الحمدللہ رب العالمین
الحمدللہ رب العالمین
شہر خواب
صفدر علی حیدری۔۔۔
بس ایک ہی ذات ہے جسے یکتائی زیبا ہے۔ یکتائی اس کا محض ایک وصف نہیں، اس کی ذات کی حقیقت ہے۔ وہ اپنی ذات میں یکتا ہے، صفات میں یکتا، قدرت میں یکتا، بے نیازی میں یکتا اور حمد کے استحقاق میں بھی یکتا۔ وہ تھا جب کچھ نہ تھا، وہ ہے جب سب کچھ اسی کے سہارے قائم ہے، اور وہ رہے گا جب ہر فنا ہونے والی چیز فنا ہو جائے گی۔ نہ اس کا کوئی آغاز ہے، نہ اختتام۔ وہ قدیم ہے، باقی سب حادث؛ وہ بے نیاز ہے، باقی سب محتاج؛ وہ خالق ہے، باقی سب مخلوق۔ مگر اللہ کی یکتائی کا ایک نہایت لطیف پہلو یہ ہے کہ مطلق حمد کا مستحق بھی صرف وہی ہے۔
ہم کسی انسان کی تعریف کیوں کرتے ہیں؟ حسن کے لیے، علم کے لیے، شجاعت، سخاوت، محبت یا رحم کے لیے۔ مگر ذرا گہرائی میں جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ مخلوق میں جو خوبی ہمیں نظر آتی ہے، وہ اس کی اپنی تخلیق نہیں۔حسن اسے ملا ہے، اس نے پیدا نہیں کیا۔ علم اسے عطا ہوا ہے، اس نے بنایا نہیں۔ عقل اسے دی گئی ہے، اس نے وجود نہیں دیا۔ دولت اس کے پاس آئی ہے، اس نے رزق پیدا نہیں کیا۔ طاقت اسے ملی ہے، وہ طاقت کا سرچشمہ نہیں۔ یعنی مخلوق میں ہر کمال کے پیچھے ایک عطا ہے، اور ہر عطا کے پیچھے ایک عطا کرنے والا۔
یہیں سے حمد میں اللہ کی یکتائی کا راز کھلتا ہے۔ مخلوق میں خوبی ہو سکتی ہے، مگر خوبی کی خالق نہیں۔ مخلوق محسن ہو سکتی ہے، مگر احسان کے وسائل کی مالکِ مطلق نہیں۔ مخلوق عالم ہو سکتی ہے، مگر علم کی اصل نہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ مخلوق کی تعریف نہ کی جائے۔ والدین کی محبت، استاد کا علم، کسی کی شجاعت، سخاوت اور وفاداری یقیناً قابلِ قدر ہیں۔ لیکن مخلوق کے کمال کو مستقل سمجھ لینا حقیقت کو بھلا دینا ہے۔ مخلوق کا کمال عطا ہے، اللہ کا کمال ذاتی ہے۔ یہی فرق حمد اور عام تعریف کے درمیان ایک گہری لکیر کھینچ دیتا ہے۔
تعریف کسی محدود خوبی پر ہو سکتی ہے، مگر حمد اس ذات کے لیے ہے جو ہر کمال کا سرچشمہ ہے۔ مخلوق کا حسن ڈھل سکتا ہے، علم کم ہو سکتا ہے، طاقت ختم ہو سکتی ہے، دولت چھن سکتی ہے، مگر اللہ کے کمال میں نہ زوال ہے، نہ کمی، نہ فنا۔
انسان کی تعریف کرتے ہوئے ہم ایک عطا کردہ خوبی دیکھتے ہیں، اللہ کی حمد کرتے ہوئے ہم اس ذات کو پہچانتے ہیں جس سے ہر خوبی کا امکان پیدا ہوا۔ اسی لیے الحمدللہ محض شکر کا جملہ نہیں، یہ انسان کے پورے تصورِ زندگی کو درست کرتا ہے۔ بندہ جب کہتا ہے الحمدللہ تو وہ صرف نعمت کو نہیں دیکھتا، نعمت کے پیچھے موجود منعم کو بھی پہچانتا ہے۔ وہ مان لیتا ہے کہ میرے پاس جو کچھ ہے، عطا ہے، میری زندگی، میری عقل، میری صحت، میری صلاحیت، میرے تعلقات، میرے مواقع، سب کسی کے دئیے ہوئے ہیں۔
حمد کے اس راز کو سمجھنے کے لیے ان اسباب پر غور کیجئے جن کی وجہ سے ہم کسی کو قابلِ تعریف سمجھتے ہیں۔ پہلا سبب: ذاتی کمال
ہم خوب صورت، عالم، بہادر یا سخی انسان کی تعریف کرتے ہیں۔ مگر انسان کا ہر کمال محدود اور عطا کردہ ہے۔ وہ اپنے وجود کا بھی خالق نہیں۔ اللہ کا کمال کسی دوسرے کی عطا نہیں۔ وہ کسی کمال کو حاصل کرکے کامل نہیں ہوا؛ وہ خود کمال ہے۔ اسی لیے اس کی حمد کسی عطا کردہ صفت کی حمد نہیں، بلکہ اس ذات کی حمد ہے جو ہر کمال کی اصل ہے۔
دوسرا سبب: احسان
ہم اپنے محسن کے شکر گزار ہوتے ہیں۔ ماں نے پرورش کی، باپ نے سہارا دیا، استاد نے علم دیا، دوست نے مشکل وقت میں ہاتھ تھاما۔ لیکن سوال یہ ہے: ماں کو محبت کس نے دی؟ باپ کو ذمہ داری کس نے عطا کی؟ استاد کو علم کس نے بخشا؟ محسن کو وسائل کس نے دئیے؟ رزق کس نے پیدا کیا؟ یہاں انسان کا شکریہ اپنی جگہ قائم رہتا ہے، مگر نگاہ وسیلے سے بڑھ کر وسیلہ عطا کرنے والے تک پہنچ جاتی ہے۔
تیسرا سبب: رحمت اور مستقبل کی امید
انسان اس شخص کی بھی قدر کرتا ہے جس سے اسے خیر کی امید ہو۔ اللہ کی حمد میں یہ پہلو اپنی بلند ترین صورت میں موجود ہے: الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اس کی رحمت صرف گزرے ہوئے احسان کی یاد نہیں، آنے والے کل کی امید بھی ہے۔ بندہ گناہ کرتا ہے مگر توبہ کا دروازہ کھلا رہتا ہے۔ گرتا ہے مگر واپسی ممکن رہتی ہے۔ اندھیرے میں ہوتا ہے مگر رحمت کی روشنی باقی رہتی ہے۔یوں حمد میں ماضی کا شکر، حال کا اعتراف اور مستقبل کی امید ایک ساتھ جمع ہو جاتے ہیں۔
چوتھا سبب: عظمت اور جواب دہی
پھر قرآن کہتا ہے:مَالِکِ یوْمِ الدِّین، وہ روزِ جزا کا مالک ہے۔ یہاں حمد میں خوف بھی شامل ہو جاتا ہے؛ ایسا خوف جو انسان کو توڑتا نہیں، سنوارتا ہے۔ یہ احساس کہ ایک دن اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونا ہے، انسان کو تنہائی میں بھی خیانت سے روکتا ہے، طاقت ملنے پر ظلم سے بچاتا ہے اور کمزور کا حق مارتے ہوئے انجام یاد دلاتا ہے۔ یوں سورۃ فاتحہ کے یہ الفاظ حمد کی ایک مکمل کائنات ہمارے سامنے رکھ دیتے ہیں: الحمدللہ، وہ قابلِ حمد ہے۔ رب العالمین، وہ پرورش کرنے والا ہے۔ الرحمٰن الرحیم، اس کی رحمت امید کا دروازہ ہے۔ مالک یوم الدین، وہ آخری اختیار اور فیصلے کا مالک ہے۔ اب بات صرف ایک نعمت کی نہیں رہتی۔ اللہ اس لیے قابلِ حمد ہے کہ وہ خود کامل ہے، نعمت دینے والا ہے، رحمت فرمانے والا ہے اور آخری فیصلے کا مالک ہے۔ مخلوق کی طرف دیکھیں تو حسن ملتا ہے، خالق کی طرف دیکھیں تو حسن کا سرچشمہ ملتا ہے۔ مخلوق میں علم ملتا ہے؛ اللہ کی طرف دیکھیں تو علم کی اصل ملتی ہے۔ مخلوق میں سخاوت ملتی ہے، اللہ کی طرف دیکھیں تو عطا کا سمندر ملتا ہے۔ مخلوق میں رحم ملتا ہے، اللہ کی طرف دیکھیں تو رحمت کی وسعت ملتی ہے۔ ایک خوب صورت منظر ہمیں صرف منظر پر نہ روک دے، وہ مصور تک پہنچائے۔ ایک عظیم انسان ہمیں صرف اس کی عظمت تک محدود نہ کرے؛ اس صلاحیت کے عطا کرنے والے تک لے جائے۔ ایک نعمت ہمیں صرف نعمت میں نہ الجھائے، نعمت دینے والے تک پہنچائے۔ یہی حمد کی بصیرت ہے: عطا کو دیکھو، مگر عطا کرنے والے کو نہ بھولو۔ دنیا میں تعریف کے بہت سے مستحق ہو سکتے ہیں، مگر مطلق حمد کا مستحق صرف ایک ہے۔ لوگ اچھے ہو سکتے ہیں، مگر ان کی اچھائی عطا کردہ ہے۔ لوگ محسن ہو سکتے ہیں، مگر ان کے احسان کے وسائل عطا کردہ ہیں۔ لوگ علم والے ہو سکتے ہیں، مگر علم عطا کردہ ہے۔ لوگ طاقتور ہو سکتے ہیں، مگر طاقت عارضی ہے۔ وہ ایک ہے جس کی خوبی کسی اور کی عطا نہیں۔ وہ اصل ہے، باقی سب فیضان ہیں۔ وہ مالک ہے، باقی سب مملوک ہیں۔ وہ خالق ہے، باقی سب مخلوق ہیں۔ وہ بے نیاز ہے، باقی سب محتاج ہیں۔ اور اسی لیے وہ ذات، صفات، قدرت، وجود اور حمد کے استحقاق میں بھی یکتا ہے۔
الحمدللہ رب العالمین۔




