بیانیوں کی جنگ اور مذاکرات کا المیہ

بیانیوں کی جنگ اور مذاکرات کا المیہ
حروف بے زباں
مرزا رضوان
پاکستان کی سیاست میں جب بھی بند گلی سے نکلنے کی کوئی کوشش کی جاتی ہے، تو وہ مذاکرات کی میز کے بجائے اکثر بیانیوں کی جنگ پر ختم ہوتی ہے۔ حالیہ دنوں میں حکومت اور پاکستان تحریکِ انصاف ( پی ٹی آئی) کے درمیان بات چیت اور اس کے بعد پیدا ہونے والے ڈیڈ لاک کی جو تصویر پیش کی جا رہی ہے، وہ ہماری سیاسی تاریخ کا وہی پرانا اور تلخ سبق دہراتی نظر آتی ہے۔ دونوں فریقین کے پاس اپنے اپنے دعوے، اپنی منطقیں اور مخالف کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بے شمار دلائل موجود ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ اس تمام تر کھیل میں سچائی کہاں کھو گئی ہے اور ملک کس سمت جا رہا ہے؟۔
ایک طرف پاکستان تحریکِ انصاف کا موقف ہے کہ حکومت مذاکرات کی ناکامی کی تمام تر ذمہ داری ان پر ڈال کر حقائق کو مروڑ کر پیش کر رہی ہے۔ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ وہ ملک میں سیاسی استحکام اور جمہوری قدروں کی بحالی کے لیے سنجیدگی سے بات چیت کے لیے تیار تھی، لیکن حکومت کے پاس نہ تو فیصلے کرنے کا حقیقی اختیار تھا اور نہ ہی وہ کوئی معقول یا پائیدار حل پیش کرنے کے لیے پرعزم تھی۔ پی ٹی آئی کے رہنماں کے مطابق، حکمران اتحاد مذاکرات کو محض وقت گزارنے، عوامی دبائو کو کم کرنے اور اپوزیشن کی صفوں میں انتشار پھیلانے کے لیے ایک حیلے کے طور پر استعمال کر رہا تھا۔ جب بات چیت کسی تصفیے کی طرف بڑھنے لگتی ہے تو حکومت ایسے مطالبات یا شرائط سامنے لے آتی ہے جن کا مقصد مذاکرات کو خود ہی ناکام بنانا ہوتا ہے۔
دوسری جانب، حکومت کا موقف اس کے بالکل برعکس ہے۔ حکومتی ترجمانوں اور سیاسی رہنماں کا دعویٰ ہے کہ پی ٹی آئی مذاکرات کے حوالے سے کبھی سنجیدہ تھی ہی نہیں۔ ان کے مطابق، ڈیڈلاک اور ناکامی کا اصل سبب تحریکِ انصاف کا غیر لچکدار رویہ اور ان کی ایسی ضد تھی جو آئینی و قانونی حدود سے باہر جاتی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی ہر مسئلے کا حل اپنے من پسند شرائط پر چاہتی ہے اور جمہوریت کے بنیادی اصول یعنی ’’ لو اور دو‘‘ (Give and Take) پر عمل کرنے سے گریزاں ہے۔ حکومتی موقف کے مطابق تحریکِ انصاف نے گفتگو کے ہر مرحلے پر ’’ سب کچھ یا کچھ بھی نہیں‘‘ کا رویہ اپنایا، جس سے کسی معقول نتیجے تک پہنچنا ناممکن ہو گیا۔ یوں حکومت کے نزدیک ڈیڈ لاک کی اصل ذمہ دار پی ٹی آئی ہے اور وہ اسے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے غلط رنگ دے رہی ہے۔
اگر ان دونوں بیانیوں کا غیر جانبدارانہ تجزیہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مسئلے کی جڑ مذاکرات کے نکات میں نہیں بلکہ فریقین کے درمیان پائے جانے والے شدید ترین عدمِ اعتماد اور سیاسی انا میں ہے۔ ہمارے ہاں سیاسی بات چیت کو قومی مسائل کا حل تلاش کرنے کا ذریعہ سمجھنے کے بجائے ایک دوسرے کو سیاسی زک پہنچانے اور میڈیا پر پوائنٹ سکورنگ کا ہتھیار بنا لیا گیا ہے۔
جب تک دونوں فریقین یہ تسلیم نہیں کریں گے کہ جمہوری نظام میں اختلافِ رائے اور لچک کا ہونا ناگزیر ہے، اس وقت تک نہ تو ڈیڈ لاک ختم ہو سکتا ہے اور نہ ہی کوئی بیانیہ عوامی پذیرائی حاصل کر سکتا ہے۔ بات چیت کی میز پر بیٹھ کر ایک دوسرے کو دھوکہ دینے کی کوشش کرنا یا گفتگو کے ختم ہوتے ہی پریس کانفرنسوں میں الزام تراشی شروع کر دینا، اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاسی قیادت ابھی تک پختگی کا مظاہرہ کرنے سے قاصر ہے۔
سیاسی میدان میں بیانیے کی یہ جنگ دونوں جماعتیں جیتنا چاہتی ہیں، لیکن اس رسہ کشی میں اگر کوئی ہار رہا ہے تو وہ ملک اور اس کا عام شہری ہے۔ معاشی بحران اور عوامی خدشات کے اس دور میں قوم کو الزامات کی سیاست نہیں بلکہ ٹھوس سیاسی اور معاشی حل کی ضرورت ہے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں کو یہ ادراک کرنا ہوگا کہ مذاکرات کی ناکامی کا ملبہ ایک دوسرے پر گرانے سے نہ تو ملک کا فائدہ ہوگا اور نہ ہی ان کا اپنا سیاسی مستقبل محفوظ رہے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ میڈیا کے سامنے زبانی جمع خرچ اور بیانیوں کی لڑائی کو چھوڑ کر قومی مفاد میں خلوصِ نیت کے ساتھ واقعی ایک بار پھر بات چیت کا آغاز کیا جائے۔





