Column

قومی مذاکرات ہی سے پائیدار حل نکلے گا

قومی مذاکرات ہی سے پائیدار حل نکلے گا
تحریر: سیّد ممتاز بخاری
بخاری نامہ
سیاست اور ریاضی کے قواعد میں ایک بنیادی فرق ہے۔ علمِ حساب میں دو جمع دو کا جواب ہمیشہ چار ہی رہتا ہے، مگر سیاست کے میدان میں دو اور دو کبھی تین اور کبھی پانچ بھی ہو سکتے ہیں۔ یہاں فیصلے محض اعداد و شمار سے نہیں بلکہ زمینی حقائق، قومی مفادات، حالات کی نزاکت اور وقت کی ضرورت کو سامنے رکھ کر کئے جاتے ہیں۔ سیاسی بصیرت دراصل اسی حقیقت کو سمجھنے، اپنے موقف میں مناسب لچک پیدا کرنے اور ناممکن دکھائی دینے والے راستوں میں سے ممکنہ راستہ تلاش کرنے کا نام ہے بلکہ پختہ کار سیاست دان کی پہچان ہی یہ ہے کہ وہ بند گلی میں کھڑا ہو کر دیوار سے سر ٹکرانے کے بجائے کوئی نئی کھڑکی تلاش کرتا ہے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں 2006ء کا میثاقِ جمہوریت اس حوالے سے ایک روشن مثال ہے۔ دو بڑی سیاسی جماعتیں جو ایک دوسرے کی شدید مخالف تھیں، ماضی کی تلخیوں، سیاسی رقابتوں اور ذاتی اختلافات سے بلند ہو کر ایک میز پر بیٹھیں اور جمہوری نظام کے استحکام کے لیے مشترکہ نکات پر اتفاق کیا۔ اس معاہدے نے یہ حقیقت واضح کی کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، لیکن قومی مفاد اس سے کہیں بالاتر ہوتا ہے۔ میثاقِ جمہوریت نے سیاسی قوتوں کے درمیان مفاہمت کی ایک نئی روایت قائم کی اور بعد ازاں ملک میں جمہوری عمل کی بحالی اور آمریت کے خاتمے کی راہ ہموار ہوئی۔ تاریخ کے اس سبق کو فراموش نہیں کیا جانا چاہیے۔
آج پاکستان ایک بار پھر ایسے ہی نازک سیاسی مرحلے سے گزر رہا ہے، جہاں ضد، انا اور محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات، مفاہمت اور قومی اتفاقِ رائے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ حکومت کی جانب سے اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت ایک مثبت اور بروقت قدم ہے۔ اسے سیاسی کمزوری کے بجائے سیاسی پختگی کی علامت سمجھا جانا چاہیے۔ اسی طرح اپوزیشن کی طرف سے مذاکرات کی میز پر آنا بھی کسی شکست یا پسپائی کے مترادف نہیں ہو گا۔ جمہوریت میں اختلاف کا حق سب کو حاصل ہے، مگر اختلاف کو مکالمے میں تبدیل کرنا ہی جمہوری شعور کا اصل امتحان ہے۔
ملک کو اس وقت معاشی مشکلات، مہنگائی، بے روزگاری، توانائی کے مسائل، سرمایہ کاری میں کمی، قرضوں کے دبا اور دہشت گردی جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان مسائل میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں جسے ایک حکومت یا ایک سیاسی جماعت تنہا حل کر سکے۔ قومی معیشت کو مستحکم کرنے، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے وسیع تر قومی اتفاقِ رائے ناگزیر ہے۔ اگر ہر حکومت کے ساتھ معاشی پالیسی بھی تبدیل ہوتی رہے گی اور ہر سیاسی تبدیلی کے ساتھ قومی ترجیحات ازسرنو طے ہوتی رہیں گی تو ترقی کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔
بدقسمتی سے گزشتہ چند برسوں میں ہماری سیاست میں عدم برداشت خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ سیاسی مخالف کو مخالف سمجھنے کے بجائے دشمن قرار دینے، اسے غدار، چور یا ملک دشمن ثابت کرنے کی کوشش نے سیاسی ماحول کو زہر آلود کر دیا ہے۔ پارلیمنٹ، جو قومی مسائل پر بحث اور اختلافِ رائے کا سب سے بڑا فورم ہے، اس کے بجائے سڑکوں، جلسوں، احتجاجوں اور دھرنوں کو فیصلہ کن میدان سمجھنے کا رجحان بڑھا ہے۔ سیاسی اختلاف جمہوریت کا حسن ہے، لیکن سیاسی دشمنی جمہوریت کی کمزوری بن جاتی ہے۔
اس صورتِ حال کا سب سے زیادہ نقصان عام آدمی کو ہوا ہے۔ سیاسی بے یقینی کے باعث سرمایہ کار محتاط ہوتے ہیں، کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں اور روزگار کے مواقع محدود ہوتے ہیں۔ دنیا کا کوئی سرمایہ کار ایسے ملک میں طویل المدتی سرمایہ کاری نہیں کرتا جہاں اسے یہ یقین نہ ہو کہ آج بننے والی پالیسی کل بھی برقرار رہے گی۔ معاشی استحکام سیاسی استحکام سے جڑا ہوا ہے۔ اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے کسی فلسفیانہ بحث کی ضرورت نہیں؛ دنیا کے کامیاب ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن مذاکرات کو محض فوٹو سیشن یا وقتی سیاسی حکمتِ عملی نہ بنائیں بلکہ اسے قومی مسائل کے مستقل حل کا ذریعہ بنائیں۔ مذاکرات کا ایک واضح، تحریری اور قابلِ عمل ایجنڈا ہونا چاہیے ۔ انتخابی اصلاحات اس ایجنڈے کا اہم ترین حصہ ہونی چاہئیں تاکہ آئندہ انتخابات کے بارے میں اٹھنے والے اعتراضات اور تنازعات کو کم کیا جا سکے۔ تمام سیاسی جماعتوں کو انتخابی نظام کو زیادہ شفاف، قابلِ اعتماد اور موثر بنانے کے لیے اتفاقِ رائے پیدا کرنا چاہیے۔
اسی طرح ایک موثر میثاقِ معیشت وقت کی اہم ضرورت ہے۔ حکومتیں بدلتی رہیں، مگر قومی معاشی پالیسیوں میں بنیادی تسلسل برقرار رہے۔ ٹیکس اصلاحات، توانائی، زراعت، صنعت، برآمدات، سرکاری اداروں، تعلیم اور صحت جیسے شعبوں میں طویل المدتی پالیسیوں پر سیاسی اتفاقِ رائے پیدا کیا جائے تاکہ ہر نئی حکومت کو معیشت کو ازسرنو ترتیب دینے کے بجائے پہلے سے طے شدہ راستے پر آگے بڑھنے کا موقع ملے۔
قانون کی حکمرانی اور اداروں کی حدود کا تعین بھی مذاکرات کا بنیادی موضوع ہونا چاہیے۔ احتساب کا نظام ایسا ہو جو سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو۔ نیب، ایف آئی اے اور دیگر اداروں کو سیاسی انتقام کے الزامات سے پاک کرنے کے لیے ضروری اصلاحات کی جائیں۔ ریاستی ادارے اپنی آئینی حدود میں رہیں اور سیاسی جماعتیں بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں۔ یہی توازن مضبوط جمہوریت کی بنیاد بنتا ہے۔
اپوزیشن کو بھی حکومت کی مذاکراتی پیش کش کو محض سیاسی چال قرار دے کر مسترد نہیں کرنا چاہیے۔ اگر اس کے پاس انتخابی عمل، سیاسی مقدمات، قانون سازی یا کسی دوسرے معاملے پر سنجیدہ تحفظات ہیں تو انہیں دلیل، آئین اور پارلیمانی مکالمے کے ذریعے سامنے لانا چاہیے۔ احتجاج جمہوری حق ہے، لیکن احتجاج کو مذاکرات کا متبادل بنا دینا کسی صورت دانش مندی نہیں۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ پاکستان کسی ایک جماعت، حکومت یا شخصیت کا نام نہیں۔ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، سیاسی قیادتیں بدلتی رہتی ہیں، مگر ریاست قائم رہتی ہے۔ قوموں کی تاریخ میں بڑے رہنما وہی قرار پاتے ہیں جو بحران کے وقت اپنی انا سے بلند ہو کر قومی مفاد کو ترجیح دیتے ہیں۔
آج پاکستان کو ایک نئے عمرانی اور سیاسی اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ ایسا اتفاق رائے جو اختلاف کو ختم نہیں بلکہ اسے مہذب بنائے، مخالف کو دشمن نہیں بلکہ جمہوری حریف سمجھے اور اقتدار کو منزل نہیں بلکہ قومی خدمت کا ذریعہ قرار دے۔ اگر حکومت اور اپوزیشن خلوصِ نیت کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھ جائیں تو اختلافات کے باوجود مشترکہ راستہ ضرور نکل سکتا ہے۔ آخرکار دو جمع دو کا جواب چار ہی نہیں ہوتا، سیاست میں کبھی کبھی قومی مفاد کے لیے اسے ایک نئے فارمولے میں ڈھالنا پڑتا ہے۔ یہی سیاسی تدبر ہے، یہی جمہوری پختگی ہے اور شاید یہی پاکستان کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے کا سب سے موثر راستہ بھی ہے۔

جواب دیں

Back to top button