ColumnTajamul Hussain Hashmi

ان قراردادوں کا انجام کیا ہے ؟

ان قراردادوں کا انجام کیا ہے ؟
تحریر: تجمّل حسین ہاشمی
قومی اسمبلی جمہوریت کا سب سے اہم ادارہ سمجھی جاتی ہے۔ ارکان پارلیمنٹ اپنے حلقوں اور ملک کے مسائل ایوان میں اٹھاتے ہیں، کبھی مذمت، کبھی مطالبہ، کبھی خراج تحسین۔ مگر بنیادی سوال یہ کہ ان قراردادوں کا انجام کیا ہے؟ پندرہویں قومی اسمبلی (2018۔2023) کی سرکاری رپورٹ کے مطابق ارکان پارلیمنٹ کی طرف سے ایک ہزار آٹھ سو دس قراردادیں جمع کرائی گئیں۔ ان میں سے سات سو اٹھتر غور کے لیے منظور ہوئیں، صرف پانچ مسترد، ایک ہزار بیالیس زیر عمل یا مدت ختم ہونے پر ختم ہوگئیں، محض ایک سو سات ایوان زیریں نے منظور کی۔ جبکہ منظوری کی شرح تقریباً پانچ اعشاریہ اکیانوے فیصد رہی۔ یہ کوئی عمل درآمد کی شرح نہیں ہے۔ ان ایک سو سات قرار دادوں میں سے کتنی پر حکومت وقت، وزارت یا ادارے نے عملی قدم اٹھائے ہیں، کوئی مجموعی اعداد و شمار سامنے نہیں ہیں۔ کوئی قرارداد قانون نہیں ہوتی۔ یہ ایک پارلیمانی پیغام ہے۔ قرار داد کے ذریعے حکومت کی توجہ دلائی جاتی ہے، کارروائی کا مطالبہ کیا جاتا ہے یا موقف ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ قانون سازی کے لیے ایک الگ طریقہ کار ہے ۔ ہمارے ہاں عوامی فلاح کی قراردادیں اکثر ناکام رہی ہیں۔ اس کی ہزاروں نہیں لاکھوں وجوہات ہیں۔ جس کے ذمہ دار ہم خود بھی ہیں، 29مئی 2018ء کو قومی اسمبلی نے ہر سال 15رمضان کو یومِ یتامیٰ منانے کا مطالبہ کیا، لیکن ابھی تک وہ دن نہیں منایا گیا۔ امریکہ، ناروے میں اسلام مخالف پوسٹیں پبلش ہوئی، ہماری اسمبلی نے ان کے خلاف کئی قرار دادیں پاس کیں، ان کے سفیر کو بلوا کر احتجاج کے اعلانات کئے گئے، لیکن عمل درآمد پھر بھی نظر نہیں آیا۔ تئیس اپریل دو ہزار 2024 ء کو ایم این اے سید آغا رفیع اللہ کی پیش کردہ قرارداد میں حکومت سے کم از کم اجرت کی ادائیگی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا تھا، اس قرار داد کو ایوان نے منظور کیا۔ مگر حقیقت میں کئی پرائیویٹ سیکٹر ابھی تک غریب مزدور کو اس کی پوری مزدوری نہیں دے رہے۔ سول انتظامیہ، ادارے با خوبی واقف ہیں، لیکن کوئی ایکشن نہیں، یہاں تک کہ پارلیمنٹ کی اپنی کینٹین میں بھی یہ قانون نافذ نہیں ہے۔ چائلڈ لیبر کے حوالے سے کئی قرار دادیں ہیں، قانون و سخت سزائیں بھی موجود ہیں، لیکن پھر بھی چائلڈ لیبر کی شرح کئی فیصد ہے۔ اسی سال بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی اضافی بلنگ کنٹرول کرنے، سرکاری اسپتالوں میں ادویات، مشینوں اور عملے کی کمی دور کرنے کے مطالبات ایوان میں اٹھائے گئے، مگر اسپتالوں میں ادویات اور مشینوں کی کمی اب بھی مریضوں کو در در کی ٹھوکروں کا سامنا ہے، اگلے روز سابق وزیر اعظم عمران خان کو ہسپتال میں لایا گیا، لیکن انجیوگرافی مشین خراب تھی، جس پر وزیر اعظم شہباز شریف نے ایکشن لیا، یہ صورتحال ہے۔ بجلی کے اضافی بلنگ پر بھی اسمبلی کی قرار دادوں میں بار بار آواز اٹھائی گئی، مگر تقسیم کار کمپنیاں اب بھی نقصانات چھپانے کے لیے عوام پر زیادہ بلنگ چارج کر رہی ہیں۔ حالیہ آڈٹ رپورٹس میں اربوں روپے کی عوام پر بلنگ کی زیادتی کا انکشاف ہی۔ احتساب اور کرپشن کے خلاف بھی کئی قراردادیں پیش ہوتی رہی ہیں، لیکن شوکت عزیز حکومت نے ہزاروں طاقتور لوگوں کو قومی اربوں روپے معاف کئے ۔ پی ڈی ایم حکومت میں بھی یہی کام کیا گیا۔ تاریخی طور پر قومی اسمبلی میں کرپشن کے خاتمے اور احتسابی اداروں کو موثر بنانے کے مطالبات اسمبلی میں ریکارڈ ہوئے، مگر ان پر عمل کی کوئی شفاف نگرانی نہیں کی گئی۔ کرپشن کے الزام لگتے رہتے ہیں، تحقیقات شروع ہوتی رہی، مگر لاکھوں مقدمات لٹکے ہوئے ہیں یا سیاسی انتقام کا شکار ہو چکے ہیں ۔ یہ ناکامیاں حادثہ نہیں، یہ نظام کی ناکامیاں ہیں۔ حکومتی بیوروکریٹ، طاقتور، فیصلہ ساز ان قراردادوں کو فائلوں میں دفن کر دیتے ہیں۔ قواعد کے مطابق منظور شدہ قرارداد کی کاپی متعلقہ ڈویژن کو بھیجنا اور چھ ماہ میں عمل کی اطلاع دینا ضروری ہے، مگر ہمارے ہاں اکثر ایسا نہیں ہوتا۔ بس ٹھنڈے کمروں کے مزے میں ہیں۔ حکومت صرف سیاسی مذمتوں یا خراج تحسین والی قراردادوں پر توجہ دیتی ہے، جو اخباروں کی سرخیاں بنتی ہیں، جبکہ عوامی فلاح بجلی، صحت، اجرت، علاقائی ترقی ، ملکی سالمیت کی قراردادیں خاموشی سے ختم ہو جاتی ہیں۔ ہمارے نظام کی بے حسی کی واضح مثالیں ہیں۔ منتخب عوامی نمائندے عوام کے مسائل لے کر اسمبلی آتے ہیں، ایوان منظوری دے دیتا ہے، اس کے بعد محکمے، وزارتیں اور بیوروکریسی ان قرار دادوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ عوام کا اعتماد پارلیمان پر متزلزل ہوتا ہے اور جمہوریت محض رسم بن کر رہ جاتی ہے۔ ہماری حکومتیں بدلتی رہیں، مگر ان کا رویہ، ان کا طرز سیاست نہیں بدلا۔ قراردادیں منظور ہوتی رہیں، مگر سرکاری اور پرائیویٹ ادارے عوام کو لوٹتے رہے ہیں۔ ہزاروں قرار دادیں وزارتوں میں پڑی ہیں، مگر یہ محض اداروں کی غفلت نہیں ، عوامی مسائل کو نظرانداز کرنے کی منظم پالیسی ہے۔ ایک ہزار آٹھ سو دس قراردادوں سے واضح ہے کہ عوامی سیاسی نمائندوں کے پاس ہزاروں مسائل کی فہرست ہیں، مگر نظام انہیں کے حل کرنے میں ناکام ہے۔ یقینا ہر قرارداد پر عمل ضروری نہیں، مذمت یا خراج تحسین والی الگ ہیں، مگر جن میں فوری اقدامات، فنڈز، تحقیقات یا پالیسی کے مطالبات ہوں ان کے لیے باقاعدہ نگرانی کا نظام لازمی ہے۔ متعلقہ وزارت کو مقررہ مدت میں جواب دینے کا پابند بنایا جائے، عمل درآمد کی حیثیت جاری ہو، قائمہ کمیٹی نگرانی کرے، اور عوام کو بتایا جائے کہ منظور شدہ قرارداد پر حکومت نے کیا ایکشن لیا ہے۔ جمہوریت صرف ووٹ ڈال کر ختم نہیں ہوتی۔ جمہوریت کا حسن ہے کہ مسئلہ اٹھایا جائے، پھر اس پر بحث ہو ، حکومت جواب دے، قرارداد منظور ہو اور نتیجہ عوام کے سامنے آئے۔ اگر قرارداد صرف ریکارڈ کی چند سطریں بن کر رہ جائے تو وہ عوامی خدمت نہیں، جمہوریت نہیں۔ پارلیمنٹ کی طاقت قرارداد منظور کرنے میں نہیں، بلکہ اسے عملی نتیجے تک پہنچانے میں ہے۔ حکومت کے لیے اب بھی موقع ہے کہ اس خلا کو پر کرے۔ نظام کے ناکارہ ہونے کے بیانات کو مزید تقویت ملے گی جو حکومت کے مفاد میں بہتر نہیں، بظاہر حالیہ بیانات کو دبانے کیلئے خان کی ہسپتال منتقلی کا شور رہا، لیکن عوام کو اب یہ جان لینا چاہے کہ ملک کو ڈیفالٹ سے نکالنے والوں کو 9فیصد مہنگائی کا جواب دینا ہو گا۔ یا پھر جھوٹے بیانیوں سے توبہ کرنی ہو گی۔

جواب دیں

Back to top button