’’ ٹک ٹاک۔۔۔ اقتدار کی گھڑی بج چکی

’’ ٹک ٹاک۔۔۔ اقتدار کی گھڑی بج چکی!‘‘
شاہد ندیم احمد
آزاد کشمیر کے انتخابات نے ایک بار پھر قومی سیاست میں نئی ہلچل پیدا کر دی ہے، آزاد کشمیر کے دو مر حلوں کے انتخابی نتائج کے بعد سیاسی جماعتوں کے درمیان الزام تراشی، کامیابی کے دعوے اور شکست کے اسباب پر جاری بحث نے سیاسی ماحول کو مزید گرما دیا ہے، اس طرح کے حالات میں چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا کہ ہمارا ن لیگ کے دوستوں کے لیے صرف اتنا پیغام ہے کہ آپ کی الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے، کیا آپ کو آواز سنائی دے رہی ہے؟ ٹک ٹاک، ٹک ٹاک ، صرف ایک سیاسی جملہ نہیں، بلکہ مستقبل کی سیاست کے حوالے سے ایک واضح پیغام بھی سمجھا جا رہا ہے کہ اقتدار کی گھڑی بج چکی ہے؟۔
اگر دیکھا جائے تو آزاد کشمیر کے انتخابات میں دو مرحلوں کے نتائج آنے کے بعد پیپلز پارٹی جارحانہ موڈ میں دکھائی دے رہی ہے، بلاول بھٹو زرداری نے اپنے ویڈیو پیغام میں آزاد کشمیر کے عوام کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے مسلم لیگ ن کی مبینہ دھونس، دھاندلی اور تشدد کا بہادری سے مقابلہ کیا ہے ، انہوں نے الزام عائد کیا کہ پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے جانوں کی قربانیاں دیں، ان کے ایک رکن قومی اسمبلی زخمی ہوئے اور آزاد کشمیر کے صدر پر بھی حملہ کیا گیا، لیکن اس کے باوجود کارکن اور ووٹر اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹے، یہ عوامی مزاحمت اس بات کا ثبوت ہے کہ پیپلز پارٹی عوامی حقوق کی سیاست کرتی ہے اور اس بیانیہ پر کشمیر کے عوام نے اعتماد کا اظہار کیا ہے، بلاول بھٹو نے اپنے بیا نیہ میں ٹک ٹاک کا استعارہ استعمال کر کے مسلم لیگ ن کو پیغام دینے کی کوشش ہے کہ ان کے اقتدار کا وقت محدود ہوتا جا رہا ہے اور سیاسی حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں، پاکستانی سیاست میں اس قسم کی علامتی زبان ہمیشہ سے عوامی توجہ حاصل کرتی رہی ہے، کیونکہ ایسے بیانات صرف مخالفین کو ہدف نہیں بناتے، بلکہ اپنے کارکنوں کے حوصلے بھی بلند کرتے ہیں۔
دوسری جانب مسلم لیگ ن کی قیادت آزاد کشمیر کے انتخابی نتائج کو اپنی کامیابی قرار دے رہی ہے اور پیپلز پارٹی کے دھاندلی کے الزامات کو سیاسی شکست کا ردعمل قرار دے رہی ہے، اس پر ن لیگ کا موقف ہے کہ عوام نے ان کی کارکردگی پر اعتماد کیا ہے، جبکہ مخالفین بغیر ٹھوس شواہد کے انتخابی عمل کو متنازع بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، یہ سب کچھ پہلی بار نہیں ہورہا ہے، تقریباً ہر انتخاب کے بعد کوئی نہ کوئی جماعت نتائج پر اعتراض کرتی رہی ہے، یہ صورتحال عوام کے اعتماد کو متاثر کرتی ہے اور جمہوری عمل کو کمزور بناتی ہے۔ اگر سیاسی جماعتیں ہر انتخاب کے بعد ایک دوسرے کے مینڈیٹ کو تسلیم کرنے کے بجائے محاذ آرائی کا راستہ اختیار کریں تو اس کا نقصان صرف سیاسی جماعتوں کو نہیں، بلکہ پورے جمہوری نظام کو ہوتا ہے، اس کا اشارہ محسن نقوی کے بیانیہ میں صاف دکھائی دے رہا ہے کہ یہ نظام فعل ہو چکا ہے، جبکہ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ معاملات خراب ہیں تو انہیں ٹھیک کر نا پڑے گا۔
اس تناظر میں ہی بلاول بھٹو اقتدار کی گھڑی کی ٹک ٹاک سنا رہے ہیں اور خود کو ایک مضبوط متبادل کے طور پر پیش کر رہے ہیں، سندھ میں اپنی حکومت، بلوچستان اور آزاد کشمیر میں سیاسی سرگرمیوں اور وفاقی سیاست میں بڑھتے کردار کے ذریعے اپنی قومی حیثیت کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، دوسری جانب مسلم لیگ ن بھی پنجاب اور مرکز میں اپنی سیاسی گرفت برقرار رکھنے کے لیے سرگرم ہے یہ ہی وجہ ہے کہ آنے والے مہینوں میں دونوں جماعتوں کے درمیان سیاسی بیانیے کی جنگ مزید شدت اختیار کر سکتی ہے، تاہم عوام کی ترجیحات اب صرف جذباتی تقاریر یا سخت بیانات تک محدود نہیں ر ہی ہیں، مہنگائی، بے روزگاری، توانائی کے بحران، تعلیم، صحت اور امن و امان جیسے مسائل آج بھی عوام کی اولین ترجیح ہیں، سیاسی جماعتوں کی اصل کامیابی اسی وقت ممکن ہوگی کہ جب عوامی مسائل کے قابلِ عمل حل پیش کریں گی، یہ محض ’’ ٹک ٹاک‘‘ جیسے سیاسی جملے وقتی طور پر توجہ حاصل کر سکتے ہیں، لیکن عوام کے دیرپا اعتماد کے لیے کارکردگی، شفافیت اور بہتر طرزِ حکمرانی ناگزیر ہے۔
یہ کتنے تعجب کی بات ہے کہ سیاسی قیادت کا عوام کی نبض پر ہاتھ نہیںہے ،اس کے باوجود عوام کے درد کی بات کی جارہی ہے ، آزاد کشمیر سیاسی انتشار کا شکار ہے ، سیاسی قیادت سیٹوں پر دست گریبان ہے اور ایک دوسرے کے خلاف بیان بازیاں کر رہے ہیں، بلاول بھٹو زرداری کا ’’ ٹک ٹاک‘‘ والا پیغام کچھ دیر تک سیاسی بحث کا حصہ ضرور رہے گا، لیکن اصل امتحان آنے والے انتخابات میں عوام کی عدالت میں ہی ہوگا، اگر فیصلہ سازوں نے عوام کو آزادانہ فیصلہ کر نے کا موقع دیا تو فیصلہ نعروں سے نہیں، بلکہ عوام کے ووٹ، اعتماد اور سیاسی جماعتوں کی عملی کارکردگی پر ہی ہوگا، یہ ہی جمہوریت کا حسن ہے اور اس میں ہی پاکستان کے سیاسی استحکام کا مستقبل پوشیدہ ہے۔





