معاہدہ مکہ، دو قومی نظریہ اور اتحادِ امت! پاکستان کے روشن مستقبل کا نیا باب

معاہدہ مکہ، دو قومی نظریہ اور اتحادِ امت! پاکستان کے روشن مستقبل کا نیا باب
تحریر: ڈاکٹر عامر عبداللہ محمدی
یومِ آزادی صرف پرچم لہرانے، ملی نغمے سننے اور تقریبات منعقد کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ اس عہد کی تجدید کا دن ہے جس کے تحت برصغیر کے مسلمانوں نے ایک الگ وطن کے حصول کے لیے لازوال قربانیاں دیں۔ پاکستان کا قیام محض جغرافیائی تقسیم کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ ایک نظریاتی جدوجہد کا ثمر تھا۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے دو قومی نظریہ کہا جاتا ہے اور جس کی بنیاد اسلام، تہذیب، مذہب اور جداگانہ قومی تشخص پر قائم تھی۔
آج جب پاکستان اپنا یومِ آزادی منانے جا رہا ہے تو عالمی حالات ایک نئے دور کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، مسلم دنیا کو درپیش سلامتی کے مسائل اور عالمی طاقتوں کی بدلتی ہوئی ترجیحات کے درمیان مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والا مشترکہ دفاعی معاہدہ ایک اہم پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف ہونے والی جارحیت کو مشترکہ خطرہ تصور کرنے اور دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کا عزم کیا ہے۔
بلاشبہ، پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں سامنے آنے والی یہ سفارتی و دفاعی پیش رفت قوم کے لیے یومِ آزادی کے موقع پر ایک اہم تحفہ قرار دی جا سکتی ہے۔ گزشتہ برس پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ بھی طے پا چکا تھا، جس میں ایک ملک پر جارحیت کو دونوں کے خلاف جارحیت تصور کرنے کا اصول شامل ہے۔
مکہ، صرف ایک شہر نہیں، امت کے اتحاد کی علامت ہے۔مکہ مکرمہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے عقیدت کا مرکز ہی نہیں بلکہ وحدتِ امت کی سب سے بڑی علامت بھی ہے۔ قرآن مجید نے مسلمانوں کو واضح طور پر حکم دیا: ’’وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّھِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا‘‘ ۔ یعنی: ’’ اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو‘‘۔ مکہ مکرمہ میں عرب و عجم، مشرق و مغرب، کالے اور گورے، مختلف زبانیں بولنے والے مسلمان ایک ہی قبلے کی طرف رخ کرکے کھڑے ہوتے ہیں۔ اسلام نے قوم، نسل اور زبان کی بنیاد پر برتری کے تصور کو ختم کرکے تقویٰ کو معیار قرار دیا۔ رسولؐ اللہ نے فرمایا:’’ لَا فَضْلَ لِعَرَبِيٍّ عَلَIعَجَمِيٍّ، وَلَا لِعَجَمِيٍّ عَلَIعَرَبِيٍّ، وَلَا لَِحْمَرَ عَلَIَسْوَدَ، وَلَا لَِسْوَدَ عَلَIَحْمَرَ ِلَّا بِالتَّقْوَI‘‘۔
یہی وہ اسلامی تصور ہے جس میں عرب اور عجم ایک دوسرے کے حریف نہیں، بلکہ معاون اور مددگار قرار پاتے ہیں ۔ پاکستان، مضبوط عالمِ اسلام کی ضرورت ہے، اور ایک متحد، مستحکم اور پُرامن عالمِ اسلام پاکستان کی قوت اور سلامتی کے لیے بھی اہم ہے۔
اسی لیے آج پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا قریب آنا محض تین ریاستوں کا دفاعی تعاون نہیں بلکہ اگر اسے وسیع تر اسلامی مفاد، امن، خودمختاری اور باہمی احترام کے اصولوں کے تحت آگے بڑھایا جائے تو یہ عرب و عجم کے درمیان نئے تعاون کا نقطہ آغاز بن سکتا ہے۔ اس معاہدے کی اصل کامیابی صرف دفاعی شقوں میں نہیں بلکہ اس کے مستقبل کے عزائم میں پوشیدہ ہے۔ ترکیہ نے مشترکہ فوجی مشقوں، دفاعی صنعت، جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، سائبر شعبے اور دفاعی پیداوار میں تعاون کو بھی اس فریم ورک کا حصہ قرار دیا ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کو اپنی دفاعی صلاحیت کو معاشی طاقت میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ ہماری دفاعی صنعت، نوجوان افرادی قوت، انجینئرنگ، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور سائبر سکیورٹی کے شعبے مسلم دنیا کے ساتھ مل کر ایک نئے معاشی و صنعتی بلاک کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔
اگر پاکستان اپنی دفاعی صلاحیت، سعودی عرب کی مالی و اقتصادی قوت اور ترکیہ کی صنعتی و تکنیکی مہارت کو ایک دوسرے سے جوڑنے میں کامیاب ہو جائے تو اس تعاون کے اثرات دفاع سے کہیں آگے تجارت، تعلیم، سائنس، صنعت، زراعت اور روزگار تک پہنچ سکتے ہیں۔
ہمیں اس موقع کو محض جذباتی نعروں تک محدود نہیں کرنا چاہیے۔ ہماری خواہش ہونی چاہیے کہ آنے والے برسوں میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مشترکہ دفاعی تعاون سے مشترکہ اقتصادی تعاون، مشترکہ فوجی مشقوں سے مشترکہ صنعتی منصوبوں، اور سیاسی رابطوں سے عوامی رابطوں کا سفر شروع ہو۔
ہم چاہتے ہیں کہ عرب اور عجم کی یہ قربت پوری مسلم دنیا تک پھیلے۔ خلیج سے پاکستان، ترکیہ سے وسطی ایشیا اور افریقہ تک مسلم ممالک ایک دوسرے کے خلاف نہیں بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوں۔یہ اتحاد کسی ملک کے خلاف جارحیت کا اتحاد نہیں ہونا چاہیے بلکہ امن، دفاع، خودمختاری، ترقی اور باہمی احترام کا اتحاد ہونا چاہیے۔ پاکستان کا یومِ آزادی ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قومیں صرف زمین سے نہیں بنتیں، نظریے سے بنتی ہیں، صرف ہتھیاروں سے محفوظ نہیں ہوتیں، اتحاد سے محفوظ ہوتی ہیں؛ اور صرف وسائل سے ترقی نہیں کرتیں، عزم، دیانت، علم اور قیادت سے ترقی کرتی ہیں۔
آج قوم کو ضرورت ہے کہ وہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر پاکستان کے قومی مفاد کو مقدم رکھے۔ حکومت، اپوزیشن، فوج، سیاسی قیادت، علمائ، دانشور، تاجر اور نوجوان، سب کو یہ سوچنا ہوگا کہ پاکستان کو ایک مضبوط، خودمختار، خوشحال اور باوقار اسلامی ریاست کیسے بنایا جائے۔
وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں موجودہ حالات میں پاکستان نے سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ جس نئے دفاعی باب کا آغاز کیا ہے، اسے ایک وسیع تر قومی اور اسلامی وژن کے ساتھ آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان نے ماضی میں بھی مشکل وقت میں سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے، جبکہ وزیراعظم نے حالیہ بحرانوں میں سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
اب اصل امتحان اس معاہدے کو ایک دستاویز سے ایک تحریک، ایک دفاعی تعاون سے ایک جامع شراکت داری، اور ایک سفارتی پیش رفت سے امتِ مسلمہ کے روشن مستقبل کی بنیاد بنانے کا ہے۔ یہی یومِ آزادی کا پیغام ہے،پاکستان مضبوط ہو، عالمِ اسلام متحد ہو، عرب و عجم ایک دوسرے کے معاون بنیں، اور مکہ مکرمہ سے اٹھنے والی وحدت کی صدا پوری امت کو امن، عزت اور ترقی کی منزل تک لے جائے، آمین۔




