تازہ ترینخبریںدنیاسپورٹسپاکستان

تمغہ امتیاز یافتہ شوٹر محسن نواز کا اعزاز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے نام کرنے کا اعلان*

*تمغہ امتیاز یافتہ شوٹر محسن نواز کا اعزاز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے نام کرنے کا اعلان*

 

لاہور: پاکستان کے مایہ ناز نشانہ باز اور تمغہ امتیاز یافتہ محسن نواز نے اپنا باوقار قومی اعزاز ‘پاکستان لانگ رینج رائفل ایسوسی ایشن’ (PLRA) کے سرپرستِ اعلیٰ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے نام کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کھیلوں اور کھلاڑیوں کی ترقی میں ریاستی اداروں کے کلیدی کردار پر بھی زور دیا۔

 

لاہور میں گفتگو کرتے ہوئے محسن نواز نے ملک میں شوٹنگ کے کھیل کی ترقی کا کریڈٹ ادارہ جاتی تعاون، حکومتی سرپرستی اور منظم ڈھانچے کو دیا۔ انہوں نے کابینہ ڈویژن اور پاکستان اسپورٹس بورڈ (PSB) کی کاوشوں کو سراہا، جن کی بدولت شوٹنگ کو قومی سطح پر یکساں مواقع میسر آئے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا:

 

"فیلڈ مارشل عاصم منیر نے شوٹنگ کے لیے بنیادی ڈھانچے اور سپورٹ سسٹم کی فراہمی میں مثالی سہولت کاری کی۔ پاکستان اسپورٹس بورڈ کے الحاق اور حکومتی تعاون سے اب پاکستانی شوٹرز عالمی سطح پر قومی پرچم تلے مقابلہ کرنے کے اہل ہو چکے ہیں۔”

 

محسن نواز نے بتایا کہ پی ایل آر اے (PLRA) کا قیام ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا ہے، جس نے ‘انٹرنیشنل کنفیڈریشن آف فل بور رائفل ایسوسی ایشنز’ (ICFRA) سے الحاق حاصل کر کے پاکستان کو پہلی بار بین الاقوامی سطح پر نمائندگی دلائی۔

 

بین الاقوامی سطح پر 10 انفرادی تمغے جیتنے اور برطانیہ، امریکہ اور جنوبی افریقہ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے محسن نواز نے اپنے دو دہائیوں کے تجربے کی روشنی میں کہا کہ پاکستان میں اس کھیل کا بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے۔ انہوں نے پاکستان آرمی جیسے منظم اداروں کے ساتھ تعاون کی اہمیت پر زور دیا جن کا نظم و ضبط اور مہارت بین الاقوامی معیار کے شوٹرز تیار کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

 

اپنے مستقبل کے عزائم کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ ورلڈ چیمپئن 2023 کے زیرِ نگرانی حاصل کردہ تربیت اور اپنے تجربات کو نئی نسل منتقل کرنا چاہتے ہیں تاکہ نوجوان عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کر سکیں۔

 

تمغہ امتیاز کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ اعزاز محض ایک ذاتی کامیابی نہیں بلکہ ایک بڑی ذمہ داری ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومتی اور ادارہ جاتی تعاون سے لگائے گئے اس پودے کو ہم کتنی بلندی تک لے جا سکتے ہیں۔ انہیں یقین ہے کہ مستقل ادارہ جاتی پشت پناہی اور سٹریٹجک پلاننگ کے ذریعے پاکستان مستقبل میں شوٹنگ کے عالمی افق پر ایک مضبوط قوت بن کر ابھرے گا۔

جواب دیں

Back to top button