تازہ ترینخبریںدنیاسیاسیات

نیتن یاہو نے انتخابات سے قبل تل ابیب پر جوہری حملے کی اے آئی تصویر شیئر کر دی

اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو نے انتخابات سے 2 روز قبل تل ابیب پر جوہری حملے کے نتیجے میں دھماکے کی مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ تصویر شیئر کر دی۔

گزشتہ روز نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ شیئر کی، جس میں دائیں بازو کے سیاسی مبصر یووال بلومبرگ کے بیانات بھی شامل تھے۔

ان بیانات میں ایران کی جانب سے اسرائیل کو لاحق خطرے سے خبردار کیا گیا تھا۔

پوسٹ میں انہوں نے لکھا ہے کہ ریاستِ اسرائیل کو حقیقی اور ٹھوس خطرہ لاحق ہے، اگر ایرانیوں نے جوہری ہتھیار حاصل کر لیے تو پھر کچھ بھی پہلے جیسا نہیں رہے گا۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم نے حکومت کے گرد جاری تنازعات کو ایک بہت بڑے دھویں کے پردے سے تشبیہ دی اور کہا کہ ان کا مقصد اس مسئلے کو چھپانا ہے جو اہمیت کے اعتبار سے باقی تمام معاملات پر کہیں زیادہ بھاری ہے۔

پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر ملک کے وسط میں 2 ایٹم بم گرتے ہیں تو ان تمام مصنوعی تنازعات کی پرواہ کون کرے گا؟
نیتن یاہو نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایران میں کارروائی مکمل کرنے کے لیے اسرائیل کے پاس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے مزید 2 سال موجود ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ اگر ہم اس تاریخی موقع سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہے تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔

نیتن یاہو نے پوسٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ اس مشن کو ایسا وزیرِاعظم مکمل نہیں کر سکتا جو ٹرمپ کو فون کر کے ان سے مسلسل اور قریبی گفتگو نہ کر سکے یا ٹی وی انٹرویو کے دباؤ کا سامنا نہ کر سکے۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کی پوسٹ سامنے آتے ہی یَشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزن کوٹ اور ڈیموکریٹس پارٹی کے سربراہ یائیر گولان نے نیتن یاہوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے

جواب دیں

Back to top button