تازہ ترینخبریںسیاسیات

میرا زندہ بچنا ایک معجزہ تھا‘: ایف-15 گرنے کے بعد امریکی پائلٹ نے ایران میں 50 گھنٹے کیسے گزارے؟

ایران کے اندر ایک امریکی ایف 15 ای لڑاکا طیارہ گرائے جانے کے بعد اس کے عملے کے ایک رکن نے تقریباً 50 گھنٹے تک زخمی حالت میں دشوار گزار پہاڑی علاقے میں چھپ کر گزارے۔ امریکی فوج کے مطابق یہ ایک انتہائی خطرناک ریسکیو آپریشن تھا جس میں امریکی اسپیشل فورسز، انٹیلی جنس اداروں اور درجنوں طیاروں نے حصہ لیا۔

یہ واقعہ اپریل 2026 میں پیش آیا جب ایک امریکی F-15E Strike Eagle ایران کے اندر مار گرایا گیا۔ طیارے میں موجود دونوں امریکی اہلکاروں نے ایجیکٹ کیا اور الگ الگ مقامات پر جا گرے۔ ایک اہلکار، جسے امریکی حکام نے کوڈ نیم ’Alpha‘ دیا، چند گھنٹوں میں بازیاب کر لیا گیا، تاہم دوسرے، ’Bravo‘، کی تلاش تقریباً دو دن تک جاری رہی۔

طیارہ تباہ ہوا تو دونوں الگ ہو گئے

’Bravo‘، جو طیارے *Weapons Systems Officer* تھے، نے بتایا کہ طیارہ تباہ ہونے کے بعد انہیں ایجیکشن کے ذریعے باہر نکلنا پڑا۔ ان کے مطابق پیراشوٹ سے نیچے آتے ہوئے انہیں اندازہ ہوا کہ وہ ایران کے انتہائی اندرونی علاقے میں اتر رہے ہیں۔

زمین سے ٹکرانے کے نتیجے میں انہیں کمر، بازو اور کندھے پر شدید چوٹیں آئیں۔ اس کے باوجود انہیں فوراً یہ فکر لاحق ہوئی کہ آیا ایرانی فورسز کو ان کی موجودگی کا علم ہو چکا ہے یا نہیں۔

انہوں نے اپنے تجربے کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان کا زندہ بچ جانا ایک ’جدید دور کا معجزہ‘ تھا۔ ان کے مطابق چوٹیں شدید تھیں، لیکن ایسی نہیں تھیں کہ وہ حرکت کرنے یا چھپنے کی صلاحیت ہی کھو دیتے۔

زخمی حالت میں پہاڑی چوٹی تک پہنچنا

زمین پر اترنے کے بعد ’Bravo‘ نے خود کو ممکنہ گرفتاری سے بچانے کے لیے فوری طور پر محفوظ مقام تلاش کیا۔ وہ تقریباً **7 ہزار فٹ بلند پہاڑی علاقے** تک پہنچے اور ایک ایسی جگہ چھپ گئے جہاں سے انہیں تلاش کرنا مشکل تھا۔

وہ زخمی تھے، ان کے پاس محدود سامان تھا اور انہیں خوراک و پانی کی شدید کمی کا سامنا تھا۔ اس دوران ایرانی فورسز اور دیگر افراد ان کی تلاش میں سرگرم تھے۔

امریکی حکام کے مطابق ان کی تلاش اس لیے بھی مشکل تھی کہ وہ وسیع اور دشوار گزار علاقے میں چھپے ہوئے تھے۔ امریکی انٹیلی جنس ٹیکنالوجی کی مدد سے بالآخر ان کے مقام کا اندازہ لگایا گیا۔

’God is good‘ — پہلا پیغام

کافی دیر تک خود کو محفوظ رکھنے کے بعد ’Bravo‘ نے امریکی فورسز سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی۔

ان کا پہلا پیغام تھا:

’میں زخمی ہوں، حرکت کر رہا ہوں۔ خدا اچھا ہے۔‘

یہ پیغام امریکی فوج کے لیے اس بات کی تصدیق تھا کہ طیارہ گرنے کے تقریباً دو دن بعد بھی ان کا ایک اہلکار زندہ ہے اور دشمن کے علاقے میں موجود ہے۔

ریسکیو آپریشن: درجنوں طیارے اور خصوصی فورسز

اس کے بعد امریکی فوج نے ایک انتہائی پیچیدہ ریسکیو آپریشن شروع کیا۔ ’Alpha‘ کو پہلے ایک الگ کارروائی میں نکالا گیا، جس میں 20 سے زیادہ ہیلی کاپٹر اور دیگر طیارے شامل تھے۔

امریکی حکام کے مطابق ’Bravo‘ کے لیے کارروائی مزید پیچیدہ تھی کیونکہ وہ پہاڑی علاقے میں، ایرانی فورسز کی تلاش کے درمیان موجود تھے۔

امریکی خصوصی فورسز کے اہلکار بالآخر ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اس پہاڑی علاقے تک پہنچے۔ امریکی حکام کے مطابق زمینی کارروائی میں 90 سے زیادہ امریکی اہلکار ایران کے اندر موجود تھے، جو کئی دہائیوں بعد ایرانی سرزمین پر امریکی فوجیوں کی ایک غیر معمولی تعیناتی تھی۔

امریکی حکام نے بتایا کہ مجموعی آپریشن میں سیکڑوں اہلکار اور بڑی تعداد میں فضائی اثاثے استعمال کیے گئے۔ کارروائی کے دوران امریکی فورسز کو شدید خطرات کا سامنا رہا اور بعض طیاروں کو نقصان بھی پہنچا ’PJ‘ کو دیکھنا زندگی کے عظیم ترین لمحات میں سے ایک تھا

تقریباً 50 گھنٹے بعد جب امریکی Para-rescue اہلکار ’Bravo‘ تک پہنچے تو ان کے مطابق یہ ان کی زندگی کے سب سے یادگار لمحات میں سے ایک تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ریسکیو اہلکار کو پہاڑی چوٹی پر دیکھنا ایک ناقابلِ بیان احساس تھا۔ ان کے الفاظ میں، اس وقت ان کی توجہ صرف ایک بات پر تھی کہ چلیں

اس کے بعد انہیں ایرانی علاقے سے نکال کر محفوظ مقام تک پہنچایا گیا۔
ملبہ بھی تباہ کر دیا گیا

امریکی فورسز نے طیارے کے ملبے کو بھی ایرانی فوج کے ہاتھ لگنے سے روکنے کے لیے تباہ کر دیا۔ امریکی حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد حساس فوجی ٹیکنالوجی کو ممکنہ طور پر دشمن کے قبضے میں جانے سے روکنا تھا۔
یہ صرف ایک ریسکیو نہیں تھا

امریکی فوجی حکام نے اس کارروائی کو محض دو اہلکاروں کی بازیابی سے کہیں زیادہ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق اس آپریشن نے ظاہر کیا کہ امریکی فوج اپنے اہلکاروں کو دشمن کے علاقے میں بھی تنہا نہیں چھوڑتی۔

تاہم اس واقعے نے ایک اور بحث کو بھی جنم دیا ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے CBS کے پروگرام 60 Minutes میں ’Bravo‘ کی تفصیلی گفتگو کے بعد بعض ناقدین نے سوال اٹھایا کہ آیا اس انٹرویو کو ایران کے خلاف جنگ کے بارے میں امریکی عوام کی رائے پر اثر انداز ہونے کے لیے استعمال کیا گیا۔ امریکی حکام نے اس تاثر کی تردید کی ہے۔

’Bravo‘ کے لیے یہ 50 گھنٹے صرف ایک فوجی ریسکیو آپریشن کا حصہ نہیں تھے بلکہ بقا کی ایک ایسی جنگ تھے جس میں شدید چوٹوں، تنہائی، دشمن کے علاقے اور گرفتاری کے مسلسل خطرے کے باوجود انہیں حرکت کرتے رہنا اور چھپے رہنا پڑا۔

جواب دیں

Back to top button