بچوں اور خواتین کے خلاف بڑھتے جرائم

بچوں اور خواتین کے خلاف بڑھتے جرائم
تحریر: رفیع صحرائی
لاہور میں خواتین اور بچوں کے خلاف جنسی جرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات ایک ایسے خطرناک سماجی بحران کی نشاندہی کر رہے ہیں جسے محض چند مقدمات، بیانات اور رسمی مذمتوں سے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ رواں سال صرف لاہور کے مختلف تھانوں میں بدفعلی کے 484، زنا بالجبر کے 411اور اجتماعی زیادتی کے 29مقدمات کا اندراج اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ صورت حال انتہائی سنجیدہ ہو چکی ہے۔ یہ اعداد محض کاغذ پر درج مقدمات نہیں بلکہ ان کے پیچھے درجنوں خاندانوں کا دکھ، خوف، ذہنی اذیت اور زندگی بھر کا صدمہ موجود ہے۔
سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ یہ صرف لاہور کا مسئلہ نہیں۔ ملک کے بڑے شہروں سے لے کر دور دراز دیہات تک خواتین، بچوں اور دیگر کمزور طبقات کو جنسی جرائم کا سامنا ہے۔ اصولی طور پر تو لاہور میں یہ شرح صوبے کے دیگر حصوں کی نسبت کم ہونی چاہیے کہ پولیس اور بے شمار قانون نافذ کرنے والے ادارے یہاں زیادہ فعال اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہیں۔ دستیاب اعداد و شمار شاید اس مسئلے کی مکمل تصویر بھی پیش نہیں کرتے، کیونکہ ہماری معاشرتی ساخت میں ایسے بے شمار واقعات رپورٹ ہی نہیں ہو پاتے۔ بدنامی کا خوف، خاندان کی عزت کا تصور، مجرم کی دھمکیاں، بااثر افراد کا دبا، پولیس کے رویے کا خدشہ، عدالتی کارروائی کی طوالت اور بالآخر انصاف نہ ملنے کا اندیشہ متاثرین کو خاموش رہنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ یہ خاموشی دراصل مجرم کے لیے سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔
جنسی جرائم کی روک تھام کے لیے سب سے پہلے ریاست کو یہ یقین دلانا ہوگا کہ متاثرہ فرد تنہا نہیں۔ پولیس اسٹیشن سے عدالت تک ایک ایسا محفوظ اور باوقار نظام قائم ہونا چاہیے جہاں متاثرہ خاتون یا بچے کو دوبارہ اذیت، سوالات، تضحیک یا غیر ضروری تشہیر کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ مقدمہ درج کرنا انصاف کا آغاز ہے، اختتام نہیں۔ موثر تفتیش، شواہد کا فوری تحفظ، جدید فرانزک سہولتیں، ڈی این اے ٹیسٹنگ اور تربیت یافتہ تفتیشی افسر ایسے مقدمات میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ ایسے مقدمات برسوں تک عدالتوں میں کیوں چلتے رہیں؟ زیادتی اور بچوں کے خلاف جنسی جرائم کے مقدمات کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کی جانی چاہئیں اور قانون کے ذریعے ایک معقول مقررہ مدت میں فیصلے کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ تیز رفتار انصاف کا مطلب عجلت میں انصاف نہیں بلکہ غیر ضروری تاخیر کا خاتمہ ہے۔ اگر مجرم کو معلوم ہو کہ گرفتاری کے بعد معاملہ برسوں تک چلتا رہے گا، گواہ دبائو میں آ جائیں گے اور بالآخر مدعی صلح پر مجبور ہو سکتا ہے تو قانون کا خوف کیسے پیدا ہوگا؟
بدقسمتی سے ایسے مقدمات میں صلح کا رجحان بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ متاثرہ خاندان طویل مقدمے، معاشرتی دبا، بدنامی اور مسلسل ذہنی اذیت سے تنگ آ کر دست بردار ہو جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مجرم سزا سے بچ جاتا ہے اور اسے آئندہ جرم کے لیے مزید حوصلہ ملتا ہے۔ یہ بہت ضروری ہے کہ ایسے جرائم میں ریاست کو مضبوط فریق بننا ہوگا تاکہ انصاف کا انحصار صرف متاثرہ خاندان کی مالی، سماجی یا سیاسی طاقت پر نہ رہے۔ کیونکہ غریب اور کمزور طبقے کو دبانا آسان ہو جاتا ہے۔ جب ریاست مظلوم کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہو گی تو معاشرے کے یہ ناسور جرم کرنے سے پہلے سو بار سوچیں گے۔
میڈیا کا کردار بھی اس معاملے میں انتہائی اہم ہے۔ بریکنگ نیوز کی دوڑ میں غیر مصدقہ اطلاعات، متاثرہ فرد کی شناخت، تصاویر یا ذاتی تفصیلات نشر کرنا انصاف نہیں بلکہ متاثرین پر مزید ظلم کے مترادف ہے۔ بعض اوقات میڈیا کی غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ جرم سے زیادہ اذیت ناک بن جاتی ہے اور متاثرہ خاندان آئندہ کبھی پولیس یا عدالت سے رجوع کرنے کی ہمت نہیں کر پاتا۔ سوشل میڈیا نے اس خطرے کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ چند لمحوں میں ایک غیر مصدقہ پوسٹ ہزاروں افراد تک پہنچ جاتی ہے جس سے متاثرہ شخص کی عزت، رازداری اور مستقبل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ صحافتی اداروں اور سوشل میڈیا صارفین کو یہ سمجھنا ہوگا کہ خبر اور تماشے میں فرق ہوتا ہے۔ ان کی غیرذمہ داری دوسروں کی زندگی تباہ کر سکتی ہے۔
تاہم ریاستی اقدامات کے ساتھ معاشرتی تربیت بھی ضروری ہے۔ بچوں کے اندر اعتماد پیدا کرنا، عمر کے مطابق اچھے اور برے لمس، مشکوک رویوں، محفوظ اور غیر محفوظ حالات اور کسی بھی ناخوش گوار تجربے کی صورت میں قابل اعتماد بڑوں سے بات کرنے کے بارے میں آگاہ کرنا ہوگا۔ یہ آگاہی بچوں کو خوف زدہ کرنے کے لیے نہیں بلکہ انہیں بااختیار بنانے کے لیے ہونی چاہیے۔ والدین کو بھی بچوں کی بات سننے کا حوصلہ پیدا کرنا ہوگا۔ اکثر بچے کسی واقعے کا براہ راست اظہار نہیں کرتے بلکہ ان کے رویے، خوف، خاموشی یا اچانک تبدیلی کے ذریعے خطرے کا اشارہ ملتا ہے۔ ایسے میں والدین کی ذمہ داری ہے کہ ان کے بدلے رویے کی تہہ تک پہنچیں۔
تعلیمی اداروں کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ اسکولوں میں بچوں کے تحفظ کے واضح ضابطے، شکایات کا فوری ازالہ،، اساتذہ کی تربیت اور مشکوک رویوں کی فوری اطلاع کا موثر نظام ہونا چاہیے۔ اسی طرح مذہبی رہنماں، سماجی تنظیموں اور مقامی برادریوں کو بھی اس مسئلے کے خلاف اجتماعی شعور پیدا کرنا ہوگا۔ عزت کا مطلب مجرم کو چھپانا نہیں، بلکہ مظلوم کو تحفظ دینا ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ جنسی جرائم کے مرتکب افراد کے ساتھ بلاامتیاز قانونی کارروائی ہو۔ جرم کا تعلق کسی غریب، امیر، بااثر یا کمزور شخص سے نہیں ہونا چاہیے۔ قانون کی نظر میں سب برابر ہوں گے تو ہی معاشرے میں حقیقی قانون پسندی پیدا ہوگی۔ صرف سخت سزاں کے اعلانات کافی نہیں؛ سزا کا یقینی اور بروقت ہونا زیادہ اہم ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ بچوں اور خواتین کے تحفظ کو محض ایک انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ قومی ترجیح قرار دیا جائے۔ ایک جامع قومی پالیسی، مضبوط پولیس، جدید فرانزک نظام، خصوصی عدالتیں، محفوظ رپورٹنگ، ذمہ دار میڈیا اور موثر عوامی آگاہی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہونے چاہئیں۔





