بھی ڈیجیٹل انوائسنگ کے مؤثر نفاذ میں ایک بڑی عملی رکاوٹ ہے۔
انہوں نے کہا کہ کاروباری حلقوں کا مؤقف ہے کہ مطلوبہ تکنیکی استعداد اور بنیادی انفراسٹرکچر کی عدم دستیابی میں سخت سزاؤں کا نفاذ اصلاحات کے عمل کو مشکل بنا سکتا ہے۔ اگر کسی ٹیکس دہندہ کی کمپلائنس میں رکاوٹ اس کی اپنی غفلت کے بجائے سرکاری پورٹل یا انٹرنیٹ نظام کی خرابی کے باعث پیدا ہو تو ایسے اداروں پر بھاری جرمانے یا سخت قانونی کارروائی نہ صرف غیر منصفانہ ہوگی بلکہ اس سے کاروباری اعتماد بھی متاثر ہوگا۔
محمد علی میاں نے کہا کہ کاروباری برادری اصلاحات کی مخالف نہیں بلکہ ایک ایسے عملی، مستحکم اور قابلِ اعتماد نظام کی حامی ہے جو کاروبار میں آسانی پیدا کرے، رضاکارانہ ٹیکس کمپلائنس کو فروغ دے اور صنعت و تجارت پر غیر ضروری انتظامی و مالی بوجھ نہ ڈالے۔
انہوں نے تجویز دی کہ حکومت کم از کم بارہ ماہ کا گریس پیریڈ دے، اس دوران ایف بی آر کے پورٹل اور ڈیجیٹل نظام کو مکمل طور پر مستحکم بنایا جائے، تکنیکی خامیوں کا خاتمہ کیا جائے، ملک بھر میں مؤثر تربیتی پروگرام شروع کیے جائیں اور جرمانوں کے بجائے سہولت کاری اور مرحلہ وار نفاذ کی پالیسی اپنائی جائے۔ مزید برآں، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو ان کے سالانہ ٹرن اوور کی بنیاد پر مرحلہ وار ڈیجیٹل انوائسنگ کے نظام میں شامل کیا جائے تاکہ کاروباری سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔
محمد علی میاں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت نے معیشت کے استحکام اور کاروباری ماحول کی بہتری کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں۔ انہیں یقین ہے کہ وزیراعظم اس معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے وزارتِ خزانہ، ایف بی آر اور ملک کی نمائندہ کاروباری تنظیموں کے درمیان بامقصد مشاورت کا آغاز کریں گے تاکہ ایسا متوازن، قابلِ عمل اور پائیدار نظام تشکیل دیا جا سکے جو ایک طرف قومی محصولات میں اضافہ کرے اور دوسری جانب صنعت، تجارت، سرمایہ کاری اور برآمدات کے فروغ میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہونے دے۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار ٹیکس اصلاحات کی بنیاد سخت جرمانے نہیں بلکہ مضبوط ادارہ جاتی استعداد، قابلِ اعتماد ڈیجیٹل نظام اور حکومت و کاروباری برادری کے درمیان باہمی اعتماد ہے۔







