عمران خان کا علاج اور توہین عدالت کی کارروائی

عمران خان کا علاج اور توہین عدالت کی کارروائی
نقارہ خلق
امتیاز عاصی
ان دنوں بانی پی ٹی آئی کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال نہ بھیجنے کا معاملہ زد و عام ہے۔ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے عمران خان کو جیل سے باہر علاج معالجہ کے لئے بھیجنے کا حکم دیا تھا۔ تین رکنی بینچ میں جسٹس جناب اشتیاق ابراہیم اور جسٹس نعیم افغان دونوں اپنے اپنے صوبوں کی ہائی کورٹس کے چیف جسٹس رہ چکے ہیں، جبکہ جسٹس شاہد وحید لاہور ہائی کورٹ کے جج رہ چکے ہیں۔ جناب اشتیاق ابراہیم اور جناب نعیم افغان اچھی شہرت رکھنے والے جج صاحبان ہیں جسٹس شاہد وحید میرے ایک مہربان اور محسن جناب جسٹس عبادالرحمان لودھی جو لاہور ہائی کورٹ کے جج رہ چکے ہیں دونوں کولیگ رہ چکے ہیں۔ جناب جسٹس شاہد وحید راست باز جج ہیں ان کے والد محترم شیخ عبدل وحید ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سے ترقی پا کر لاہور ہائی کورٹ کے جج رہ چکے ہیں۔ عمران خان کو شفا انٹرنیشنل بھیجنے کے سپریم کورٹ کے حکم سے ایک بات واضح ہو گئی ہے عدلیہ ابھی آزاد ہے اور بغیر کسی دبائو کے فیصلے کر رہی ہے۔ یہ بات ہماری سمجھ سے بالاتر ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کے بعد ایک قیدی کو علاج معالجہ کے لئے شفا انٹرنیشنل نہ بھیجے جانے میں کون سی قانونی رکاوٹ تھی جو حکومت نے اپنے لئے مشکلات پید ا کر لی ہیں۔ گو وزیر اعظم شہباز شریف ایک سیاست دان ہیں اور اقتدار کی جس مسند پر وہ فائز ہیں آنے جانے والی چیز ہے مگر وہ سرکاری افسران جو توہین عدالت کی زد میں آئے ہیں ان کا کیا قصور ہے۔ حکومت نے ان سرکاری ملازمین کی نوکریاں دائو پر لگا دی ہیں۔ عمران خان کو شفا انٹرنیشنل بھیج دیا جاتا تو کون سی قیامت برپا ہو جاتی جو حکومت نے اپنے اور سرکاری افسران کے لئے مشکلات پیدا کر لی ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کو جیل سے باہر بھیجنے کے سپریم کورٹ کے حکم نے ان افواہوں کو بھی مسترد کر دیا ہے عدلیہ کسی قسم کے دبائو کا شکار ہے۔ اس سے قبل سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو بھی توہین عدالت کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کے بعد سپریم کورٹ سے سزا یاب ہونے کے بعد انہیں وزارت عظمیٰ چھوڑنا پڑی تھی۔ جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء دور کی بات ہی مجھے لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں کسی کیس سے متعلق جانے کا اتفاق ہوا تو مرحوم جسٹس ملک اختر حسن کہہ رہے تھے انہیں پرواز کرنے کے لئے تو کہا گیا ہے مگر پر کاٹ دیئے گئے ہیں۔ حکومت کی طرف سے بانی پی ٹی آئی کو شفاء انٹرنیشنل نہ بھیجے جانے سے یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا موجودہ حکومت جو فارم 47سے اقتدار میں آئی ہے اسے عدلیہ کے احکامات کی کوئی پروا نہیں ہے۔ ملک بھر کی جیلوں سے قیدیوں کو جیل سے باہر آنا جانا لگا رہتا ہے جیل سے باہر اسی قیدی کو بھیجا جاتا ہے جس کے علاج معالجہ کے جیلوں میں خاطر خواہ انتظامات نہیں ہوتے۔ پنجاب حکومت نے بانی پی ٹی آئی کو قید خانے میں بھی موت کی سزا پانے والے قیدیوں کے سیلوں میں رکھا ہوا ہے حالانکہ اس سے قبل سزا یافتہ نواز شریف کو سنٹرل جیل راولپنڈی میں بی کلاس والے قیدیوں کے لئے مختص جگہ پر رکھا گیا تھا۔ اگرچہ اسی جگہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو بھی رکھا گیا تھا حالانکہ قانونی اور اخلاقی طور پر یہ غلط تھا جو جگہ بی کلاس کے قیدیوں کے لئے مختص ہے انہیں وہیں رکھنا چاہیے تھا۔ عام طور پر اگر کوئی سیاسی قیدی یا وی آئی پی قیدی آجائے تو بی کلاس سے قیدیوں اور حوالاتیوں کو بی کلاس کے لئے مختص جگہ سے بیرکس یا سیلوں میں شفٹ کر دیا جاتا ہے اور انہیں بی کلاس کی سہولتیں وہیں مہیا کر دی جاتی ہیں جیسا کہ آج کل عمران خان کودی جا رہی ہیں۔ اسلام نے قیدیوں کے بھی کچھ حقوق رکھے ہیں۔ بعض حلقوں میں بانی پی ٹی آئی کو سزائے موت کے سیلوں میں رکھ کر خوشی کے مارے پھولے نہیں سما رہے ہیں انہیں آنے والے وقت سے ڈرنا چاہیے وقت کسی کا ساتھ نہیں دیتا۔ ملک و قوم کی بدقسمتی دیکھیے جن لوگوں پر منی لانڈرنگ اور بیرون ملک بڑی بڑی جائیدادیں بنانے کے مقدمات تھے وہی اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں ۔مسلم لیگی حلقوں کے پاس عمران خان کے خلاف اور کوئی الزام تو نہیں بار بار توشہ خانہ اور القادر یونیورسٹی کا حوالہ دیتے نہیں تھکتے۔ اس ناچیز کے نزدیک عمران خان ایک بہادر اور مضبوط اعصاب رکھنے والا سیاست دان ہے ورنہ نواز شریف جیسے سیاست دان چند جیلوں میں رہنے کے بعد ڈیل کی طرف راغب ہوجاتے ہیں۔ اگرچہ نواز شریف وغیرہ طاقتور حلقوں سے ڈیل کرکے ملک سے باہر تو چلے جاتے ہیں، مگر عوام کی نظروں میں اتنے گر بھی جاتے ہیں۔ بعض حلقوں کی طرف سے اعتراض اٹھایا جا رہا ہے پی ٹی آئی نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کو توہین عدالت کی کارروائی میں فریق کیوں نہیں بنایا ہے۔ گو میں وزیر داخلہ کا ترجمان نہیں عام طور پر جب اس قسم کی کاروائی ہو تو متعلقہ محکموں کے سیکرٹریز کو ہی فریق بنایا جاتا ہے نہ کہ کسی وزیر کو۔ جہاں تک وفاقی وزیر قانون اور وفاقی وزیر اطلاعات کو فریق بنانے کی بات ہے ہر دو وزراء صاحبان عمران خان کو جیل سے باہر بھیجنے پر معترض تھے اور قومی پریس میں طرح طرح کے بیانات داغ رہے تھے شائد اسی لئے پی ٹی آئی والوں نے انہیں توہین عدالت کی کاروائی میں فریق بنایا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں کچھ اس طرح کا ماحول فروغ پا چکا ہے اگر عدلیہ کسی کے حق میں فیصلہ دے دے تو اسے ڈیل کا نام دے دیا جاتا ہے اور اگر کسی خلاف فیصلہ آجائے تو اسے دبائو سے منسوب کیا جاتا ہے۔ گو سپریم کورٹ میں توہین عدالت کے کیس میں آئندہ پیشی کو کافی وقت باقی ہے، جن جن لوگوں کو فریق بنایا گیا ہے، ان کی طرف سے یقینی طور پر عدلیہ کے روبرو معافی نامہ داخل کرنے میں عافیت ہوگی، ورنہ اگر عدالت نے معمولی سی سزا دے دی تو جو لوگ بھی اس کی زد میں آئیں گے انہیں اپنے عہدوں سے ہاتھ دھونا پڑیں گے۔





