Column

امن کی عوامی امیدیں

امن کی عوامی امیدیں
پرچارک
تحریر شکیل سلاوٹ
جنوبی ایشیا کی دو ایٹمی طاقتیں، پاکستان اور بھارت، اگست کے مہینے میں اپنے اپنے یومِ آزادی مناتی ہیں۔ پاکستان کے لیے 14اگست اور بھارت کے لیے 15اگست صرف آزادی کی یاد تازہ کرنے کے دن نہیں، بلکہ یہ دونوں ممالک کے لیے اپنے ماضی، حال اور مستقبل کا جائزہ لینے کا دن بھی ہوتا ہیں۔ دونوں ممالک نے آزادی کے بعد ایک طویل سفر طے کیا، جنگیں دیکھیں، سیاسی بحرانوں سے گزرے، معاشی مشکلات کا سامنا کیا اور بالآخر ایٹمی طاقتیں بن گئے۔ لیکن سات دہائیوں سے زائد کا یہ سفر ایک بنیادی سوال آج بھی ہمارے سامنے رکھتا ہے: کیا جنوبی ایشیا کی اصل طاقت ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہونے میں ہے یا ایک دوسرے کے ساتھ امن سے آگے بڑھنے میں؟۔
ایٹمی صلاحیت نے دونوں ممالک کو دفاعی اعتبار سے ایک خاص مقام ضرور دیا ہے، لیکن ایٹمی طاقت ہونے کی سب سے بڑی ذمہ داری بھی یہی ہے کہ جنگ کے بجائے امن کو ترجیح دی جائے۔ کیونکہ ایٹمی دور میں جنگ کا مطلب صرف میدانِ جنگ میں فوجوں کا ٹکرائو نہیں، بلکہ کروڑوں انسانوں کے مستقبل کو خطرے میں ڈالنا ہے۔
پاکستان میں یومِ آزادی قومی خودمختاری، قربانی اور ایک بہتر مستقبل کے خواب کی علامت ہے۔ آج پاکستانی عوام ایک ایسے ملک کی خواہش رکھتے ہیں جہاں معاشی استحکام ہو، نوجوانوں کو روزگار ملے، تعلیم اور صحت عام آدمی کی پہنچ میں ہوں اور سیاسی اختلافات قومی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں۔
بھارت میں بھی یومِ آزادی ترقی، خود انحصاری اور ایک مضبوط مستقبل کے عزم کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ دنیا کی بڑی معیشتوں میں شمار ہونے کی جانب بڑھتے ہوئے بھارت نے ٹیکنالوجی، خلائی تحقیق، ڈیجیٹل معیشت اور صنعت میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ لیکن وہاں بھی عام شہری کی امیدیں آخرکار روزگار، تعلیم، معاشی مواقع، امن اور بہتر معیارِ زندگی سے وابستہ ہیں۔
یوں دیکھا جائے تو دونوں ملکوں کے عام شہریوں کی بنیادی خواہشات میں حیرت انگیز مماثلت ہے۔ دونوں کے والدین اپنے بچوں کے لیے بہتر مستقبل چاہتے ہیں، دونوں کے نوجوان روزگار اور مواقع چاہتے ہیں، دونوں کے عوام امن اور معاشی خوشحالی چاہتے ہیں۔
اختلاف حکومتوں کے درمیان ہو سکتا ہے، مگر عوام کی بنیادی خواہشات اکثر ایک جیسی ہوتی ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں سب سے بڑا نقصان شاید صرف سیاسی کشیدگی کا نہیں بلکہ عوامی رابطوں کے کم ہوتے مواقع کا ہے۔ سرحدوں کے درمیان فاصلے اپنی جگہ، لیکن دلوں اور معاشروں کے درمیان فاصلے کم کیے جا سکتے ہیں۔
اس کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک کم از کم عوام سے عوام کے رابطے کو سیاسی اختلافات سے الگ رکھنے کی کوشش کریں۔
طلبہ کے تبادلے، مشترکہ علمی و ادبی پروگرام، صحافیوں کے وفود، فنکاروں اور ادیبوں کے ثقافتی تبادلے، کھیلوں کے مقابلے، کاروباری کانفرنسیں اور مشترکہ تحقیقی منصوبے اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ خصوصاً نوجوانوں کو ایک دوسرے کے معاشروں کو براہِ راست سمجھنے کے مواقع ملنے چاہئیں۔ جس نوجوان نے سرحد کے دوسری جانب اپنے ہم عمر سے بات کی ہو، اس کے لیے دوسرا ملک محض ایک سیاسی نقشہ یا خبروں کی سرخی نہیں رہتا، بلکہ وہاں رہنے والا ایک انسان بن جاتا ہے جس کے بھی خواب، مسائل اور جذبات ہیں۔ یہی عوامی رابطہ مستقبل میں نفرت کے بجائے فہم و احترام کی بنیاد بن سکتا ہے۔
ویزا پالیسی میں آسانی، امن کی طرف ایک چھوٹا مگر اہم قدم: دونوں ممالک کے درمیان ویزا نظام کو مکمل طور پر معمول پر لانا شاید فوری طور پر ممکن نہ ہو، لیکن مخصوص شعبوں کے لیے آسانیاں پیدا کی جا سکتی ہیں۔ بزرگ شہری جو اپنے آبائی شہروں اور خاندانوں سے ملنا چاہتے ہیں، مذہبی زائرین، طلبہ، محققین، فنکار، صحافی اور حقیقی کاروباری وفود کے لیے محدود مگر موثر ویزا سہولتیں متعارف کرائی جا سکتی ہیں۔ خاص طور پر تقسیم کے دوران بچھڑ جانے والے خاندانوں اور سرحد کے دونوں جانب موجود مذہبی و ثقافتی ورثے سے وابستہ لوگوں کے لیے انسانی بنیادوں پر آسانی پیدا کی جاسکتی ہے۔
پاکستان اور بھارت ایک دوسرے کے قریب واقع دو بڑی منڈیاں ہیں۔ دونوں کے درمیان تجارت کے بڑھنے سے نہ صرف کاروباری سرگرمیاں بڑھ سکتی ہیں بلکہ دونوں طرف روزگار کے مواقع بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ ابتدائی مرحلے میں ضروری اشیا، ادویات، زرعی مصنوعات، ٹیکنالوجی اور دیگر منتخب شعبوں میں تجارت کے لیے محفوظ اور شفاف راستے پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ جس خطے میں کاروبار مشترک ہو، وہاں جنگ کی قیمت بھی زیادہ محسوس ہوتی ہے اور امن کی قدر بھی۔ تجارت سیاسی اختلافات کا متبادل نہیں، لیکن یہ اختلافات کے باوجود رابطے کا ایک عملی پل ضرور بن سکتی ہے۔ جنوبی ایشیا کو صرف سیاسی کشیدگی کا خطرہ نہیں۔ موسمیاتی تبدیلی، پانی کی کمی، سیلاب، گرمی کی شدید لہریں، فضائی آلودگی اور قدرتی آفات دونوں ممالک کے مشترکہ مسائل۔ یہ وہ میدان ہے جہاں سیاست سے بالاتر ہو کر تعاون کی گنجائش موجود ہے۔ دونوں ممالک سیلاب کی پیشگی اطلاع، موسمیاتی تحقیق، فضائی آلودگی کے ڈیٹا، آفات سے نمٹنے کی تربیت اور ماحولیاتی تحقیق کے شعبوں میں تعاون کر سکتے ہیں۔ دشمن مشترکہ دریا، ہوا اور موسم کو تقسیم نہیں کر سکتے؛ اس لیے مشترکہ خطرات کا مقابلہ بھی مشترکہ دانش سے ہونا چاہیے۔ دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان امن کے لیے سب سے ضروری چیز یہ ہے کہ بحران کے وقت رابطے کے دروازے بند نہ ہوں۔ فوجی قیادت کے درمیان موجود ہاٹ لائن اور سفارتی رابطوں کو فعال اور موثر رکھا جائے۔ سرحدی واقعات کی فوری وضاحت کے لیے قابلِ اعتماد رابطہ نظام بنایا جائے۔ کسی حادثے یا غلط فہمی کو بڑے بحران میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے دونوں جانب پیشگی اطلاع اور اعتماد سازی کے اقدامات جاری رہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ میڈیا اور سیاسی قیادت کو بھی یہ احساس کرنا ہوگا کہ قومی مفاد اور قومی جذبات کو برقرار رکھتے ہوئے اشتعال انگیزی سے گریز کیا جا سکتا ہے۔
امن کا مطلب اختلافات کا خاتمہ نہیں، امن کا مطلب یہ ہے کہ اختلافات جنگ میں تبدیل نہ ہوں، کرکٹ پاکستان اور بھارت کے درمیان صرف ایک کھیل نہیں، ایک جذباتی پل بھی بن سکتی ہے۔ اسی طرح موسیقی، فلم، ادب، شاعری اور فنونِ لطیفہ دونوں معاشروں کے درمیان ایک ایسی زبان پیدا کر سکتے ہیں جسے ترجمے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اگر سیاسی حالات اجازت دیں تو کھیلوں کے مقابلے، ادبی میلوں، فلمی و ثقافتی پروگراموں اور فنکاروں کے تبادلوں کو دوبارہ فروغ دیا جا سکتا ہے۔ ممکن ہے کہ ایک کرکٹ میچ یا ایک مشاعرے سے مسئلہ حل نہ ہو، لیکن ایسے مواقع لوگوں کو یہ یاد ضرور دلاتے ہیں کہ سرحد کے دونوں جانب انسان بستے ہیں۔
پاکستان اور بھارت دونوں کے لیے ایٹمی طاقت ہونا صرف فخر کا معاملہ نہیں، ایک بہت بڑی ذمہ داری بھی ہے۔ دونوں ممالک کو یہ سمجھنا ہوگا کہ طاقت کا بہترین استعمال جنگ جیتنے میں نہیں بلکہ جنگ کو روکنے میں ہے۔دفاعی صلاحیت ضروری ہو سکتی ہے، مگر ایک ریاست کی مکمل طاقت اس وقت سامنے آتی ہے جب وہ اپنے عوام کو محفوظ، تعلیم یافتہ، خوشحال اور پُرامید بنائے۔
جنوبی ایشیا کے کروڑوں عوام اس خطے کو مستقل کشیدگی، خوف اور بحران کی سرخیوں کے بجائے تعلیم، تجارت، ٹیکنالوجی، سیاحت اور ترقی کی خبروں میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں شاید فوری طور پر تمام بڑے سیاسی تنازعات حل نہ ہو سکیں۔ تاریخ کا بوجھ بھی اپنی جگہ موجود ہے اور حساس معاملات بھی۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر دروازہ بند رکھا جائے۔ اگر بڑے سیاسی مسائل کے حل میں وقت لگتا ہے تو چھوٹے انسانی راستے تو کھولے جا سکتے ہیں۔ طلبہ ایک دوسرے سے ملیں، خاندان اپنے بچھڑے رشتوں سے ملیں، مریض علاج کے لیے سفر کر سکیں، زائرین مذہبی مقامات تک پہنچ سکیں، فنکار اور ادیب ایک دوسرے کے معاشروں کو سمجھیں، تاجر قانونی طریقے سے تجارت کریں اور صحافی ایک دوسرے کے ملک کو براہِ راست دیکھ سکیں۔
یہ چھوٹے قدم بظاہر معمولی لگ سکتے ہیں، لیکن امن کی عمارت اکثر ایسے ہی چھوٹے پلوں سے تعمیر ہوتی ہے۔ یومِ آزادی ہمیں صرف یہ یاد نہیں دلاتا کہ ہم نے آزادی کیسے حاصل کی، یہ ہمیں یہ سوچنے کا موقع بھی دیتا ہے کہ ہم آنے والی نسلوں کے لیے کیسا خطہ چھوڑنا چاہتے ہیں۔ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں، مگر ان کے عوام کی سب سے بڑی خواہش ایٹمی طاقت سے کہیں زیادہ سادہ ہے: امن، عزت، روزگار، تعلیم، صحت اور اپنے بچوں کے لیے ایک محفوظ مستقبل۔
وقت آ گیا ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کو صرف حریف کی نظر سے دیکھنے کے بجائے ایک ایسے پڑوسی کے طور پر بھی دیکھیں جس کے ساتھ اختلافات کے باوجود بقائے باہمی ممکن ہے۔ اگر سرحدیں اپنی جگہ رہیں اور دلوں کے دروازے کھل جائیں، اگر حکومتوں کے اختلافات اپنی جگہ رہیں مگر عوام کے رابطے بحال ہو جائیں، تو شاید جنوبی ایشیا کی تاریخ کا اگلا باب دشمنی نہیں بلکہ دانش مندی، مقابلہ نہیں بلکہ تعاون، اور خوف نہیں بلکہ امید لکھے۔ کیونکہ آخرکار امن کسی ایک ملک کی فتح نہیں ہوتا، امن پورے خطے کے عوام کی مشترکہ جیت ہوتی ہے۔

جواب دیں

Back to top button