Column

لاہور آگے امریکہ بہت پیچھے

لاہور آگے امریکہ بہت پیچھے
صورتحال
سیدہ عنبرین
دنیا بھر میں امریکی معیشت ٹیکنالوجی اور اسلحہ سازی کے میدان میں ہونے والی ترقی کی دھوم ہے، لیکن دنیا میں میں بہت کم لوگ اس حقیقت سے آشنا ہوں گے کہ لاہور امریکہ سے بہت آگے ہے، اب تو محسوس ہونے لگا ہے کہ جو کچھ لاہور کرتا ہے واشنگٹن اس کی پیروی کرنے لگا ہے، لیکن امریکیوں کو عقل سمجھ لاہور کے بہت بعد آئی، ہم جو ترقی 1985ء میں کر چکے تھے، امریکہ نے آج سے اس پر قدم رکھا ہے، امریکہ آج بھی شاید ہوش کے ناخن نہ لیتا، لیکن امریکی صدر کی عدم مقبولیت کے سبب اب ان کے پاس لاہور کے پیچھے پیچھے چلنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا، یہ عدم مقبولیت دراصل ان کی نامعقولیت کے سبب ان کے سامنے ایک دیوار بن کر کھڑی ہے، جسے وہ بہر صورت گرا کر اپنا مڈٹرم الیکشن جیتنا چاہتے ہیں۔ امریکہ میں الیکشن کی تیاری گزشتہ ماہ شروع ہونے سے قبل ان کی الیکشن ٹیم کے چیدہ چیدہ افراد سر جوڑ کے بیٹھے کہ الیکشن جیتنے کیلئے کیا کیا کرنا ہو گا۔ اس موقع پر پاکستان میں آزمودہ بریانی پلیٹ ٹیکنالوجی زیر بحث آئی، جس پر مختلف انداز میں غور و خوض کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ اس سے بڑھ کر ایک قدم اٹھایا جائے گا، یوں بریانی پلیٹ ٹیکنالوجی اور قیمے والے نان کے ساتھ ساتھ مختلف علاقوں میں انتخابی دفتر کھولنے، ان کے چائے پینے پلانے کے اخراجات کو جمع کرنے کے بعد جو رقم بنی فیصلہ کیا گیا کہ یہ رقم امریکی ووٹرز کو یکمشت دے دی جائے۔ یہ فیصلہ امریکی صدر نے کہا اور گزشتہ ماہ اعلان کر دیا گیا کہ ہر امریکی شہری کو پانچ ہزار ڈالر فی کس کے حساب سے دیئے جائیں گے، اب اس رقم کی ادائیگی شروع ہو چکی ہے۔
آج سے قریباً نصف صدی قبل لاہور میں بعض سیاستدانوں نے اپنے مخالفین کو چور چور کہنا شروع کیا تھا، اب یہ آوازیں امریکہ سے بھی آ رہی ہیں۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ امریکہ لاہور سے کتنا زیادہ متاثر ہے۔
امریکی سینیٹر الزبتھ وارن نے امریکی صدر پر کرپشن کے الزامات عائد کئے ہیں، اور انہیں امریکی تاریخ کا کرپٹ صدر کہہ رہا ہے، جبکہ امریکی حکومت میں اہم ترین عہدوں پر خدمات انجام دینے والی سابق امریکی صدر بل کلنٹن کی اہلیہ ہیلری کلنٹن کہتی ہیں امریکہ اب ایک سنجیدہ ملک نہیں بلکہ خطرناک ملک بن چکا ہے، وہ کہتی ہیں امریکی صدر جھوٹ بولنے کے چیمپئن ہیں، اور ہر بات پر جھوٹ بولتے ہیں، انہوںنے اپنے ایک اہم خطاب میں کہا کہ ٹرمپ کے غلط فیصلوں نے امریکہ کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ ہیلری کلنٹن کا تعلق ڈونلڈ ٹرمپ کی مخالف سیاسی جماعت سے ہے، وہ اکثر و بیشتر امریکی صدر پر اور ان کی پالیسیوں پر تنقید کرتی رہتی ہیں، کچھ ایسا ہی رویہ سابق امریکی صدر باراک اوباما کا ہے، وہ بھی موجودہ امریکی صدر کی دم بدم بدلتی پالیسیوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہیں۔ ہیلری کلنٹن اور باراک اوباما آئندہ الیکشن میں کسی عہدے کے امیدوار نہیں ہیں، لیکن دونوں کسی نہ کسی حد تک مقبول ہیں، ان کی رائے کو اہمیت دی جاتی ہے، لوگ ان کی بات غور سے سنتے ہیں، اور اس کا اثر قبول کرتے ہیں۔ ’’ ٹرمپ لورز ‘‘ کی طرف سے دونوں سیاسی شخصیات کو رام کرنے کی متعدد کوششیں کی گئیں، جو ناکام رہیں، ایک مرحلے پر تو یہ بھی سننے میں آیا کہ ان سے پوچھا جا رہا ہے کہ وہ چپ رہنے کا کیا لیں گے۔
امریکی صدر کی طرف سے دو قدم آگے بڑھ کر اسرائیل کی حمایت، اس کی طرف سے غزہ کے معصوم شہریوں پر انسانیت سوز مظالم اور قریباً ایک لاکھ فلسطینیوں کی ہلاکت پر نادم نہ ہونے بلکہ مزید ڈھٹائی سے اسرائیلی وزیراعظم کی ہاں میں ہاں ملانے کے سبب ان کی مخالفت کی لہر میں شدت آ رہی ہے۔ صدر ٹرمپ کی طرف پانچ ہزار ڈالر فی کس کے حساب سے امریکی شہریوں کو ادائیگی دراصل جاری نفرت کی لہر پر قابو پانے کی کوشش نظر آتی ہے، لیکن اس کوشش کا حتمی اثر کیا ہوا ابھی اس حوالے سے حتمی رائے قائم نہیں کی جا سکتی۔ کچھ عجب نہیں امریکہ میں بھی لاہور کی تاریخ دہرائی جائے، جہاں بریانی اور قیمے والے نان کسی اور کے کھا کر اہل لاہور اپنا قیمتی ووٹ کسی اور کے حق میں استعمال کر جاتے ہیں، پھر نتیجہ آنے پر نہایت معصومیت سے کہتے ہیں ہم تو اپنا فرض ادا کر دیا تھا۔ اب آگے اللہ کی مرضی۔ حالانکہ انہوں نے اپنی مرضی سے ووٹ کاسٹ کیا ہوتا ہے، لیکن وہ اللہ تعالیٰ کو قادر مطلق ہونے کا کریڈٹ اچھے مسلمان ہونے کے ناطے دینا نہیں بھولتے۔
پاکستان میں آئندہ الیکشن جب بھی ہوں گے بریانی اور قیمے والے نان مارکیٹ سے آئوٹ ہو چکے ہوں گے، کیونکہ مارکیٹ میں پلاسٹک کے چاول آ چکے ہیں، اور بہت کم عرصے میں لیبارٹری کا تیار کردہ گوشت اور قیمہ آ چکا ہو گا۔ مکمل چکن مکمل طور پر لیبارٹری میں تیار ہو کر امریکہ اور یورپ کی مارکیٹ میں آ چکا، یہ ہو نہیں سکتا کہ فیشن امریکہ اور یورپ میں پہنچ جائے اور لاہور نہ پہنچے۔ ابھی ہماری کاروباری برادری نے اس کی طرف توجہ نہیں دی، کیونکہ وہ مہنگے پٹرول، مہنگی گیس اور مہنگی بجلی کے چنگل میں پھنسے ہوئے ہیں، اور اس سے نکلنے کی کوششیں کر رہے ہیں، ان کی تمام کوششیں آئندہ بیس سال تک کامیاب نہیں ہوں گی، کیونکہ ان کی ہر کوشش کو نگلنے کیلئے آئی پی پیز کا اژدھا منہ کھولے ہر وقت ان کی طرف دیکھتا رہتا ہے۔
پاکستان میں لیبارٹری اور فیکٹری میں تیار کئے جانے والے انڈوں کی خبر تو پرانی ہو چکی ہے، ابھی ان انڈوں کو بڑی تعداد میں مارکیٹ میں نہیں پھینکا گیا، لیکن گھریلو صارفین اگر ایک درجن انڈے خرید کر لاتے ہیں تو ان میں ایک سے دو انڈے لیبارٹری کے دیئے نکلتے ہیں، مرغی کے نہیں۔ کچھ ایسی اطلاعات قابل اعتماد ذرائع سے موصول ہو رہی ہیں کہ جعلی انڈے فی الحال بیکریوں کو سپلائی کئے جا رہے ہیں، جہاں اس سے قبل بطخ اور کچھوے کے انڈے سستے ہونے اور زیادہ منافع کمانے کی غرض سے استعمال کئے جانے کی خبریں بھی اب بہت پرانی ہو چکی ہیں۔ پہلے برائلر پھر برائلر انڈہ، اس کے بعد مصنوعی پائوڈر ملک، جسے اب ٹی وائیٹنر کہتے ہیں، پھر کھوتا کڑاہی، اور اس کے علاوہ بہت کچھ ۔امریکہ میں یہ سب کچھ نہیں، لاہور میں سب کچھ ہے۔ لاہور آگے امریکہ بہت پیچھے ہے۔

جواب دیں

Back to top button