سارگون کی سلطنت

سارگون کی سلطنت
علیشبا بگٹی
پلس پوائنٹ
کہا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ فارس کے ایک بادشاہ نے اپنے درباریوں سے پوچھا: ’’ دنیا میں سب سے مشکل کام کیا ہے؟ ‘‘۔ کسی نے کہا جنگ لڑنا اور جیتنا، کسی نے کہا دشمن کو شکست دینا۔ کسی نے کہا خزانہ جمع کرنا۔ کسی نے کہا محبوب کو پانا۔ بادشاہ خاموش رہا اور پھر بولا: ’’ نہیں، سب سے مشکل کام اپنی فتح کو قائم رکھنا ہے۔ کسی سلطنت کو فتح کرنا آسان ہے، اسے قائم رکھنا مشکل ہوتا ہے‘‘۔
واقعی کوئی طاقت حاصل کرنا اور حکومت برقرار رکھنا دو مختلف چیلنج ہیں۔ یہ انسانی تاریخ کا ایک بہت بڑا سچ ہی، کہ تخت حاصل کرنا طاقت کا امتحان ہے، اور تخت برقرار رکھنا عقل کا امتحان ہے۔
قریباً پانچ ہزار سال پہلے میسوپوٹیمیا میں ایک بادشاہ اٹھا، جس نے بکھرے ہوئے شہروں، ریاستوں اور قبائل کو ایک سیاسی طاقت میں جوڑ دیا۔ اس کا نام سارگون اعظم تھا۔ اکدی سلطنت کے بانی سارگون نے اپنی فتوحات کے ذریعے ایک ایسی سلطنت قائم کی جو اپنے زمانے کے تصورِ سیاست سے کہیں بڑی تھی۔ اس کے عہد میں شاید لوگ واقعی یہ سوچتے ہوں گے کہ یہ سلطنت ہمیشہ قائم رہے گی۔ مگر تاریخ کا پہلا سبق یہی ہے کہ کسی انسان کی بنائی ہوئی کوئی طاقت ہمیشہ نہیں رہتی۔ سارگون مرگیا۔ اور اس کی موت کے ساتھ وہ سوال پیدا ہوا جس کا جواب ہر بڑی سلطنت کو ایک نہ ایک دن دینا پڑتا ہے۔ ’’ بانی کے بعد کیا ہوگا ؟‘‘۔ یہی سوال رومی سلطنت کے سامنے آیا، یہی مغلوں کے سامنے آیا، یہی عثمانیوں کے سامنے آیا، یہی سکندر اعظم کی موت کے بعد یونانی دنیا کے سامنے آیا، اور یہی سوال آج بھی ہر ادارے، ہر حکومت اور ہر طاقتور تنظیم کے سامنے موجود ہے۔
سارگون نے سلطنت بنائی تھی، لیکن اس کے جانشینوں کو سلطنت چلانی تھی۔ یہ دونوں کام ایک جیسے نہیں ہوتے۔ ایک علاقہ فتح کرنے کے لیے فوج کافی ہو سکتی ہے، مگر ایک قوم کے دل جیتنے کے لیے فوج کافی نہیں ہوتی۔ تلوار تو زمین فتح کر سکتی ہے، لیکن دل نہیں۔
لوگ کہتے تھے کہ سارگون سلطنت کا سورج کبھی غروب نہیں ہوگا۔ سارگون نے سلطنت بنائی، لیکن اس کے جانشینوں کا اصل امتحان اسے برقرار رکھنا تھا۔ مگر سارگون کی موت کے بعد اس کے جانشین آتے گئے۔ اور ایک کے بعد ایک مسلسل مسائل کا سامنا کرتے رہے۔ سارگون کے بعد کے ابتدائی حکمرانوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہی تھا، کہ بانی کی بنائی ہوئی وسیع سلطنت کو کیسے متحد رکھا جائے ؟ وسیع سلطنت قائم کرنا آسان تھا، مگر اسے مسلسل کنٹرول میں رکھنا زیادہ مشکل تھا۔
سارگون اعظم کے بعد سلطنتِ اکد (Akkadian Empire)کے حکمرانوں میں سارگون کا بیٹا رِمُش (Rimush)قریباً 2278تا 2270قبل مسیح حکمران رہا۔ اس کے دور میں سلطنت کے اندر بغاوتیں ہوئیں۔ جن علاقوں کو سارگون نے فوجی طاقت سے متحد کیا تھا، وہاں مرکزی حکومت کے خلاف مزاحمت پیدا ہوئی۔ رِمُش نے ان بغاوتوں کو کچلنے اور مرکزی اقتدار کو برقرار رکھنے کی پوری کوشش کی۔ اس کا دور مسلسل جنگوں اور مزاحمت میں گزرا۔ رِمُش کے دور کی بغاوتوں کے بارے میں تفصیلات زیادہ تر رِمُش کی اپنی تحریروں (royal inscriptions)سے ملتی ہیں، جن میں اس نے سومر کے شہروں جیسی اُر، اُوما اور لگش کی بغاوتوں کو کچلنے کا ذکر کیا۔
کہتے ہیں، رِمُش کو اس کے اپنے درباریوں نے قتل کیا۔ کہا جاتا ہے کہ اسے مہر (cylinder seals)سے مارا گیا۔ یعنی درباری اہلکاروں نے مہر نما بھاری اشیا سے اس پر حملہ کیا۔ اس کی موت قریباً 2270قبل مسیح میں ہوئی، دلچسپ بات یہ ہے کہ رِمُش کے قتل کی وجہ بھی واضح نہیں۔ ممکن ہے کہ دربار کے اندر سیاسی سازش ہوئی ہو۔
رِمُش کے بعد اس کا بھائی منیشتوشو تخت پر آیا۔ منیشتوشو (Manishtushu)سلطنت اکد کا تیسرا بادشاہ تھا۔ اس نے قریباً 2270قبل مسیح سے 2255قبل مسیح تک حکومت کی۔ وہ سارگن اعظم کا بیٹا اور نارام سین (Naram-Sin) کا باپ تھا۔ اس نے بھی سلطنت کو مضبوط رکھنے کے لیے فوجی مہمات جاری رکھیں۔ اس کی توجہ اندرونی علاقوں کے ساتھ ساتھ سلطنت کی سرحدوں کو محفوظ رکھنے پر بھی رہی۔
سارگون اعظم نے بکھری ہوئی سومری دنیا کو متحد کیا اور ایک وسیع سلطنت قائم کی۔ رِمُش اور منیشتوشو، یہ اگلی نسل، بغاوتوں اور مزاحمت کے درمیان سلطنت کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتے رہے۔
رِمُش نے اندرونی بغاوتوں کو طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کی، جبکہ منیشتوشو نے بھی سلطنت کی سرحدوں اور مرکزی اقتدار کو برقرار رکھنے کے لیے فوجی کارروائیاں جاری رکھیں۔ یعنی سارگون کی فتوحات نے ایک بڑی سلطنت تو قائم کر دی تھی، مگر اس سلطنت کو متحد رکھنا اس کے جانشینوں کے لیے کہیں زیادہ مشکل ثابت ہوا۔
یہاں تاریخ ہمیں نفسیات کا ایک دلچسپ اصول سمجھاتی ہے۔ دبائی ہوئی مزاحمت ختم نہیں ہوتی، وہ صرف موقع کا انتظار کرتی ہے۔
کارل یونگ کے ہاں انسانی نفسیات کا ایک بنیادی تصور یہ ہے کہ جس چیز کو شعور قبول نہیں کرتا، وہ لاشعور میں چلی جاتی ہے اور کسی نہ کسی شکل میں واپس آتی ہے۔ یہی اصول اجتماعی زندگی پر بھی کسی حد تک لاگو ہوتا ہے۔ جو سیاسی مسئلہ انصاف، رضامندی اور اداروں کے ذریعے حل نہ ہو، وہ وقتی طور پر طاقت سے دب سکتا ہے، مگر ختم نہیں ہوتا۔ رِمُش کے پاس فوج تھی۔ لیکن سوال یہ تھا کہ کیا فوج وفاداری پیدا کر سکتی ہے؟
یہاں طاقت اور اقتدار کے درمیان فرق سامنے آتا ہے۔ طاقت کسی کو مجبور کر سکتی ہے کہ وہ آپ کی بات مانے، اقتدار اس مقام تک پہنچتا ہے جہاں لوگ آپ کی بات کو جائز بھی سمجھنے لگتے ہیں۔
کنفیوشس نے حکمرانی میں اخلاقی کردار اور نظم کو بنیادی اہمیت دی۔ افلاطون نے ریاست اور حکمران کے تعلق پر غور کرتے ہوئے یہ سوال اٹھایا کہ حکمرانی صرف طاقت کا نام ہے یا علم و حکمت کا بھی؟ ارسطو نے ریاست کو انسانی اجتماعی زندگی کے فطری نظم سے جوڑا۔ یعنی قدیم دنیا کے مفکرین بھی جانتے تھے کہ ریاست صرف فوج، محل اور خزانے سے نہیں بنتی، ریاست ایک اجتماعی رضامندی کا نام بھی ہے۔
رِمُش نے بغاوتوں کو کچلا۔ مگر تاریخ یہ نہیں بتاتی کہ اس نے ان بغاوتوں کی جڑیں کتنی تبدیل کیں۔ پھر ایک دن رِمُش خود بھی تاریخ کا حصہ بن گیا۔
یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے۔ جو بادشاہ اپنے دشمنوں سے بچ گیا، کیا وہ اپنے محل سے بھی بچ سکا ؟ یہ سوال صرف رِمُش کا نہیں۔ یہ ہر اقتدار کا سوال ہے۔ انسان اکثر بیرونی دشمن سے زیادہ اندرونی سازشوں اور غداروں سے کمزور ہوتا ہے۔
شوپن ہاور انسانی خواہش کو ایک ایسی قوت سمجھتے تھے جو انسان کو مسلسل ایک خواہش سے دوسری خواہش کی طرف دھکیلتی رہتی ہے۔ اقتدار بھی ایسا ہی ہے۔ جس شخص کے پاس طاقت آتی ہے، وہ اسے برقرار رکھنے کے لیے مزید طاقت چاہتا ہے۔ پھر طاقت کے تحفظ کے لیے شک بڑھتا ہے، شک سے نگرانی، نگرانی سے خوف، خوف سے جبر، اور جبر سے مزید مزاحمت پیدا ہو سکتی ہے۔ یہ ایک چیئر چکر کی طرح گیم ہے۔ اور اگر عقل اس چکر کو توڑ نہ سکے تو سلطنتیں اندر سے کھوکھلی ہونے لگتی ہیں۔
یہاں ہمیں قدرت کا ایک یہ قانون بھی یاد آتا ہے۔ کہ جتنا بڑا نظام ہوگا، اسے برقرار رکھنے کے لیے اتنی ہی زیادہ توانائی درکار ہوگی۔ سائنس میں کوئی بھی پیچیدہ نظام مسلسل نظم و توانائی کے بغیر بکھرنے لگتا ہے۔ طبیعیات کی زبان میں اسے انٹروپی کے تصور سے سمجھا جا سکتا ہے۔ سیاسی سلطنت کوئی تھرموڈائنامک مشین نہیں، مگر بطور تمثیل اصول بہت گہرا ہے۔ نظم خود بخود قائم نہیں رہتا۔ اسے مسلسل قائم رکھنا پڑتا ہے۔ سلطنت بھی یہی ہے۔ ایک بادشاہ اپنے گھوڑے پر بیٹھ کر سیکڑوں میل فتح کر سکتا ہے، مگر ان سیکڑوں میلوں میں قانون، انتظام، مواصلات، تجارت، انصاف، محصول، مقامی اشرافیہ اور عوامی اعتماد کا نظام قائم کرنا کہیں زیادہ مشکل ہے۔
اسی لیے نپولین نے یورپ فتح کیا مگر اسے ہمیشہ کے لیے اپنے پاس نہ رکھ سکا۔ سکندر اعظم نے ایک عظیم سلطنت بنائی، مگر اس کی موت کے بعد اس کے جرنیلوں نے اسے تقسیم کر لیا۔ مغلوں نے ہندوستان میں ایک عظیم سلطنت قائم کی، مگر بعد کی نسلیں اس کے حجم، انتظام اور داخلی طاقت کے مسائل سے نبرد آزما رہیں۔ عثمانی سلطنت صدیوں قائم رہی، مگر اسے بھی ہر نسل میں نئے سیاسی، معاشی اور عسکری چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔
فتح ایک واقعہ ہے، حکمرانی ایک مسلسل عمل اور جدوجہد ہے۔ سارگون کی عظمت اس میں تھی کہ اس نے ایک منتشر دنیا کو سیاسی طاقت میں جوڑ دیا۔ رِمُش اور منیشتوشو کا امتحان یہ تھا کہ وہ اس جوڑ کو ٹوٹنے سے بچائیں۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں تاریخ فلسفے میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
کیئرکیگارڈ نے فرد کی بے چینی اور انتخاب کی ذمہ داری پر غور کیا۔ سارتر نے انسان کو اپنے انتخاب اور ذمہ داری سے فرار نہ ہونے کا سبق دیا۔ کامیو نے ایک ایسی دنیا میں انسانی جدوجہد پر سوال اٹھایا جس میں کوئی آسان حتمی جواب موجود نہیں۔ وکٹر فرانکل نے دکھایا کہ انسان انتہائی مشکل حالات میں بھی معنی تلاش کر سکتا ہے۔
سلطنتوں کی زندگی میں بھی یہی سوال آتا ہے۔ آپ کے پاس طاقت تو ہے، مگر اس طاقت کا مقصد کیا ہے؟ اگر اقتدار صرف اقتدار کے لیے ہو تو وہ اپنے اندر اپنے زوال کا بیج رکھ سکتا ہے۔
بادشاہ سمجھتا ہے کہ سلطنت اس کی ہے۔ وقت آہستہ سے جواب دیتا ہے۔ تم بھی میرے ہو۔ اصل حکومت ہمیشہ سے وقت کی چلتی آئی ہے۔
مگر تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہر طاقتور نسل خود کو وقت کے حساب اور حملہ سے استثنا سمجھتی ہے۔ وہ سوچتی ہے۔ ’’ ہمارے ساتھ ایسا نہیں ہوگا‘‘۔ ’’ ہمارا اقتدار زوال کے دائرے سے باہر ہے‘‘۔ جبکہ ایک دن پھر وقت آتا ہے۔ اور ثابت کرتا ہے کہ قوانینِ تاریخ کسی ایک بادشاہ کے لیے نہیں بدلتے۔
ٹالسٹائی کے ہاں تاریخ صرف عظیم شخصیات کی مرضی کا نتیجہ نہیں، بے شمار انسانوں کے چھوٹے چھوٹے فیصلے مل کر تاریخ بناتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک عظیم فاتح بھی ہر واقعے کو اپنی مرضی سے نہیں چلا سکتا۔ ایک بادشاہ جنگ جیت سکتا ہے۔
مگر وہ غداری نہیں روک سکتا۔ اور وہ موت کو حکم نہیں دے سکتا۔ وہ حکومت چلا سکتا ہے مگر وہ وقت کو پیچھے نہیں لے جا سکتا۔ قدرت کے سامنے تاج بھی ایک عارضی چیز ہے۔
قرآن مجید انسان کو بار بار دنیا کی ناپائیداری، اقتدار کے گردش کرنے اور انسانی تکبر کے انجام کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ سورت آل عمران کی آیت 140میں قرآن کہتا ہے کہ: ’’ یعنی یہ دن ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں‘‘۔ اور ایک اور مقام پر سورت الرحمٰن کی آیت 26میں فرمایا: ’’ جو کچھ زمین پر ہے سب فنا ہونے والا ہے‘‘۔
یہ آیات صرف مذہبی نصیحت نہیں، انسانی تاریخ کا ایک مستقل مشاہدہ بھی ہیں۔ سارگون آیا۔ اس نے فتح کیا۔ اس نے سلطنت بنائی۔ پھر وہ چلا گیا۔ رِمُش آیا۔ اس نے سلطنت بچانے کی کوشش کی۔ پھر وہ بھی چلا گیا۔ منیشتوشو آیا۔ اس نے سرحدیں سنبھالیں۔ وہ بھی چلا گیا۔
لیکن تاریخ کا ہر باب ایک اختتام رکھتا ہے۔ اور شاید تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے۔ دنیا فتح کرنے والا بادشاہ بھی آخرکار تاریخ کا ایک باب بن جاتا ہے۔ کیونکہ ہر عروج اپنے اندر زوال کا امکان رکھتا ہے۔ یہی شاید زندگی کا سب سے بڑا فلسفہ ہے۔ درخت جتنا بلند ہو، ہوا اتنی زیادہ اسے آزماتی ہے۔ دریا جتنا وسیع ہو، اسے اتنے ہی کناروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ سلطنت جتنی بڑی ہو، اسے اتنی ہی زیادہ حکمت، انصاف اور انتظام کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور انسان جتنا طاقتور ہو، اسے اتنی ہی زیادہ عاجزی کی ضرورت ہوتی ہے۔
سارگون نے دنیا کو فتح کرنے کی کوشش کی، اس کے جانشینوں نے وقت کو شکست دینے کی کوشش کی۔ اس کے مخالفوں نے اس سے جیتنے کی کوشش کی۔ لیکن اصل فاتح وقت تھا۔ جو آج بھی حقیقی اور بڑا فاتح ہے۔
اصل عظمت یہ نہیں کہ آپ نے کتنا حاصل کیا، اصل سوال یہ ہے کہ آپ کے بعد آپ کی بنائی ہوئی دنیا کتنی دیر تک قائم رہی۔ سلطنتیں تلوار سے بنتی ہیں،
مگر عدل سے قائم رہتی ہیں۔ تخت طاقت سے ملتا ہے، مگر اعتماد سے قائم رہتا ہے۔ اور انسان تاریخ میں اپنے محل سے نہیں، اپنے چھوڑے ہوئے اثر سے زندہ رہتا ہے۔





