Column

ایران محتاط رہے

ایران محتاط رہے
صورتحال
سیدہ عنبرین
جدید دنیا بھر میں ہونے والی تمام جنگوں کے بعد مذاکرات کی میز پر فریقین خود آ بیٹھے یا فریقین کے دوست انہیں مذاکرات کیلئے قائل کرنے میں کامیاب رہے۔ مذاکرات میں فاتح فریق اپنی بات منوانے میں کامیاب رہا، کچھ واقعات ایسے بھی ملتے ہیں جہاں ایک فریق میدان جنگ کا تو فاتح رہا لیکن وہ مذاکرات میں اس فتح کا فائدہ نہیں اٹھا سکا۔ شکست خوردہ فریق اگر مذاکرات کے ذریعے وہ کچھ حاصل کر لے جو وہ میدان جنگ میں حاصل نہیں کر سکا تو یہ اس کی سفارتی کامیابی سمجھی جاتی ہے۔ اسرائیل اور امریکہ کے ایران پر مشترکہ حملے کے بعد یہ جنگ مختلف چھوٹے بڑے وقفوں سے جاری رہی، اس کا دورانیہ مجموعی طور پر قریباً چھ ماہ بنتا ہے، دوران جنگ مذاکرات بھی شروع ہوئے اور جنگ بندی کیلئے ایک ایم او یو پر دستخط بھی کئے گئے، جس کا جشن بھی منایا گیا۔ یہ جشن مصالحت کاروں اور حملہ آوروں نے ملکر منایا، جبکہ جس فریق پر بلاجواز جنگ مسلط کی گئی تھی، اس کا رویہ قدرے سنجیدہ رہا، شاید اسے اندازہ تھا کہ حملہ آور اس جنگ بندی معاہدے کی پابندی نہیں کرے گا۔ اس خدشے کے باوجود اس نے اس معاہدے کی ہر شق کی پاسداری کی، جبکہ فریق ثانی امریکہ نی اس کی متعدد مرتبہ خلاف ورزی کی، جس کے بعد پھر صفحہ ہستی سے مٹا دینے کی دھمکیاں، اور ان پر عمل بھی کیا جاتا رہا۔ یہ سب کچھ عالمی امن کیلئے خطرہ بتایا جاتا رہا، لیکن جنگ بندی کیلئے دستخط شدہ ایم او یو سے انحراف کرنے والے اور حملے جاری رکھنے والے کا ہاتھ کسی نے نہ پکڑا۔ وقت اسی طرح آگے بڑھتا رہا، دھمکیاں بے اثر رہیں، یورپی ممالک نے اس جنگ میں کودنے سے انکار کر دیا، متعدد یورپی ممالک کے اڈے استعمال کرنے کی امریکی کوششیں بھی ناکام رہیں۔ آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کو گزارنے کی بجائے متبادل راستہ بنایا گیا، جو پرخطر ہونے کے سبب کامیاب نہ ہو سکا۔ تجارتی جہازوں کو تمام تر خطرات درپیش ہونے کے باوجود امریکی انشورنس کمپنیوں نے انہیں انشورنس کور مہیا کرنے کی پیشکش کی، لیکن دنیا کا کوئی ملک اور اس کے تجارتی جہاز یہ خطرناک سودا کرنے کیلئے تیار نہ ہوئے۔ امریکہ نے ایران کی بحری ناکہ بندی جاری رکھی، لیکن چین کے جہاز اس ناکہ بندی کو توڑتے ہوئے گزرتے رہے، امریکہ جن ملکوں کو اپنے حفاظتی حصار میں لے کر متبادل راستہ دکھا رہا تھا ان میں سے بیشتر نے ایران کے ساتھ براہ راست اپنے معاملات طے کر لئے، کچھ یوآن میں ادائیگیاں کر کے اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں، کچھ کرپٹو کرنسی میں اور کچھ ایرانی کرنسی میں راہداری ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔ ایران کو امریکی شرائط کے تابع کرنے کی تمام کوشش ناکام ہو گئی تو اس کی معاشی ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے امریکہ نے ان تمام ممالک کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں جو اس کا معاشی بائیکاٹ نہیں کریں گے۔ یہ دھمکی بھی کارگر ثابت نہ ہو سکی، ایران کی سرحدیں جن ممالک سے ملتی ہیں ان میں ترکیہ، پاکستان، عراق، آرمینا، آذربائیجان، افغانستان اور ترکمانستان شامل ہیں، جبکہ چین اور روس وہ بڑے ملک ہیں جو فاصلے پر ہونے کے باوجود ایران کے ساتھ تجارتی، سفارتی اور دفاع کے شعبے میں گہرے تعلقات رکھتے ہیں، دیگر تمام ممالک بھی اپنی ضروریات کے مطابق ایران سے درآمد و برآمد کرتے ہیں۔ صرف پاکستان ایسا ملک ہے جو ایران سے گزشتہ قریباً نصف صدی سے باقاعدہ اور اعلانیہ تجارت نہیں کرتا، لیکن تجارت کی علاقائی انتظامات کے تحت بہت کچھ ایک طرف سے دوسری طرف آتا اور جاتا ہے، اور مستقبل قریب میں بھی ایران کی سرحد سے جڑے ملکوں کے درمیان تجارتی ڈیڈ لاک پیدا ہونے کے امکانات بہت کم ہیں۔ امریکہ کو اس حقیقت کا اندازہ بخوبی ہے، لیکن اس نے اپنی بہتری کے تمام دروازے اپنے ہاتھوں سے بند کئے ہیں۔ ایم او یو کی ہر شق کی پابندی کی جاتی تو آج خطے میں مکمل امن بحال ہو چکا ہوتا، اور معمول کی تجارتی سرگرمیاں بھی شروع ہو چکی ہوتیں، جنگ بندی معاہدہ آج امریکہ کی سب سے بڑی ضرورت ہے، لیکن اس نے وعدے کے مطابق ایران کے منجمد اثاثے ایران کو ٹرانسفر نہیں کئے، اس کے علاوہ ایران میں تعمیر نو کیلئے جو تین سو ارب ڈالر دینے کا وعدہ ہوا، وہ بھی ہوا میں رہ گیا۔ ایران کی بحری ناکہ بندی ختم نہیں کی گئی، بلکہ معاشی پابندیوں کا اعلان کر دیا گیا، ایسے میں کوئی نیا معاہدہ کیسے ہو سکتا ہے، اور اگر ہو بھی جائے تو اس بات کی کیا گارنٹی ہو گی کہ امریکہ اس کا پابند رہے گا۔
باری النظر میں یوں لگتا ہے کہ امریکہ میں ہونے والے مڈٹرم انتخابات میں فتح کا نعرہ لگانے، اور امریکی عوام کو اس پر یقین دلانے کیلئے ایران سے کسی معاہدے کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے، ورنہ امریکہ اس معاملے میں کبھی سنجیدہ نہیں رہا۔ 2015ء میں کئے گئے اچھے بھلے معاہدے کو پھاڑ پھینکنا اور ایران پر حملہ کرنا اس طرز عمل کا کچا چٹھا کھول دیتا ہے۔
امریکی صدر سے زیادہ بے پیندے کا لوٹا دنیا نے اس سے پہلے نہ دیکھا ہو گا، ایران پابند تھا ایٹم بم نہیں بنائے گا، وہ وعدے کی پاسداری کرتا رہا، امریکہ نے حملہ کر دیا، اور دعویٰ کیا کہ نیوکلیئر صلاحیت مکمل طور پر تباہ کر دی گئی ہے۔ پھر اس کے بعد ایران پر حملہ اور بحری ناکہ بندی کا کوئی جواز نہ تھا، اپنی فتح کا اعلان تو کرتے رہے، جنگ سے نکلنے کا ارادہ نہ کیا، بلکہ جزیرہ خارگ پر حملے شروع کر دیئے، یہاں سے بھی کچھ نہ ملا تو آبنائے ہرمز پر رال ٹپک پڑی، کہ اس کا انتظام امریکہ سنبھالے گا، کوئی مصالحت کار امریکہ سے یہ سوال تو کرے کہ آپ کو آبنائے ہرمز کا کنٹرول کیوں اور کس قانون کے تحت دیا جائے۔
امریکہ کو ہر طرف سے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے، اب ایران کو مکہ معاہدے میں شامل کرنے کی دعوت دیئے جانے کی خبریں آ رہی ہیں، یہ معاہدہ تو مستقبل کیلئے ہو سکتا ہے، موجود تنازعے سے نکلنے کیلئے مکہ معاہدہ میں اگر ایران شامل ہو بھی جائے تو امریکہ یہاں سے کیسے نکلے گا؟۔ اس کیلئے تو ضروری ہو گا کہ امریکہ کو مکہ معاہدے میں شامل کر کے اسے یہاں سے نکلنے کا پابند کیا جائے اور ایم او یو میں طے شدہ امور پر عملدرآمد کرایا جائے۔ ایرانی قیادت نے معاملہ واضع کر دیا وہ گزشتہ نصف صدی سے پابندیوں کا شکار ہیں، نئی پابندیوں کا اعلان کوئی نئی بات نہیں۔ ایران کو مذاکرات کی میز پر شکست دینے کا امریکی اور اسرائیل منصوبہ موجود ہے۔ ایران کو محتاط رہنا ہو گا دوستوں اور دشمنوں دونوں سے۔

جواب دیں

Back to top button