
نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اکیاسیویں اجلاس کے موقع پر ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ رابطوں کے باوجود ایرانی وفد نے نئے مذاکرات کی خبروں کی تردید کی ہے۔
اقوامِ متحدہ میں ایرانی وفد کے قریبی ذرائع نے خبر رساں ادارے ’ارنا‘ کو بتایا ہے کہ نیویارک میں امریکی وفد کے ساتھ کسی بھی قسم کی بالمشافہ یا نئے دور کے مذاکرات کا کوئی منصوبہ شیڈول میں شامل نہیں ہے۔
رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے مزید کہا گیا کہ اس بنا پر ایرانی وفد کے ایجنڈے میں امریکی فریق سے مذاکرات کا کوئی نیا دور شامل نہیں ہے اور وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اپنے طے شدہ پروگرام کی تکمیل کے بعد منگل کو وطن واپس روانہ ہو جائیں گے۔
اس وقت ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیرِ خارجہ عباس عراقچی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک میں موجود ہیں۔
دوسری جانب امریکی ویب سائٹ ’ایگزیوس‘ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ایٹمی تنازع اور دیگر امور پر ثالثوں کے ذریعے مثبت اور تعمیراتی بات چیت جاری ہے، اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تہران کی حالیہ تجویز کو مسترد کیا گیا ہے۔







