ووٹ، ڈالر اور آئین کی دہلیز

ووٹ، ڈالر اور آئین کی دہلیز
پیامبر
قادر خان یوسف زئی
سیاست میں نعروں، جلسوں اور دعووں کا شور ہمیشہ سے رہا ہے، مگر جب انتخابی میدان میں منشور کی جگہ نقدی اور بینک چیکس لے لیں تو جمہوری شعور پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ 23ستمبر 2024ء کو پنسلوانیا کے قصبے کٹیننگ کی ایک سپر مارکیٹ میں صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے تین بچوں کی ایک ماں کو گروسری کے لیے 100ڈالر دئیے اور کہا کہ ’’ ہم وائٹ ہائوس سے آپ کے لیے یہی کریں گے ‘‘۔ دوسری جانب اسی ریاست کے جلسوں میں دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے روزانہ دس لاکھ ڈالر انعام دینے کا اعلان کیاتھا۔ یہ مناظر تفریحی شو کے بھی ہو سکتے تھے، مگر دنیا کی قدیم ترین جمہوریتوں میں سے ایک کے اہم ترین انتخاب میں ان کی موجودگی نے سنجیدہ حلقوں میں سوالات اٹھائے۔
ناقدین کے مطابق یہ محض اتفاق یا بے ضرر سخاوت نہیں تھی، بلکہ ووٹرز کو مالی ترغیبات دینے کی اس رجحان نے انتخابی عمل کو فکری مکالمے سے ہٹا کر لین دین کے قریب کر دیا۔ ان کے نزدیک مسک کی سپر پولیٹیکل ایکشن کمیٹی ’’ امریکہ پی اے سی‘‘ کا ماڈل انتخابی قوانین کی حدود آزمانے اور ووٹرز کے ذاتی ڈیٹا کے حصول کی کوشش تھا۔ یہ ناقدین کی تعبیر ہے، کسی عدالتی فیصلے کا نتیجہ نہیں۔
کٹیننگ کا واقعہ بظاہر مہنگائی پر تنقید کا ایک سیاسی اشارہ تھا۔ ٹرمپ نے یہ تاثر دیا کہ موجودہ انتظامیہ کے دور میں عام آدمی پر معاشی بوجھ بڑھا ہے اور وہ اسے کم کر سکتے ہیں۔ یہاں ایک بنیادی فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ کسی امیدوار کا ہمدردی کے اظہار میں رقم دینا اور ووٹ کے بدلے رقم دینا قانونی اعتبار سے الگ معاملات ہیں۔ پہلے کو سیاسی نمائش کہا جا سکتا ہے، جبکہ دوسرے پر وفاقی فوجداری قوانین لاگو ہوتے ہیں۔ اسٹور کے واقعے میں ووٹ کی کسی شرط کا ذکر سامنے نہیں آیا، اور ٹرمپ کے خلاف اس معاملے میں کوئی فردِ جرم عائد نہیں ہوئی۔ مگر جب ایسے مناظر بار بار دہرائے جائیں تو عوام کے ذہن میں یہ لکیر دھندلی ہو سکتی ہے، اور یہی ناقدین کی اصل تشویش ہے۔ اصل تنازع مسک کی امریکہ پی اے سی کے گرد کھڑا ہوا۔ وفاقی فائلنگز کے مطابق مسک نے اس کمیٹی کو قریباً 120ملین ڈالر دئیے۔ کمیٹی نے سات اہم سوئنگ ریاستوں میں پہلی اور دوسری آئینی ترمیم، یعنی آزادیِ اظہار اور اسلحہ رکھنے کے حق، کی حمایت میں ایک پٹیشن پر دستخط کروانے کے لیے ابتدا میں 47ڈالر فی دستخط کی پیشکش کی، جو پنسلوانیا میں بڑھا کر 100ڈالر کر دی گئی۔ 19اکتوبر کو ہیرسبرگ کے جلسے میں مسک نے پولنگ کے دن تک روزانہ دس لاکھ ڈالر انعام دینے کا اعلان کیا۔
اس اسکیم میں سب سے حساس قانونی نکتہ یہ تھا کہ شرکت کے لیے رجسٹرڈ ووٹر ہونا لازمی تھا۔ وفاقی قانون ووٹر رجسٹریشن کے بدلے ادائیگی سے منع کرتا ہے، جبکہ کمیٹی کا موقف تھا کہ ادائیگی پٹیشن پر دستخط کی ہے۔ قانونی ماہرین اس پر منقسم تھے کہ آیا یہ ڈھانچہ وفاقی قانون کی خلاف ورزی بنتا ہے یا نہیں۔ رپورٹس کے مطابق امریکی محکمہ انصاف نے کمیٹی کو خط کے ذریعے خبردار کیا کہ یہ سلسلہ وفاقی قانون سے متصادم ہو سکتا ہے، لیکن وفاقی استغاثہ نے کوئی عوامی کارروائی نہیں کی، اور اسکیم جاری رہی۔ تنازع نے اس وقت نیا رخ لیا جب فلاڈیلفیا کے ڈسٹرکٹ اٹارنی لیری کراسنر نے 28اکتوبر کو پنسلوانیا کی ریاستی عدالت میں مسک اور ان کی تنظیم کے خلاف دیوانی مقدمہ دائر کیا۔ ان کا موقف تھا کہ یہ مہم ریاست کے لاٹری اور صارفی تحفظ کے قوانین کی خلاف ورزی ہے، اور انہوں نے اسے ’’ فراڈ‘‘ اور ’’ گرفٹ ‘‘ قرار دیا۔ سماعت میں امریکہ پی اے سی کے وکیل نے بتایا کہ دس لاکھ ڈالر پانے والے اتفاقی قرعہ اندازی سے نہیں چنے گئے تھے، بلکہ ان کے ذاتی قصوں کی بنیاد پر منتخب کیے گئے اور انہوں نے رازداری کے معاہدوں پر دستخط کیے۔ پی اے سی کے ڈائریکٹر کرس ینگ نے بھی عدالت میں اس عمل کی وضاحت کی۔
4 نومبر کو، انتخابات سے ایک دن پہلے، جج اینجلو فوگلیٹا نے کراسنر کی امتناعی حکم کی درخواست مسترد کر دی۔ بعد ازاں تحریری رائے میں جج نے کہا کہ کراسنر کے دلائل ’’ غیر موثر‘‘ تھے اور وہ ناجائز لاٹری کی بنیادی تعریف بھی ثابت نہ کر سکے۔ جج کے مطابق پی اے سی نے دستاویزات اور معتبر گواہی سے ثابت کیا کہ فاتحین کا انتخاب کثیر مرحلہ جانچ کے ذریعے ہوا اور انہیں ترجمان کے طور پر کام کرنا تھا۔ یعنی عدالت نے اس مرحلے پر یہ مانا کہ استغاثہ ثبوت پیش نہ کر سکا، مگر یہ سوال پھر بھی باقی رہا کہ شہریوں کو ’’ اتفاقی انعام‘‘ کا تاثر کیوں دیا گیا۔
اس تاثر پر مقدمات رکے نہیں۔ نومبر 2024ء میں مختلف ریاستوں کے شہریوں نے وفاقی عدالتوں میں فراڈ کے دعوں پر مبنی کلاس ایکشن دائر کیے۔ ان کا الزام ہی کہ انہوں نے یہ سمجھ کر پٹیشن پر دستخط کیے اور اپنی ذاتی معلومات دیں کہ انہیں جیتنے کا حقیقی موقع ملے گا۔ اگست 2025ء میں ایک وفاقی جج نے ایریزونا کی ایک خاتون کے فراڈ کے دعوے کو آگے بڑھنے کی اجازت دی۔ علیحدہ مقدمات میں یہ بھی الزام لگایا گیا کہ پٹیشن کے بعض دستخط کنندگان اور ریفرل کرنے والوں کو وعدہ شدہ ادائیگیاں پوری نہیں ملیں، جبکہ پی اے سی نے کسی غلطی کی تردید کی۔
دوسری طرف ٹرمپ اور مسک کے حامی اسے قانون کے دائرے میں جائز سیاسی سرگرمی قرار دیتے ہیں۔ ان کا استدلال ہے کہ پہلی آئینی ترمیم ہر شہری اور سیاسی کمیٹی کو اپنے خیالات کی ترویج اور شہریوں کو متحرک کرنے کی آزادی دیتی ہے۔ ان کے نزدیک پٹیشن پر دستخط کروانا اور ترجمانوں کو معاوضہ دینا رائج سیاسی طریقہ کار ہے، اور اسٹور میں ٹرمپ کا عمل ایک ہمدردانہ اشارہ تھا جس کا مقصد مہنگائی کے اثرات کو علامتی طور پر اجاگر کرنا تھا، نہ کہ کوئی انتخابی سودے بازی۔ یہ دلائل قانونی لحاظ سے وزن رکھتے ہیں۔
یہ بحث صرف 2024ء تک محدود نہیں۔ 2026ء کے وسط مدتی انتخابات سے قبل صدر ٹرمپ نے ہر بالغ امریکی شہری کو 5000ڈالر ’’ ٹرمپ ڈیویڈنڈ‘‘ دینے کا وعدہ کیا، بشرطیکہ ریپبلکنز ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں جیت جائیں۔ ایک سرکاری پالیسی کا وعدہ اور نجی کمیٹی کی براہِ راست ادائیگیاں قانونی طور پر مختلف چیزیں ہیں، اور ایسے معاشی وعدے سیاست میں نئے نہیں۔ مگر ناقدین اس شرط پر سوال اٹھاتے ہیں، اور تخمینوں کے مطابق اس پر قریباً 1.2ٹریلین ڈالر لاگت آئے گی، جبکہ رقم کے واضح ذریعے پر بحث جاری ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا جمہوریت کی کسوٹی صرف یہ ہے کہ کوئی عمل قانون کی کسی باریک تعریف سے بچ نکلا یا نہیں ؟ اگر ایک طرف شہریوں کو یہ تاثر دیا جائے کہ وہ قسمت آزما رہے ہیں اور دوسری طرف عدالت میں کہا جائے کہ انعام یافتگان پہلے سے طے شدہ تھے، تو عوامی اعتماد پر اس کا اثر قابلِ غور ہے۔ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ انتخابی نتیجہ اسی وجہ سے بدلا، لیکن ادارہ جاتی ساکھ کے لیے شفافیت کا سوال بہرحال اہم ہے۔ تاریخ یہی سکھاتی ہے کہ جب سیاست میں سرمائے کا اثر بڑھتا ہے تو جمہوری اداروں کا اعتماد کڑے امتحان سے گزرتا ہے۔





