
پاکستان کے نئے سیکرٹری خارجہ عاصم افتخار نے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب پر حوثیوں کے تمام حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے، سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے یمن کی صورتحال پر منعقدہ ہنگامی اجلاس سے سفیر عاصم افتخار احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یمن کی بگڑتی صورتحال انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہوچکی ہے، فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب پر حوثیوں کے تمام حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے، حوثی حملوں سے علاقائی امن و استحکام کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حوثی حملوں کے عالمی معیشت اور توانائی کے تحفظ پر بھی سنگین اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کی مکمل حمایت کرتا ہے، پاکستان سعودی عرب کے اپنے دفاع کے جائز حق کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
سفیر عاصم افتخار احمد کا کہنا تھا کہ باب المندب کے گرد حوثی حملوں کا پھیلاؤ سنگین کشیدگی کا باعث ہے، تجارتی جہاز رانی کے خلاف کارروائیاں آزادیٔ نقل و حرکت اور عالمی بحری تجارت کے لیے بڑھتا خطرہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اہم بحری گزرگاہوں کو خطرے میں ڈالنے یا بطورہتھیار استعمال کرنے کے عالمی تجارت وتوانائی کےتحفظ پر سنگین اثرات ہوں گے۔
عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ 2022 سے یمن میں برقرار نسبتاً پُرسکون صورتحال بدقسمتی سے ختم ہوچکی ہے، مسلسل کشیدگی یمن میں دوبارہ مکمل جنگ بھڑکنے کا خطرہ بڑھا رہی ہے۔یمن کی موجودہ صورتحال پہلے سے سنگین انسانی بحران کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے، یمن کے بحران کی سنگینی کے پیش نظر سفارتی کوششوں میں فوری تیزی لانا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی زیرِسرپرستی جامع، یمن کی قیادت میں سیاسی عمل کی بحالی کی بھرپور حمایت کرتا ہے، یمن میں کشیدگی میں کمی، مذاکرات اور سیاسی تصفیے کیلئے مخلصانہ کوششوں کی حمایت جاری رکھیں گے







