پبلک سیفٹی، ایمرجنسی رسپانس اور بیسک لائف سپورٹ

پبلک سیفٹی، ایمرجنسی رسپانس اور بیسک لائف سپورٹ
تحریر:یاسر دانیال صابری
دنیا بھر میں ترقی یافتہ اقوام کی پہچان صرف بلند و بالا عمارتیں، جدید سڑکیں یا مضبوط معیشت نہیں ہوتیں، بلکہ ان کی اصل طاقت ایک ایسا نظام ہوتا ہے جو ہر شہری کی جان و مال کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پبلک سیفٹی، ایمرجنسی رسپانس اور بیسک لائف سپورٹ (Basic Life Support)آج ہر مہذب معاشرے کی بنیادی ضرورت بن چکے ہیں۔
پاکستان میں بھی حالیہ برسوں میں آگ لگنے کے واقعات، ٹریفک حادثات، زلزلے، سیلاب، عمارتوں کے انہدام اور دیگر ہنگامی حالات نے اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ صرف سرکاری اداروں پر انحصار کافی نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر شہری کو ابتدائی طبی امداد، آگ بجھانے کے آلات کے درست استعمال اور ہنگامی حالات میں فوری ردِعمل کی عملی تربیت دی جائے۔
اسی سوچ کے تحت منڈی بہائوالدین میں سول ڈیفنس اور پروبیشن ڈیپارٹمنٹ کے اشتراک سے پبلک سیفٹی، ایمرجنسی رسپانس اور بیسک لائف سپورٹ کے موضوع پر تربیتی سیشن کا انعقاد ایک خوش آئند اور قابلِ تحسین اقدام ہے۔ ایسے پروگرام صرف معلومات فراہم نہیں کرتے، بلکہ شہریوں میں ذمہ داری، اعتماد اور خدمتِ خلق کا جذبہ بھی پیدا کرتے ہیں۔
اسی طرح گلگت بلتستان کے متعلقہ ادارے میں پبلک سیفٹی، ایمرجنسی رسپانس اور بیسک لائف سپورٹ پروگرام کا انعقاد کرنے اور اس پر عمل کروانے کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے، وزیراعلی گلگت بلتستان ایسے پروگرام کو تین یا چار مہینے میں اچھی ٹیم کے ذریعہ سے کروائیں۔ مختلف تربیت شدہ افراد ڈیٹیل کریں اور ایک ادارہ کا قیام کریں، ایمرجنسی رسپانس فورس بنائیں تاکہ وہ سیلاب زد گان دیگر مصیبتوں میں عوام کی مدد کر سکے۔ ایک انسان کو بچانا پوری انسانیت کو بچانے کی مترادف ہے۔ ایسے پروگرام ملک بھر میں ہونے چاہییئیں یہ ترقی معاشرے کا بنیادی سہولیات اور ضرورت ہیں۔ اس سے افراد مختلف مہارت سیکھ سکیں گے ۔
بیسک لائف سپورٹ ایسی بنیادی مہارتوں کا مجموعہ ہے جن کے ذریعے کسی حادثے یا اچانک طبی ایمرجنسی کی صورت میں مریض کی جان بچانے کے لیے ابتدائی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ دل کا دورہ، سانس رک جانا، شدید خون بہنا یا بے ہوشی جیسی صورتحال میں ابتدائی چند منٹ انتہائی اہم ہوتے ہیں۔ اگر اس دوران موجود افراد درست طریقے سے مدد فراہم کریں تو قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔ کسی اولاد کو یتیم ہونے سے بچایا جا سکتا ہے ۔
اسی طرح ایمرجنسی رسپانس کا مطلب صرف امدادی اداروں کو اطلاع دینا نہیں، بلکہ خطرے کی بروقت نشاندہی، متاثرہ افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کرنا، آگ بجھانے والے آلات کا درست استعمال، ہجوم کو منظم رکھنا اور امدادی ٹیموں کے پہنچنے تک موثر ابتدائی اقدامات کرنا بھی ہے۔ یہ موجودہ حالات کے مطابق بہت اہمیت کا حامل ہے،
پبلک سیفٹی کا تصور ایک فرد تک محدود نہیں، بلکہ پورے معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ جب عوام، تعلیمی ادارے، سرکاری و نجی تنظیمیں اور رضاکار ایک دوسرے کے ساتھ مل کر حفاظتی اصولوں پر عمل کرتے ہیں تو ایک محفوظ، ذمہ دار اور باشعور معاشرہ وجود میں آتا ہے۔ جس سے مصیبت زد گان کی مدد اور حکومت کی بھی مدد شامل ہوتی ہے، جس سے عوام اور حکومت میں محبت بڑھ جاتی ہے اور معاشرتی استحکام قائم رہتا ہے ۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اس نوعیت کی تربیت صرف ضلعی سطح تک محدود نہ رہے بلکہ اسکولوں، کالجوں، جامعات، مساجد، بازاروں، صنعتوں اور سرکاری دفاتر میں بھی باقاعدگی سے منعقد کی جائے۔ یہ ہر پاکستان کے ہر صوبے کے لئے اہم ہیں۔ اگر نوجوان نسل کو ابتدائی طبی امداد، آگ سے بچائو اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تربیت دی جائے تو مستقبل میں کسی بھی بڑے سانحے کے اثرات کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے، جس سے افراد مصیبت زدہ کی حوصلہ افزائی کے ساتھ مصیبت سے بچایا جا سکتا ہے۔
آج کا دور صرف تعلیم حاصل کرنے کا نہیں بلکہ زندگی بچانے کی مہارتیں سیکھنے کا بھی ہے۔ ایک تربیت یافتہ شہری صرف اپنی جان ہی نہیں بلکہ دوسروں کی زندگی بھی بچا سکتا ہے۔ یہی ایک مہذب، باخبر اور محفوظ معاشرے کی پہچان ہے۔
اگر پاکستان کے ہر ضلع، تحصیل اور یونین کونسل میں باقاعدگی سے پبلک سیفٹی، ایمرجنسی رسپانس اور بیسک لائف سپورٹ کے تربیتی پروگرام منعقد کیے جائیں، رضاکاروں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے اور عوام میں شعور بیدار کیا جائے تو حادثات اور قدرتی آفات کے دوران جانی و مالی نقصانات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔
بلاشبہ ایسے تربیتی پروگرام وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ یہ صرف ایک ورکشاپ نہیں بلکہ محفوظ مستقبل، ذمہ دار شہریوں اور مضبوط قوم کی تعمیر کی جانب ایک موثر قدم ہیں۔ ایک ایسا پاکستان، جہاں ہر شہری ہنگامی حالات میں گھبرانے کے بجائے درست فیصلہ کرنا جانتا ہو، یقیناً زیادہ محفوظ، مضبوط اور ترقی یافتہ پاکستان ہوگا۔
آج کے دور میں پبلک سیفٹی، ایمرجنسی رسپانس اور بیسک لائف سپورٹ کی تربیت کسی عیش و عشرت کا حصہ نہیں بلکہ ایک ناگزیر قومی ضرورت ہے۔ ایک تربیت یافتہ شہری حادثے، آتشزدگی، قدرتی آفات یا طبی ایمرجنسی کی صورت میں گھبراہٹ کا شکار ہونے کے بجائے بروقت اور درست اقدامات کر سکتا ہے، جس سے قیمتی انسانی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔ اگر ہر اسکول، کالج، یونیورسٹی، سرکاری و نجی ادارے، صنعتی مراکز اور عوامی مقامات پر اس نوعیت کی عملی تربیت کو باقاعدہ نصاب اور سالانہ پروگرام کا حصہ بنا دیا جائے تو نہ صرف ہنگامی حالات میں جانی و مالی نقصانات میں نمایاں کمی آئے گی بلکہ معاشرے میں ذمہ داری، نظم و ضبط، خدمتِ انسانیت اور اجتماعی شعور کو بھی فروغ ملے گا۔ ایک محفوظ، باخبر اور تربیت یافتہ قوم ہی کسی بھی بحران کا موثر انداز میں مقابلہ کر سکتی ہے، اور یہی ایک ترقی یافتہ، مستحکم اور محفوظ پاکستان کی حقیقی بنیاد ہے۔





